ایک رہنما کو تیار ہونے میں صدیاں لگتی ہیں، جبکہ فوجی آمروں کی بڑی تعداد باآسانی دستیاب ہو سکتی ہے۔ حسین ندیم
#pakistan@HNadim87
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
”عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے وکیل کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ عدالت میں پیش ہو کر نیب اور اڈیالہ جیل حکام نے جھوٹ بولا۔ عمران خان کی صحت کے معاملے پر ہمیں کسی صورت خاموش ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیئے، ہر پلیٹ فارم پر ہمیں آواز اٹھانا ہو گی۔ موجودہ رجیم اس وقت فرعونیت اور یزیدیت کی نئی مثال قائم کر رہی ہے۔ کسی سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو یوں قید تنہائی میں رکھ کر ظلم کرنے کی مثال ملکی تاریخ سے نہیں ملتی۔“ قاسم خان سوری
@QasimKhanSuri
#ImranKhanHealthMatters
”ایک سیکٹر کمانڈر، جو عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتا ہے، ایک منتخب وزیرِاعلیٰ کو دھمکیاں دے رہا ہے! ایک سرکاری ملازم، ایک فوجی افسر، جو اپنے بچوں کا پیٹ اپنی سرکاری تنخواہ سے پالتا ہے، وہ عوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو اس پر جواب دینا چاہیے. اس پر جواب دینا چاہیے—خاص طور پر وہی ڈی جی آئی ایس پی آر جو دعویٰ کرتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی۔ یہ سیکٹر کمانڈر کے باپ کا ملک ہے؟“- @ImranRiazKhan
جب پہلی مرتبہ آئینی ترمیم کے شور کے پیچھے عمران خان کو دوہفتے کے لیے قید تنہائی میں ڈالا گیا تھا تو یہی خدشہ تھا کہ آہستہ آہستہ اسے نارملائز کردیا جائے گا۔ آج وہی ہوا ہے۔
”ہماری عدلیہ کے مسرت ہلالی جیسے مکروہ کردار ہیں جنہوں نے ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائلز جیسے فیصلے دیئے۔ ہم ان پر لعنت بھیجتے ہیں کہ انہوں نے ملٹری کورٹس کے ذریعے کتنی مائوں کے بیٹے زندانوں میں پھینکوا دیئے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ قاضی فائز عیسٰی کی طرح ہم مسرت ہلالی کو بھی زندگی میں عبرت کا نشان بنتا ہوا دیکھیں۔ اپنی پنشن اور تنخواہ کی سمری پر آصف زرداری سے دستخط کے چکر میں پھر رہی تھیں مگر دستخط نہ ہو سکے۔“ شہباز گل
@SHABAZGIL
#ShameOnJudges
CNN کی صحافی @amanpour کے الفاظ:”عمران خان پاکستان کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے اور مقبول ترین عوامی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، اور مسلسل غیر حاضر رہنے کے باوجود ان کی عوامی مقبولیت قائم ہے“
#KhanIllegallyJailed3Years
We urge Pakistani authorities to unconditionally restore Imran Khan and Bushra Bibi Khan’s right to see their family and lawyers.
Both must be given access to adequate medial care and their solitary confinement, which is unlawful, should end immediately.
https://t.co/EFc0exoZVe
یار عمران قسم سے دل ہمارا بھی اداس ہے ، تکلیف میں تم بھی بہت ہو لیکن روز سسک سسک کر یہ حرامزادے مرتے ہیں کہ تم جھکنے سے انکاری ہو ، تم کمزور پڑنے سے انکاری ہو۔ تمہاری تکلیف ہماری تکلیف ہے تو تمہاری استقامت بھی تو ہمارا حوصلہ ہے۔ مر جائیں گے یزید کی بیعت نہیں کریں گے۔ کمزور ہیں ، موقع بنا نہیں پارہے ، موقع مل گیا تو سود سمیت حساب برابر کریں گے۔
دھوکے میں مت آئیں! 🚨
وزیر داخلہ اور ن لیگ کے وزراء کی باہمی نوک جھونک ایک سستا ڈرامہ ہے تاکہ 5 اگست کے پشاور جلسے سے عوام کا دھیان ہٹایا جا سکے۔
حکمران خوفزدہ ہیں! تمام ورکرز اور قوم ان کی اس چال کو سمجھیں اور اپنی تمام تر توجہ پشاور جلسے کو کامیاب بنانے پر رکھیں۔ ہمارا اتحاد ہی ان کا سب سے بڑا خوف ہے!
“1971 میں جب سقوط ڈھاکہ کا افسوسناک سانحہ پیش آیا تب بھی ایک ڈکٹیٹر یحیٰی خان ملک پر مارشل لاء نافذ کر کے کرتا دھرتا بنا ہوا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد حمود الرحمان کمیشن بنا جس نے بتایا کہ یحیٰی خان نے اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ناجائز اقتدار کو دس سال تک طول دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جس سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ اعلیٰ عدلیہ سمیت آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے نمائندوں کی تحقیقات کے بعد بنائی گئی- ان تحقیقات کے دوران سینکڑوں لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور 4 سال اس سانحے کی وجوہات پر تحقیقات کی گئیں۔
حمود الرحمان کمیشن کے مطابق ایک شخص کی ہوس اور انا نے ظلم و جبر کا وہ باب رقم کیا جس کے بعد ملک ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔سب سے غلط فیصلہ شیخ مجیب الرحمان کی مقبول ترین جماعت عوامی لیگ کو دبانے کا تھا۔ جس پارٹی نے 162 میں سے 160 نشستیں جیتیں اسے دیوار سے لگا دیا گیا اور مجیب الرحمان کو جیل میں ڈال کر مغربی پاکستان میں اپنی نشستیں بڑھا کر دکھائی گئیں۔ 24 مارچ 1971 کو مجیب الرحمان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے مگر اسی رات بنگالیوں کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا گیا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 50 ہزار افراد کا خون بہا جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں وہی حالات بنا دئیے گئے ہیں جو 1971 میں تھے۔ عاصم منیر نے نو مئی کا فالس فلیگ ملک کی مقبول ترین پارٹی تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے کروایا۔ دو راتوں میں تحریک انصاف سے منسلک دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ 10 ہزار لوگوں کو دو راتوں میں بغیر تحقیق گرفتار کر لیا جائے؟ اس کے بعد پارٹی کو کچلنے کا سلسلہ شروع ہوا- ملک کی سب سے بڑی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی، کوئی تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا، ہمارے امیدواروں اور ان کی فیملیز کو اغوا کیا گیا۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا مگر عوام نے 8 فروری کو باہر نکل کر اس سارے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
8 فروری انقلاب کا دن تھا جب لوگوں نے ظلم کے نظام کے خلاف ووٹ دئیے اور تحریک انصاف کو 2 تہائی اکثریت دلوائی۔ کمشنر پنڈی نے جب ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتخابی دھاندلی کا پردہ چاک کیا اور پچاس پچاس ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا اعتراف کیا تو دھاندلی کے جرم میں ملوث قوتوں نے ان کے ذہنی توازن بگڑنے کا بھونڈا بیانیہ بنا کر انہیں غائب کر دیا۔ ان کا آج تک کسی کو معلوم نہیں لیکن ہم انہیں بھولنے نہیں دیں گے۔
نو مئی کے اصل مجرم وہی ہیں جنھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اب اسی نو مئی کو بہانہ بنا کر جو نشستیں ہمارے پاس بچی تھیں وہ نا جائز دس دس سال کی سزائیں دے کر ہم سے چھنیی جا رہی ہیں۔ بےشرمی کی انتہا یہ ہے کہ اعجاز چوہدری کی سیٹ چھین کر الیکشن ہارنے والے رانا ثنا اللہ کو دے دی گئی۔ یہ سب سزائیں بالکل ناجائز ہیں۔ دو دو چار چار کر کے بے شرمی سے ہماری نشستوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ وہ پھر یہ نشستیں چوری کر لیں گے۔ اور اس الیکشن میں حصہ لینا ان جعلی سزاؤں کو ماننے کے مترادف ہو گا- میں قومی اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی پیش کرنے اور تمام مراعات سے دستبردار ہونے پر سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ہدایت دیتا ہوں کہ اب سینٹ قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفی دے دئیے جائیں۔ میں کچھ دن تک اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کروں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (10 ستمبر، 2025)
1/3
جی ہاں ناظرین انتظامی یونٹس آگئے تو سب ٹھیک ہوجائے گاکے پروڈیوسرز و ہدایتکاران کی ماضی کی فلمیں ملاحظہ ہوں
سالا نگران وزیر اعلی ہوا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
الیکشن چھ مہینے کیلیے ملتوی ہوگئے تو سب ٹھیک ہوجائے ۔
ایک سال میں معیشت ٹھیک ہوجائے گی۔
ایس آئی ایف سی میں سو ارب ڈالر آجائیں گے۔
عمران خان پر ریڈ لائن لگائی سب ٹھیک ہوجائے گا۔
عمران خان کے خلاف سینکڑوں کیسز بنا دیے سب ٹھیک ہوجائے گا۔
گھر توڑ دیے لوگ گرفتار کرکے خوفزدہ کردیے سب ٹھیک ہوجائے گا۔
عمران خان کو قید کردیا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
تحریک انصاف کو توڑ دیں گےسب ٹھیک ہوجائے گا۔
بلے کا انتخابی نشان چھینا سب ٹھیک ہوجائے گا۔
پی ٹی آئی کو الیکشن کمپین نہ کرنے دی سب ٹھیک ہوجائے گا۔
جعلی حکومتیں بنا دیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
فائر وال لگا دی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
آئینی ترمیم آگئی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
عدالتوں میں مرضی کے ججز بڑھا دیے تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
افغانستان سے جھڑپیں شروع کردیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
جنٹری بیچ جیسے سرمایہ کار آگئے سب ٹھیک ہوجائے گا۔
ایک اور آئینی ترمیم آگئی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
We have absolutely no reliable information on Imran Khan’s health. Imran Khan have never had any blood pressure issues. His normal blood pressure has always been on the lower side since he does regular exercise for several hours a day. So this disinformation being spread on Imran Khan has all the markings of the agency disinformation cell. Are they trying to set the stage for something more serious to happen to him? All those claiming credible sources are effecting their own credibility!