An immediate inquiry needs to be held on the police firing on unarmed protesters killing at least 25 and injuring hundreds.
In France despite protesters hurling petrol bombs at the police, not once were they fired upon by the police
Under the smokescreen of arson, which any independent investigation will show was pre planned to justify the crackdown on PTI, there is no mention in the media discourse of the massive violations of our fundamental right to protest peacefully
And no mention of an inquiry into the killing of at least 25 peacefully protestors and wounding of around 600.
اپنی 27 سالہ سیاست کے دوران میں نے کبھی کسی بھی موڑ پر اپنے کارکنان کو تشدد کی تلقین نہیں کی۔ چنانچہ 9 مئی کے واقعات (کی تفصیلات معلوم ہونے پر) پر پہلے تو مجھے نہایت تعجب اور حیرانگی ہوئی اور پھر مجھے اس حقیقت تک پہنچنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا کہ میری پرتشدد گرفتاری سے جلاؤ گھیراؤ اور پھر نازیوں کے سے انداز میں (تحریک انصاف کیخلاف) کریک ڈاؤن تک کا پورا ڈرامہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رچایا گیا۔
اس صحافی کی یہ ویڈیو اس سب کی مکمل تصدیق کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے روزِ اوّل سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
"He is being held in a death cell reserved for terrorists, under bleak and oppressive conditions"
Illegally Incarcerated Former Prime Minister Imran Khan’s Sons
Abrar ul Haque has again come up with a great tarana about Haqeeqi Azadi. Only truly free (Azad) nations fulfill their immense human potential to rise & become Iqbal's Shaheen.
وہ مناظر جو جیوڈیشیل کمپلیکس کےمرکزی دروازےسے داخل ہوتےہی مجھےدیکھنےکو ملے۔کوئی ابہام باقی نہیں رہناچاہئیےکہ نامعلوم افراد کےہمراہ اس ساری نفری کی وہاں موجودگی کا مقصد مجھےجیل میں ڈالنانہیں بلکہ ایک فرضی لڑائی کی آڑ میں مجھےرستےسےہٹانا اور میری موت کو ایک حادثہ قرار دینا تھا۔
حیات میں بڑے گناہ کیے ہوں گے :
مگر اللہ کا فضل رہا کہ کبھی کسی فرقہ پرستی مولوی کو عالم نہیں کہا
کبھی شریف خاندان کو ووٹ نہیں دیا
کبھی واہیات یوٹیوبرز کے ویلاگ نہیں سنے
کسی ٹک ٹاکر کا نام تک معلوم نہیں،
مریم اور بلاول کو سکرین پہ دیکھتے ہی چینل بدل دیتا ہوں ، سوشل میڈیا پہ نظر آئیں تو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہوں
مولوی فضل الرحمان پہ کبھی یقین نہیں کیا،
لفافہ صحافیوں سے باقاعدہ نفرت ہے
اور آٹھ فروری 2024 کے بعد عوام کا مینڈیٹ لوٹنے والوں کو کبھی شہید نہیں لکھا،
اللہ سے امید ہے کہ ان اعمال صالحہ کے بدلے میرے گناہوں کو معاف فرمائے گا !
#پاکستان
On behalf of the people of Pakistan, we send our prayers and best wishes to those who have been devastated by the floods in Kerala, India. We stand ready to provide any humanitarian assistance that may be needed.
ایک ہی ہفتے کے دوران دو مرتبہ اتنی کثیر تعداد میں باہر نکلنے پر میں اہلِ لاہور کا مشکور ہوں۔ میں ان تمام لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں جو آئین اور قانون کی حکمرانی کا ساتھ نبھانے کیلئے آج پاکستان بھر میں نکلے۔
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا
اہلِ لاہور،خصوصاً7گھنٹوں تک ہماری ریلی کےساتھ پیدل چلنےوالےلوگوں کاشکریہ! یہی وجہ ہےکہ مجرموں کاگروہ اور انکےسرپرست ہم سےاتنےخوفزدہ ہیں کہ بار بار سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینےسےانکارکرتے،8مارچ کو ہمارے کارکنان پر پُرتشددحملہ کرتےاور ظلِّ شاہ کےدورانِ حراست قتل کےمرتکب ہوتےہیں
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
The scenes I was confronted with as I entered the gates of Judicial Complex. Let there be no doubt that this force along with the 'Unknowns' - namaloom afraad - were there not to
put me in jail but to eliminate me by staging a mock fight & pretending my death was an accident.
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک ہفتہ قید تنہائی میں رکھنے کے بعد اہل خانہ سے کروائی گئی ملاقات میں گفتگو
“عالمی حالات کی وجہ سے میں نے اپنی پارٹی کو تحریک دو ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت کی ہے- موجودہ عالمی حالات کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے بلکہ آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کا بجٹ تو پیش کرنا ہی تھا- بجٹ پاس کرنے سے پہلے مشاورت کے لیے علی امین، عمر ایوب، مزمل اسلم، تیمور جھگڑا اور شبلی فراز مجھے بریفنگ دیں گے تب ہی بجٹ پاس ہو گا-
وفاقی بجٹ مکمل طور پر اشرافیہ کا بجٹ ہے- جن کے اثاثے باہر ہیں ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- اس بجٹ کا سارا بوجھ عام عوام، تنخواہ دار طبقے اور کسان پر پڑے گا۔ صرف نواز شریف اور زرداری کے اثاثے باہر نہیں بلکہ انکے وزراء کے بھی اثاثے باہر ہیں-
وفاقی بجٹ میں ان لوگوں پر مزید ٹیکس لگا دیا گیا ہے جو ایمانداری سے ٹیکس دے رہے ہیں اور جو ٹیکس چوری کر رہے ہیں ان کو مزید چھوٹ دے دی ہے۔
خبروں کے مطابق 33 لاکھ لوگ پچھلے چند سالوں میں ملک چھوڑ کر گئے ہیں، ان میں سے بیشتر اپنی کوئی مالیت اور اثاثے ساتھ لے کر گئے ہوں گے، یہ صرف برین ڈرین نہیں ہے بلکہ ملکی پیسہ بھی باہر جا رہا ہے کیونکہ یہاں کسی کو تحفظ فراہم نہیں ہے۔
جس کے پاس تین سال پہلے 50 ہزار روپے تھے آج اس کی حیثیت بمشکل 20 ہزار ہے، یہ 60 فیصد مہنگائی ہے۔
کورونا جیسی عالمی وبا اور عالمی معاشی بحران میں ہمارے معاشی اعداد و شمار دیکھیں اور آج دیکھیں- زمین آسمان کا فرق ہے کیونکہ ہماری ساری پالیسز پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے تھیں-
جب “رول آف لاء” نہ رہے تو جمہوریت ختم ہو جاتی ہے، ناانصافی مزید بڑھتی ہے جس کے باعث دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس سے معیشت مزید نیچے جاتی ہے اور لوگوں میں مایوسی مزید پھیلتی ہے-“
The vibrant & lively Kashmiris have lost their zeal to live under brutal Indian occupation & oppression in IIOJK. Humans only thrive in free societies. Today all those who value freedom must stand with the Kashmiris in their quest for liberation from illegal Indian Occupation.
Former Prime Minister Imran Khan’s Message from Adiala Jail - August 2, 2025
“Every Pakistani must join the movement for genuine freedom against the system of oppression imposed on our country so that we may genuinely achieve freedom as a nation. If we stand united and resist, this system of darkness will inevitably collapse.
The movement that begins on August 5th will continue until democracy is restored in its true spirit. People are no longer afraid. The shackles of fear have been broken. Just as 14th August 1947, marked our freedom from colonial rule, now August 14th has become significant once again as we confront a situation worse than that earlier slavery. Today, all institutions have been crippled and fundamental rights suspended. Just as our forefathers fought the British and secured freedom, we too must rise against this corrupt regime and reject this modern-day slavery.
PPP and PML-N are playing the same puppet role for Asim Munir that PML-Q once played for Musharraf. These parties are not political movements, they are a political front for the establishment. Under this cover, their corruption and looting continue unchecked.
It took 77 years to slowly build a few functional institutions in Pakistan despite repeated martial laws that hindered their progress. But Asim Munir’s martial law has systematically dismantled these institutions just to extend his grip on power. First, the people's mandate was stolen through electoral fraud and criminals were imposed upon the nation, ending democracy. Then the media was silenced under brutal censorship. Now, through the 26th Constitutional Amendment, the judiciary has been reduced to a subservient department. Judges are handed pre-written verdicts. They themselves admit they have no real authority; they simply sign what they’re given. The judiciary today stands completely paralyzed. Kangaroo courts are operating, ripping the law to shreds. Justice cannot be expected from these courts. They do not follow the Constitution, but ‘Asim Law’. All trials and sentences now follow his script. The proceedings are on record, and sooner or later, the truth will be revealed; which judges stood for justice, and which bowed down to the Yazid of our times.
Through courts in Rawalpindi, Lahore, Sargodha, and Faisalabad, false convictions are being handed out to our party leaders, assembly members, and workers in another failed attempt to derail our movement. I salute the leadership and workers of our party who are being punished simply for standing on the side of the truth.
Sikandar Sultan Raja disqualified our assembly members without even waiting for their appeals to be heard in the High Courts. When history is written, his name will be recorded in the darkest of terms. He played a central role in fraudulently turning a party with 17 seats into a two-thirds majority within a year and a half. The system of this country has been handed over to those who have stolen both the people's vote and their wealth. Those who stood for the Constitution and democracy have been thrown in jail so that no one dares to speak of democracy again.
We will not field any candidates in the by-elections for the seats of our unjustly disqualified members. These individuals stood firm with PTI despite extreme challenges. Therefore, the party will completely boycott these by-elections.
I send a clear message to Ali Amin (Gandapur): Under no circumstances should another military operation be allowed in Khyber Pakhtunkhwa, including the tribal areas. When the military and the people confront each other, the military as an institution suffers the most damage. Military operations are never the solution. Issues must be resolved through dialogue, in accordance with local traditions. Afghanistan is our Muslim neighbor. Relations with them must improve, and all matters should be resolved through discussion.”
This image will remain with me for the rest of my life. The passionate cry for freedom while dancing and pouring water on his head to dilute the effects of tear gas.
MashaAllah a nation waking up finally and demanding freedom.