فرقے بھول جاؤ اسلام کا ساتھ دو
میں سنی ہوں ایران کے ساتھ کھڑا ہوں وہ کافروں سے لڑ رہے ہیں میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ وہ شیعہ ہیں میں یہ دیکھ رہا وہ حق پر ہیں
انشاء اللہ جلد وقت آئے گا اسرائیل تباہ ہوگا نیتن یاہو اور ٹرمپ جیسے دہشتگرد زلیل و رسوا ہوں گے
صبا اکبر آبادی کی مشہور غزل
سادگی تو ہماری ذرا دیکھیے اعتبار آپ کے وعدے پر کر لیا
بات تو صرف اک رات کی تھی مگر انتظار آپ کا عمر بھر کر لیا
عشق میں الجھنیں پہلے ہی کم نہ تھیں اور پیدا نیا درد سر کر لیا
لوگ ڈرتے ہیں قاتل کی پرچھائیں سے ہم نے قاتل کے دل میں بھی گھر کر لیا
ذکر اک بے وفا اور ستم گر کا تھا آپ کا ایسی باتوں سے کیا واسطہ
آپ تو بے وفا اور ستم گر نہیں آپ نے کس لیے منہ ادھر کر لیا
زندگی بھر کے شکوے گلے تھے بہت وقت اتنا کہاں تھا کہ دہراتے ہم
ایک ہچکی میں کہہ ڈالی سب داستاں ہم نے قصے کو یوں مختصر کر لیا
بے قراری ملے گی مجھے نہ سکوں چین چھن جائے گا نیند اڑ جائے گی
اپنا انجام سب ہم کو معلوم تھا آپ نے دل کا سودا مگر کر لیا
زندگی کے سفر میں بہت دور تک جب کوئی دوست آیا نہ ہم کو نظر
ہم نے گھبرا کے تنہائیوں سے صباؔ ایک دشمن کو خود ہم سفر کر لیا
ٹیم بدلی کوچ بدلے حالات نہ بدلے
تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں پاکستان ٹیم 133 رنز بنا کر آؤٹ
صرف دو کھلاڑی 10 سے اوپر جا سکے
سعود شکیل 43 اور محمد عباس نے 21 رنز بنائے
میں جب 10 سال کا تھا تو میں نے شاہ زیب خانزادہ کے شو میں سنا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔
میں جب 20 سال کا ہوا تو پھر میں نے سنا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔
وہ کامران خان کا شو تھا۔۔۔۔
شاہ زیب خانزادہ اور شہزاد رائے کا مشترکہ قہہقہ
"فیض احمد فیض کا گیت
"وے پردیسیا"
جس کو استاد نصرت فتح علی نے اپنی خوبصورت آواز دی۔
کاگ اُڈاواں شگن مناواں
وگدی وا دے ترلے پاواں
تیری یاد پوے تے روواں
تیرا ذکر کراں تاں ہسّاں
ماہیا کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
وے پردیسیا۔۔۔
تیریاں کدھرے ناں پیندیاں دساں
(کوے (پرندہ) کوپنجابی میں کاگ کہتے ہیں۔کوے جب کسی گھر کی منڈیر پر آکر بیٹھیں تو اسےگھر میں مہمان آنے کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔اس شعر میں انتظار کرنیوالا اپنے محبوب پردیسی کو کہہ رہا کہ تمہارے انتظار میں اتنی تھک گئی ہوں کہ کہ گھر کی منڈیر پر بیٹھنے والے کوے بھی اچھے نہیں لگ رہے۔کوے بیٹھنے سے مہمان آتے ہیں میرا اب اس بات پر اعتماد نہیں رہا۔میں انہیں اڑا دوں گی۔میرے دکھ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ مجھے ایسا کرنے سے کچھ تو خوشی ملے۔جو ہوا میری طرف سے تمہاری طرف جارہی ہے میں اسکی منتیں کروں کہ جاؤ میرے محبوب کو بتاؤ کہ مجھے اسکا کتنا انتظار ہے۔تمہاری جب بھی یاد آتی ہے میں روتی ہوں۔اور جب بھی کوئی تمہارا زکر کرتا ہے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔میں ہنستی ہوں۔میرے محبوب پردیسی تمہاری راہوں میں کب سے کھڑی ہوں لیکن تمہارے آنے کے مجھے کوئی آثار نظر نہیں آتے)
شام اُڈیکاں فجر اُڈیکاں
آکھیں تے ساری عمر اڈیکاں
آنڈ گوانڈی دیوے بلدے
ربّا ساڈا چانن گھل دے
تیری یاد پوے تے روواں
تیرا زکر کراں تے ہساں
ماہیا کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
وے پردیسیا۔۔۔
تیریاں کدھرے ناں پیندیاں دساں
(میرے محبوب۔۔تمہارے انتظار کا کوئی وقت متعین نہیں۔۔شام ہو تو تمہارا انتظار،صبح صادق کے وقت تمہارا انتظار۔یہ انتظار میرے نصیب میں لکھا جاچکا ہے۔اگر تم کہو تو میں ساری عمر تمہارا انتظار کرنے کو تیار ہوں لیکن میرا پیار کم نہیں ہوگا۔میرے آس پاس رہنے والے پڑوسی،مخلوق خدا، کے گھروں میں خوشیوں کے چراغ جل رہے ہیں۔انکے گھر روشنیوں نے خوشیاں ہی خوشیاں بکھیر رکھی ہیں۔لیکن میری زندگی میں تمہارے بغیر اندھیرا ہے۔میری زندگی میں تو تمہارے انے سے ہی روشنی آئیگی۔میرا چاند تو تم ہو۔۔میں رب سے دعا کرتی ہوں کہ میرا چاند میرے پاس بھیج دو۔۔میرے محبوب میں تمہاری راہوں میں کب سے کھڑی ہوں لیکن تمہارے آنے کے مجھے کوئی آثار نظر نہیں آتے)
درد نہ دسّاں گُھلدی جاواں
راز نہ کھولاں رلدی جاواں
کِس نوں دل دے داغ وکھاواں
کِس در اگّے جھولی ڈاہواں
تیری یاد پوے تے روواں
تیرا تیرا زکر کراں تے ہساں
ماہیا کدھرے نہ پیندیاں دسّاں
وے پردیسیا۔۔۔
تیریاں کدھرے ناں پیندیاں دساں
(تمہاری محبت،انتظار کے دکھ اتنے ہیں کہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی۔ان دکھوں نے اتنے درد دئیے ہیں جو مجھے اندر ہی اندر کھائے جارہے ہیں۔دکھ،انتظار کی کیفیت میرے چہرے پر ہر وقت رہتی ہے۔میری یہ حالت دیکھ کر کوئی پوچھے تو میں کیسے بتاؤں کہ مجھے کیا دکھ ہے۔ان دکھوں نے مجھے جیتے جی مار دیا ہے۔میں اپنی فریاد لیکر کس کے در پر جاؤں۔میں کس کے آگے جھولی پھیلاؤں کہ مجھے تمہارا دیدار نصیب ہوجائے۔میرے محبوب میں تمہاری راہوں میں کب سے کھڑی ہوں لیکن تمہارے آنے کے مجھے کوئی آثار نظر نہیں آتے)
فیض احمد فیض
حوالہ: رات دی رات، فیض احمد فیض؛ صفحہ 17
مُحسن نقوی نے کہا جو مرضی کر لیں ممدانی بھی آئیں گے اور صادق خان بھی، یہاں ممدانی سے مُراد نیویارک کے میئر اور صادق خان سے مُراد لندن کے میئر ہیں، وہی لندن جہاں آپ رہتی ہیں۔۔!!
*ایک دفعہ جب حضورِ اکرم ﷺ لوگوں کو وضاحت فرما رہے تھے کہ بھوکوں کو کھانا کھلانے کی کیا اہمیت ہے تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ" یارسول اللہ ﷺ! کیا غیر مسلم کو بھی کھانا کھلانا ثواب کا باعث ہے ۔"آپ ﷺ نے سختی سے فرمایا" بھوکے انسان کو کھانا کھلانا ہے بھوکا تو بس بھوکا ہی ہے ۔ مسلمان ہو یا یہودی ہو ۔ جہاں کوئی انسان بھوکا ہو اس کو کھانا کھلایا جائے"-
آج ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی غریب دوائی کے لئے پیسے کا سوال کرے تو ہم اس سے کہتے ہیں کہ پہلے تیسرا کلمہ سناؤ ۔ ضرورت دوائی کی ہے ۔ وقت تبلیغ کا نہیں ہے ۔
(حرف حرف حقیقت)
حضرت واصف علی واصفؒ
اہم: ’’وہ چاہتے ہیں شوشے چھوڑ چھوڑ کر سندھ کو تقسیم کریں، یہ تقسیم ہمیں منظور نہیں، نئے انتظامی یونٹ بھی قبول نہیں‘‘ ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو
نوٹ: ڈاکٹر عذرا صدر آصف زرداری کی بہن ہیں
سندھ کی تقسیم کی بات ہوگی تو سیاست،وزارت،ممبر شپ کو لات ماریں گے وقت پڑا تو جان بھی دے دیں گے
سعید غنی
سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی سے قرارداد منظور
عائشہ بخش: گریڈ 20 کے افسر کو جج کرنے کے اختیار دے دیے گئے ہیں۔ حکومت کا تنخواہ دار ملازم کیا حکومتی خواہش کے خلاف فیصلہ کرنے کی جرأت رکھے گا؟
شہزاد چوہدری: مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی خطرہ کس چیز کا ہے؟ کون سا دہشتگرد ہے جس کے پیچھے یہ جا رہے ہیں کہ وہ انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے؟ ایسی چیزیں تو ہم نے افریقہ میں سنی ہیں۔
عائشہ بخش: اصل خطرہ دہشتگرد نہیں، وہ نظام ہے جہاں جج بھی حکومت کا ماتحت ہو اور انصاف بھی حکومت کی مرضی کا محتاج۔
شہزاد چوہدری: پھر عدالتیں نہیں رہتیں، صرف وردی، عہدہ اور فائل رہ جاتی ہےاور فیصلہ وہی ہوتا ہے جو اوپر سے پسند آئے۔
آپ نے بہادری کے ساتھ میرا ساتھ دیا، میں آپ کو اپنی رفاقت سے آزاد کرتا ہوں، یاسین ملک کا مشعال ملک کو طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار، اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار، سرینگر کی عدالت میں حلف نامہ جمع کرا دیا۔۔!!
قتیل شفائی کی غزل
کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح
وہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح
کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی
چھپے گا وہ کسی بدلی میں چاندنی کی طرح
بڑھا کے پیاس مری اس نے ہاتھ چھوڑ دیا
وہ کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح
ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح
کبھی نہ سوچا تھا ہم نے قتیلؔ اس کے لیے
کرے گا ہم پہ ستم وہ بھی ہر کسی کی طرح