السلام علیکم
پاکستان
کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر حالیہ حملے میں ملوث ا��غان شہری کی گرفتاری اور دیگر کی سندھ رینجرز کی بروقت کاروائی کی بدولت ہلاکت نے عوام میں سیکیورٹی فورسز کا مورال اور عزت مزید بلند کر دیا ہے
آج عوام بھی افغان طالبان ریجیم سے شدید نفرت کا ا��ہار کر رہی ہے اور غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کو نکالنے کے حکومتی فیصلے کو سراہا رہے ہیں بلکہ حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کر رہے ہیں اور ساتھ تمام طبقات سے حکومت اور سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے کی اپیل بھی کر رہے ہیں
#محافظ_سندھ_رینجرز
ترجیحات ملاحظہ کریں۔ ملکی سلامتی اور زراعت کیلیے اہم منصوبوں جیسے داسو، بھاشا ڈیم وغیرہ پر فنڈز کی کمی کی وجہ سے تعمیر کی رفتار بہت سست ہے جبکہ 203 ارب روپے کی لاگت سے 117 کلومیٹر طویل کھاریاں، راولپنڈی موٹروے (ایم 13) منصوبہ دسمبر 2028 میں مکمل ہونے کی توقع ہے: عدنان عادل
@adnanaadil
خبر کا ذریعہ ��اننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
میں حیران ہوں، کوئی بھی پارلیمنٹیرین گیس کی قیمتوں میں کمی کی بات کر رہا ہے، نہ حکومت سے پوچھ رہا ہے کہ بھائی، تیل کی قیمت 120 ڈالر سے اب 74/75 ڈالر پر ہے، تو بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کیوں نہیں کی جا رہیں؟ حکومت نے تیل کی قیمت میں بھی پچاس روپے اضافی رکھے ہوئے ہیں۔ کیا لوگ ہیں! فواد چودھری
#pakistan @fawadchaudhry
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
🚨 To Lindsey Graham… from Riyadh. Once again, the goal here is not merely to respond to your statements, but to dismantle your plan from start to finish.
On February 28, you ignited the war of “legendary fury” and “the lion’s roar.” You thought that taking down Iran would be a sufficient lesson for us. You bet that the roar of bombs over Tehran would force us to normalize relations. You bet that chaos would force us to submit.
Then, on May 24, after seeing that the war had not broken our will, you issued a threat: “Join the Abraham Accords, or face dire consequences.” You tried war first; and when that failed, you tried direct threats. The threats failed as well.
Today, after your “legendary fury” has faltered and your “lion’s roar” has failed to subdue anyone, you are returning to us with a third approach: “economic stability.” You speak of opening the Strait of Hormuz as if it were an achievement, and you claim that the ultimate goal is “expanding the scope of the Abraham Accords and normalizing relations between Saudi Arabia and Israel.”
You tried war first, and it failed. You tried direct threats, and they failed. And today you are trying economic enticement.
Let me make this clear one last time: Normalization is not a goal of yours that we will achieve, whether you succeed or fail. It is not an economic project being offered to us after the failure of the military option and the failure of threats. Normalization is a sovereign Saudi decision, and its price is well known: an independent Palestinian state with East Jerusalem as its capital. Anyone who understands this knows why your war failed—and why every threat and every enticement will fail.🇸🇦🦅
@Markhor3133 فلیڈ مارشل صاحب نے دنیا کو ٹریلین ڈالرز کے نقصان سے بچایا۔
یہ ایسا کارنامہ ہے جو کبھی نہیں ہوا۔۔فیلڈ مارشل زندہ باد۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
السلام علیکم
پاکستان
بھارتی ایکشن کمیٹی کا مکروہ چہرہ بے نقاب
روزنامہ اوصاف لندن کے بیورو چیف کامران عابد بخاری جو خود کشمیر کے رہائشی ہیں نے بھارتی ایکشن کمیٹی کا پول کھول دیا
اہم حقائق
حقوق کا چارٹر منظور اور عملدرآمد جاری ہے پھر احتجاج کیوں؟؟؟
کمیٹی کا مقصد عوامی مسائل نہیں بلکہ بھارتی بیانیہ اور انتشار پھیلانا ہے۔
یہ لوگ حقوق کے نام پر کشمیریوں کے روزگار اور ریاست کی معیشت پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں
جب مطالبات مان لئے گئے ہیں تو اب یہ ہڑتالیں صرف بلیک میلنگ ہیں
عوام ہوشیار رہیں یہ کمیٹی کشمیریوں کی خیرخواہ نہیں صرف بھارتی اور زاتی مفاد کی محافظ ہے اب اس منافقت کو مسترد کرنے کا وقت ہے
#Indian_Action_Committee
میرے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیصل آباد میں ملک پور میں کیمکل فیکٹری میں دھماکا فیکٹری والوں کی کوتاہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اور 37 معصوم شہری مارے گئے۔ لیکن کیمکل فیکٹری والے مصر ہیں کہ گیس پائپ پھٹی ہے۔
جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ غالبا کسی ورکر نے سردی کی وجہ سے آگ جلائی اور خو سو گیا اور پاس پڑے آتش گیر مادہ (vinyl acetate monomer) نے آگ پکڑ لی۔ نوٹ کریں خطرناک آتش مادہ رہائشی علاقے میں موجود فیکٹریوں میں۔
کیمکل کی فیکٹری اور بہت سی ایسی دوسری فیکٹریاں ملک پور کے رہائشی علاقے میں ہیں۔ ملک پور کی فیکٹریوں کے اردگرد غریب لوگ رہتے ہیں۔
دھماکے سے لوگوں کے گھروں کی چھتیں اڑ گئیں۔ گھروں میں آگ لگ گئی۔ بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔
صرف ایک گھر میں تین جوان بیٹے اور ان کا باپ بھی گھر دھماکے سے اڑنے سے جان بحق ہوگئے۔
لاشیں ابھی تک ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔
جب ملک میں کرپٹ حکومت ہو جنہیں مال بنانے اور خزانہ لوٹنے سے فرصت نہ ہو تو تب بےحس اور سفاک سرمایہ دار رہائشی علاقوں میں کیمکل فیکٹریاں بنا کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ حالانکہ ایسی فیکٹریاں شہر سے 35 کلومیٹر دور ہونی چاہیے۔ یہ قانون ہے۔
پنجاب حکومت سے سوال ہے کہ رہائشی علاقوں میں آتش گیر مواد استعمال کرنے والی کیمیکل فیکٹریاں کیسے بن گئیں؟ کس نے اجازت دی؟ انہيں شہر سے باہر کیوں نہيں بیجھا گیا؟
@dtnoorkhan افغانستان نے ہمیشہ ہی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔
ان کے کھلاڑیوں سے لے کے ہر طبقہ فکر ہمیشہ پاکستان کے خلاف رہا ہے ۔
صد شکر کہ پاکستان نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہے