تلاش وارثان
یہ بچہ گذشتہ رات سے جی ٹی روڈ روات جامع مسجد المقبول(بالمقابل پیدل پل) میں ہے۔اپنا نام عمر جبکہ باپ کا نام باسط بتا رہا ہے ، گھر کا پتہ حاجی چوک بتا رہا
شئیر کریں تاکہ بچہ گھر والوں تک پہنچ جائے
برائے رابطہ 03209392653
اس بابا جی کا نام فضل محمد ولد علی حیدر ہے۔
بابا جی کراچی کے علاقے ناتھا خان گوٹھ شاہ فیصل سے 26 جون 2026 سے لاپتہ ہے۔
ستر سال عمر ہے،ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔
بابا جی کے تمام گھر والے دردر ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا۔
کسی گھر کا بزرگ ایسے اچانک گم ہو تو گھر کی رونقیں ختم ہوجاتی ہیں۔
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ بابا جی کے متعلق کوئی بھی اطلاع ہو نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
03162529829
5 july 2026
#waliullahmaroof
ابھی ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو پریس کانفرنس کی کوشش کرتے دیکھا۔
ہمارے رپورٹر بھائی کافی اجلت اور غصہ میں نظر آئے۔ کچھ تو یہ سوچ کر آئے کہ “باس” وہی ہے جو وہ سمجھتے ہیں۔ کچھ کو پولیس کے رویے سے پرانے سکور سیٹل کرنے تھے۔
کچھ نے ایک یو ٹیوبر کی ادھوری سٹوری کو سچ مان کر نتیجہ خود ہی نکا لیا تھا۔ بحرحال پریس کانفرنس نامکلمل رہی اور ختم کر دی گئی۔
سخت سوال صحافی کا حق ہے لیکن تھوڑا سا صبر کر لیا جاتا تو اس کیس سے جڑی اور بہت سی حقیقتیں کھل جاتیں۔
اس نوجوان کا نام ممتاز ہے اور والد کا نام عبد الستار ہے۔ گھر میں پیار سے ببلو بولتے تھے۔
سال 2011 کی بات ممتاز سات آٹھ سال کی عمر میں گھر سے دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکلا تھا۔ دوست آگے نکل گئے ممتاز پیچھے رہ گیا۔ جاتے جاتے ممتاز بھٹک گیا۔ رات ہوئی کسی نے لاوارث پاکر اپنے گھر میں رکھا اور ایک ہفتے تک اپنے پاس رکھا۔ پھر اس نے ممتاز کو پولیس کے حوالے کیا پولیس نے شیلٹر میں جمع کردیا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر سکھر میں تھا۔ گھر کے آس پاس سورج مکھی کی فصل بہت زیادہ ہوتی تھی۔ سکھر کے شیلٹر سے ممتاز کو کراچی بھیج دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ممتاز کی آنکھیں گھر والوں کے ایک جھلک دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں۔ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہےباور وہیں سوتا ہے۔نا عید منانا ہے نا کسی شادی بیاہ پر کوئی بلاتا ہے۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
ممتاز کو اپنی والدہ کا نام آمنہ یاد ہے،بھائیوں کے نام الطاف اور زین یاد ہیں۔ اور بہن جو سب سے بڑی تھی کا نام مریم تھا۔ گھر میں سندھی زبان بولتے تھے۔
والد صاحب آٹے کی مل پر بھی کبھی کبھی لیجاتا تھا۔ یہ یاد نہیں ہے کہ مل میں کام کرتا تھا یا صرف گھمانے لیجاتا تھا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ اتنا یاد ہے کہ کسی موقع پر سب محلے والے گھروں سے کھانا لیکر مسجد آتے تھے نماز پڑھ کر سب ملکر کھانا کھاتے تھے۔ مسجد کا نام قائد ذہن میں آرہا ہے شاید کوئی اور نام ہو۔ (قائد سے ملتا جلتا کوئی نام ہو تو وہاں ضرور کوئی لنک مل سکتی ہے)۔ گھر کے پاس ایک جگہ گندا پانی جمع تھا جسمیں لوگ کچرا پھینکتے تھے۔
ممتاز اپنوں کو یاد کرکے بہت دکھی ہوتا ہے اور تنہائی میں روکر اپنا غم ہلکان کرتا ہے۔
ممتاز کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر شئیر کریں۔آپکا ایک شئیر ایک انسان کی ویران دنیا سنوار سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof #sindh #PakistanZindabad #MissingChild #sukkur #Sindhi
While Imran Khan rots in Pakistani jail, Indian legend Kapil Dev gets emotional: Imran Ke Haalat Ko Dekh Kar Dukh Hota hai. No way for Pakistan to treat their former Prime Minister.
Watch this. Full podcast drops Sunday 7pm on @sports_tak@therealkapildev@ImranKhanPTI
#ImranKhan
اس بچے کا نام ابوبکر ہے اور والد کا نام بابر ہے
ابوبکر کی عمر 9 سال ہے اور ذہنی طور پر مکمل ٹھیک نہیں ہے۔
آجبسے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل ابوبکر کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں اپنے گھر کے باہر سے لاپتہ ہوا تھا۔آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کے والدین اپنی زندگی جینا چھوڑ چکے ہیں،صبح شام اپنے لخت جگر کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کوئی سراغ نہیں ملا رہا۔
تمام دوست صرف اللہ کی رضا کے لئے دکھی ماں باپ کی زندگی بحال کرنے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر ابوبکر کی تلاش میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
+923162529829
4 july 2026
#waliullahmaroof
Croatia were given a grand total of 18 mins to score a goal yesterday and today the refree didn't even let Cape Verde take the last throw so close to goal
DISGRACEFUL
جب تیل کی قیمت بڑھا رہے تھے تو درباری راتب خور کہتے تھے یہ جنگ کی وجہ سے عارضی اضافہ ہے اب جنگ رکے بھی کافی وقت ہو گیا مگر پاکستان میں قیمت کم کرنے سے اس حکومت نے انکار کر دیا کیونکہ بجٹ کے خسارے پورے کرنے ہیں
شہباز شریف نے قسم کھائی ہے کہ عام آدمی کو کسی قسم کا رلیف نہی دینا ہے
وہ حکومت جو صرف ایک روز( دو اپریل 2026ء) کو ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے سے زائد اور پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے سے زائد اضافہ کر چکی ہے اس نے مسلسل دوسرے ہفتے عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمت کا عوام کو جو "ریلیف" دیا ہے وہ 2 روپے سے بھی کم ہے۔۔۔
غیرت ہے بڑی چیز جہاں میں؟؟
یہ کوٹ ادو کے عابد حسین بھٹی ہیں، ایک غریب مرغی فروش، مگر حوصلے اور غیرت میں کسی پہاڑ سے کم نہیں۔ وہ اپنے جوان بیٹے عمران بھٹی کی مبینہ پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد انصاف کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہر قسم کی پیشکش اور مراعات کو ٹھکرا چکے ہیں۔
ایک طرف پورا نظام ہے، جو اپنے افسران کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، اور دوسری طرف ایک نہتا، غریب مگر باہمت باپ، جو اپنے لختِ جگر کے خون کا سودا کرنے پر آمادہ نہیں۔ وقت گواہ ہے کہ ایسے معرکے صرف طاقت سے نہیں، بلکہ سچ، صبر اور استقامت سے جیتے جاتے ہیں۔
علاقے کے بعض بااثر افراد کی جانب سے دیت کی مد میں 98 لاکھ 30 ہزار روپے کی پیشکش کی گئی، مگر عابد بھٹی نے اپنے بیٹے کے خون کی قیمت لگانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں دولت نہیں، انصاف چاہیے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ماضی کی طرح دباؤ ڈالنے یا جھوٹے مقدمات کے ذریعے اس خاندان کو جھکانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن اس بار سوشل میڈیا، عوامی شعور اور میڈیا کی طاقت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
چھ ماہ بعد عمران مانی کی قبر کشائی کی گئی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے میت کو کوٹ ادو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فرانزک رپورٹ میں موت کی وجہ گلا دبانا بیان کی گئی ہے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد دوبارہ تدفین کر دی گئی۔
ایک باپ کی یہ جدوجہد صرف اپنے بیٹے کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس مظلوم کے لیے ہے جو انصاف کی امید لیے زندہ ہے۔ غربت نے عابد بھٹی کے قدم نہیں روکے، بلکہ ان کے حوصلے کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
سلام ہے اس باپ کی غیرت، استقامت اور محبت کو، جو اپنے جوان بیٹے کے خون کا سودا کرنے کے بجائے انصاف کی جنگ لڑ رہا ہے۔ دعا ہے کہ سچ سامنے آئے، قانون اپنا راستہ اختیار کرے اور ہر مظلوم کو انصاف نصیب ہو۔
#انصاف_برائے_عمران_مانی #عابد_بھٹی #کوٹ_ادو
تماشا بنا کر رکھ دیا ہے اس ملک کو پورے ملک کو برباد کر دیا ہے ۔ ہر جگہ لوٹ مار ہے ۔
اس خاتون کی دن بارہ بجے ٹکٹ تھی ائیر بلیو کی جب یہ ائیرپورٹ پر پہنچی تو کہا گیا ٹکٹ کینسل ہو گی ہے ۔
اس نے بحث کی تو اگے سے ائیر بلیو والی لڑکی کہتی ہے اب تم نے ویڈیو بنای ہے میری ۔ مجھے تم ائیر بلیو سے اسلام اباد جا کر دیکھاو ۔
لڑکی کی ہمت کو سلام ہے جو دن بارہ بجے سے رات کے اٹھ بجے تک اپنے حق کیلے اواز اٹھاتی رہی ۔۔
یہ رعونت تکبر سرکاری اداروں میں تو پہلے سے ہی تھا اب یہ ادھر بھی اگئی ہے ۔ کیونکہ انکو پتہ ہے یہ عوام کیڑے مکوڑے ہیں ہمارا کچھ نہی بگاڑ سکتے ۔۔
زیادہ سے زیادہ عدالت میں چلیں جائیں گے اور عدالتیں ایسے کیسز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہیں ۔۔
اس وقت ملک میں ان لوگوں کا راج ہے ۔
After 14 children lost their lives in a roof collapse, I expected the Commissioner Lahore, DC and Concerned AC to be held accountable. Instead, they’ve simply shut down all tuition centers. Such a 'brilliant' display of leadership… @#Punjab
🚨 JUST IN 🚨
FIFA has officially admitted fault in wrongfully disallowing Cristiano Ronaldo's goal for offside. The crucial strike would have served as the equalizer in Portugal's round of 32 tie against Croatia.
Despite the goal being initially ruled out, official technology confirmed that only Ronaldo's arm was in an offside position. According to the official ruling, this means the goal was completely legal and should have stood. Following this revelation, Portugal is asking questions regarding the decision and exploring whether the goal can be retrospectively added to Ronaldo's official tally for the World Cup.
Ronaldo remains deeply passionate about his team's campaign and is fiercely determined to compete for the Golden Boot, showcasing his unwavering drive and commitment to the sport at the highest level.
ان صاحب کی مدد کریں۔۔!!
انکا نام اصغر ہے والد کا نام حنیف ہے۔
اصغر کا کہنا ہے کہ سال 1995میں پانچ سال کی عمر میں مجھے کوئی شخص فیصل آباد سے اٹھاکر ٹرین میں حیدرآباد لایا تھا۔ حیدرآباد میں وہ شخص چھوڑ کر گیا تھا،پولیس نے مجھے ریسکیو کرکے ایک شیلٹر میں جمع کرادیا تھا۔
سال 1995 سے آج تک میں نے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو نہیں دیکھا۔ جب بڑا ہوا شیلٹر سے نکلا تو دوہزار دس میں فیصل آباد جاکر بہت ڈھونڈا تھا لیکن مجھے گھر نہیں ملا۔
اب میری شادی ہوچکی ہے تین بچے ہیں۔میرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دادا دادی اور چاچو پھوپھی والے کہاں ہیں تو میں سوائے رونے کے انکو کوئی جواب دے نہیں سکتا۔
میرا نام گھر میں اصغر تھا پیار سے اصغری بلاتے تھے۔ والد کا نام حنیف تھا جو مستری کا کام کرتے تھے۔
والدہ کا نام رضیہ ہے۔ بڑے بھائی کا نام اکبر ہے چھوٹے بھائی کا نام اشرف ہے، اشرف معذور تھا۔
ایک ہی بہن تھی جسکا نام ثوبیہ تھا۔
مجھے بس اتنا یاد ہے ہم فیصل آباد سے تھے۔ شہر ہم سے فاصلے پر تھا ہم گاؤں میں رہتے تھے۔
خدارا مجھے اپنوں سے ملانے میں مدد کریں۔
آپکا ایک شئیر بہت سارے رشتوں کو جوڑ سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبرپر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 July 2026
#waliullahmaroof #Faisalabad #PakistanZindabad