“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
”راولاکوٹ (پونچھ) میں امن و امان کی سنگین صورتحال، مظاہرین پر فائرنگ اور سی ایم ایچ (CMH) کے باہر پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہوں۔ ریاست کا کام اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اپنے ہی عوام پر رات کے اندھیرے میں طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنا. حکمران اور انتظامیہ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر ایک انتہائی نازک اور حساس سرحدی خطہ ہے۔ “- @AQayyumNiaziPTI صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر و سابق وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر
عظیم لیڈر کی عظیم قوم نے بہادری کی ایک اور مثال قائم کر دی۔
شکریہ گلگت بلتستان کے دلیر اور محبِ وطن پاکستانیوں! آپ نے ثابت کر دیا کہ ظلم، جبر اور فسطائیت کے باوجود عوامی طاقت اور شعور کو شکست نہیں دی جا سکتی!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو GB میں اپنے مینڈیٹ کو بچانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئیے۔
کے پی حکومت اور لیڈرشپ کو کردار ادا کرنا چاہئیے۔ جیتی ہو نئی نشستیں چپ چاپ بیٹھ کر کھو دینا عوام اور عمران خان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
عوام نے ووٹ دیا۔ اب لیڈرشپ کا کام ہے توانا آواز اٹھائے
پشاور ایئرپورٹ سے براہِ راست!!
پشاور ہائی کورٹ کے واضح حکم کے باوجود مجھے ایف آئی اے امیگریشن حکام نے پشاور ایئرپورٹ پر روک لیا۔ میں یونیورسٹی آف ٹوبنگن، جرمنی کی دعوت پر ایک اہم تعلیمی و تحقیقی دورے کے لیے روانہ ہو رہا تھا، جس کا مقصد خیبر پختونخوا کی جامعات اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کو حتمی شکل دینا تھا۔
اس اقدام نے نہ صرف عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی ہے بلکہ صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے ایک اہم موقع کو بھی متاثر کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے مختلف حلقوں میں جاری بدترین انتخابی دھاندلی، نتائج میں ردوبدل کی کوششوں اور ریاستی مشینری کے کھلے استعمال کی شدید مذمت کرتی ہے۔
ابتدائی نتائج اور غیر سرکاری گنتی کے مطابق شام سات بجے تک پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار واضح برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔ تاہم اس کے فوراً بعد مخصوص پولنگ اسٹیشنز کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جہاں غیر معمولی طور پر 80 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ دکھایا جا رہا ہے اور ایک بیلٹ باکس سے 700 سے 800 ووٹ نکلنا سنگین شکوک پیدا کر رہا ہے۔ یہ عمل انتخابی شفافیت پر بدنما داغ ہے۔
مزید برآں ہمارے پولنگ ایجنٹس کو فارم 46 فراہم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے، جو الیکشن قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور نتائج میں ردوبدل کے خدشات بڑھا رہا ہے۔
نگر سمیت مختلف علاقوں میں مخالف جماعت کے افراد کو جعلی بیلٹ پیپرز کے ساتھ پکڑا گیا۔ صبح کے وقت ہی کچھ عناصر رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دھاندلی منظم منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ دھاندلی پولنگ ڈے تک محدود نہیں بلکہ پری پول رگنگ کے ذریعے پورا انتخابی عمل متنازع بنایا گیا۔ مخصوص حلقوں میں ووٹر لسٹوں میں ردوبدل، ایک ووٹر کو متعدد پولنگ اسٹیشنز میں شامل کرنا، پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے حلقہ بندیوں اور پولنگ اسکیموں میں تبدیلیاں، اور مخالف امیدواروں و کارکنان کو ہراساں کرنا جیسے اقدامات کیے گئے۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ فارم 47 کی پیداوار کرنے والی حکومت ایک بار پھر عوامی مینڈیٹ چرانے کے لیے ہر حد پار کر رہی ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ اگر نتائج میں ردوبدل کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنز کے مستند نتائج فوری جاری کیے جائیں، ہر امیدوار کو فارم 45 اور 46 بلا تاخیر فراہم کیے جائیں، مشکوک پولنگ اسٹیشنز کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے شفافیت یقینی بنائے۔
پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلاتی ہے کہ ان کے ووٹ کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا اور کسی کو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
🚨دو ٹوک گفتگو
گلگت بلتستان کے الیکشنز کی ساکھ خراب ہو چکی ہے، یہاں لیول پلئینگ فیلڈ تو کیا پی ٹی آئی کو پلئینگ فیلڈ بھی نہیں ملا، لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف نے میدان مار لیا ہے، شفیع جان
پیپلزپارٹی، ن لیگ اور آئی پی پی کے پاس پورے دن کی ایک بھی ویڈیو نہیں جس سے وہ دکھا سکیں کہ ان کو جی بی کے کسی بھی حلقے میں ووٹ پڑا ہے ، یہ تینوں جماعتیں سرکاری نتائج کا انتظار کررہی ہیں ، جعلی سرکاری نتائج آتے ہی ن لیگ اور سوشل میڈیا اچانک حرکت میں آ جائیں گے