میرے بھائی کو قید تنہائی میں رکھ کر غیر انسانی رویہ روا رکھا جا رہا ہے، قید تنہائی سخت ترین سزا ہے، عمران خان نے وکیل کے ساتھ میٹنگ میں بتایا تھا کہ اُن کی آنکھ 85 فیصد متاثر ہوئی، قید تنہائی میں رکھنا غیر قانونی قرار دیا جائے، علیمہ خان کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع۔۔!!
مہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا ہو جانا پاکستان کے ساتھ غداری ہے، جیسے شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں سزا دینا اس ملک کے ساتھ غداری تھی۔ ایوب خان سے لے کر عاصم منیر تک، سب جرنیلوں نے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو فروغ دیا ہے۔ غدار مہرنگ نہیں، غدار تم ہو!
ایک آرمی چیف دنیا کے اسٹیج پر ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم کی آئینی حیثیت کو ثانوی کر رہا ہے، جو پہلے ہی غیر آئینی وزیرِ اعظم ہے۔
اس کی آئینی سزا عاصم منیر کو ہی بھگتنی پڑے گی!
کل بروز منگل 2 بجے دوپہر سینیٹرز۔ایم این ایز۔ایم پی ایز۔ ٹکٹ ہولڈرز۔ پارٹی عہدیداران۔آئی ایل ایف۔آئی ایس ایف۔یوتھ ونگ۔وومن ونگ۔منیارٹی ونگ۔ٹریڈرز ونگ ہم سب اڈیالہ جیل کے سامنے اکھٹے ہوں گے، انشااللہ۔..
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
لاہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
عمران خان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق
علیمہ خان نے عمران خان کی صحت اور خوراک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے ساتھ مصر کے سابق صدر محمد مرسی جیسا سلوک دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عمران خان کو زہر دیے جانے کے خدشات پر فوری شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
گزشتہ 8 مہینے سے جیل میں عمران خان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ اُنکے پاس کتابیں ہیں نہ ٹی وی اور نہ کسی کو ان سے بات کرنے کی اجازت ہے۔ انکی آنکھ میں کلاٹ آیا ہے، ہمیں کم از کم تسّلی ہی کروا دیں کہ آپ انکے کھانے میں کچھ ملا نہیں رہے۔ دسمبر میں عمران خان میری بہن سے کہہ چُکے ہیں کہ یہ مجھے مار دینگے۔ ہم اپنے بھائی کی فکر کیوں نہ کریں؟ ہم پی ٹی آئی سے ہی امید کرسکتے ہیں کہ عمران خان کیلئے کچھ کریں۔ دباؤ ڈالیں تاکہ انہیں اس ظلم سے تو نجات ملے۔ ورنہ ان اسمبلیوں اور ووٹوں کا عمران خان کو کیا فائدہ ہے؟“
علیمہ خان کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گُفتگو
کشمیر کے چھوٹے چھوٹے چینلز کے صحافیوں میں اتنی غیرت ہے کہ ہسپتالوں میں پڑھے زخمی لوگوں کو دکھا رہے ہیں اُنکے انٹرویو لے رہے ہیں ! لیکن کتنے افسوس کی بات ہے چھبیس نومبر اور مریدکے قتل عام کے شہدا یا زخمیوں کی ویڈیو پاکستانی صحافی نا بنا سکے !
اے یوتھیو ! کشمیریوں کی جدوجہد انکے حقوق کی جدوجہد ہے۔ وہ منظم بھی ہیں اور گولیوں اورشیلنگ کا مقابلہ بھی کررہے ہیں۔ وہ اپنے لیے بہت کچھ حاصل کرلیں گے۔ ادھر سہیل آفریدی نے عمران خان کی قید تنہائی کا ، بینائی کا ، اپنی حکومت کے عوض سودا کردیا ہے ، اسکی خبر لے لیجیے۔
بجٹ سرپلس کے عوض عمران خان کی لندن روانگی نہیں مانگ رہے۔ بجٹ سرپلس کے عوض کوئی ڈیل نہیں مانگ رہے۔ بجٹ سرپلس کے عوض کیسز کا خاتمہ نہیں مانگ رہے۔
بجٹ سرپلس کے بدلے میں انتہائی بنیادی انسانی حقوق میں سے دو خاندان سے ملاقات اور بیماری کا علاج مانگ رہے ہیں۔ اگر یہ بھی نا ہوپائے تو پختونخواہ میں اقتدار کا بھی کوئی جواز نہیں۔
پھر سے بجٹ پیش ہونا ہے۔ ہم نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے درخواست کی کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے: عمران خان کی چھ ماہ سے جاری قید تنہائی ختم کرکے ان کی فیملی سے ملاقات اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج کروایا جائے:علیمہ خان
عمران خان جو اس وقت اتنی سختیاں جھیل رہا ہے، وہ بھی عوام کے لئے حقوق مانگنے کی پاداش میں ہیں-
جو کچھ "آزاد کشمیر" میں ہو رہا ہے، وہ بھی تو غلام کشمیریوں کی طرف سے حقوق کے حصول کی جنگ ہے-
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
جون کا مہینہ ہے، بجٹ پیش ہونا ہے۔ ہم نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے درخواست کی کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے: عمران خان کی چھ ماہ سے جاری قید تنہائی ختم کرکے ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج کروایا جائے:علیمہ خان
🚨🚨🚨🚨
سائفر لیک ہو گیا پوری دنیا انتظار کرتی رہی-- تحریک انصاف قیادت خاموش
26 نومبر ہوا پوری دنیا انتظار کرتی رہی-- تحریک انصاف قیادت خاموش
گلگت الیکشن چوری ہوا United Nation انتظار کرتے رہے-- تحریک انصاف قیادت خاموش
کشمیری سڑکوں پر ائے ہیں-- تحریک انصاف قیادت خاموش
2 دسمبر آخری ملاقات اور اب تک عمران خان کی فیملی سے ملاقات پر پابندی کو 6 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا پی ٹی آئی نا سیاسی نا عدالتی محاذ سے یہ ملاقات بحال کروانے میں کامیاب ہوئی اور ہاں سلمان صفدر کے بقول عمران خان کی دائیں آنکھ کافی متاثر ہو چکی ہیں ! #imrankhanunjustlyjailed
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر ضرور شور مچائیں
لوگوں کا ووٹ ڈالنا ہی جمہوریت ہے اور ووٹ جمہوریت کی اکائی اور بنیاد ہے، انتخابات میں کسی قسم کی ہیرا پھیری ، مداخلت جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔آئین و قانون کے مطابق جس دن انتخابات کا نوٹفکیشن جاری ہوتا ہے اس وقت سے لے کر ریٹرننگ آفیسر کے کسی امیدوار کی کامیابی کے نوٹفکیشن جاری ہونے تک کے عمل کو انتخابی عمل کہا جاتا ہے۔
انتخابی عمل میں ہر پارٹی اور ہر امیدوار کا عوام کے پاس جاکر ووٹ مانگنا ان کا آئینی و قانونی حق ہوتا ہے ۔ پہلے نشان چھینا گیا پھر پی ٹی آئی کو انتخابی عمل سے روکا گیا جو کہ پری پول دھاندلی تھی اور پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر رکھنے کی کوشش تھی۔انہوں نے صرف ایک پارٹی کو نہیں ستر فیصد عوام کی فالونگ رکھنے والی پارٹی کو روک کر ستر فیصد عوام کے حق رائے دہی کو غصب کیا۔
گلگت بلتستان کے 24 سیٹوں میں 22 پر ہمارے امیدوار تھے جن میں سے تین MWM کے تھے۔ ہمیں تین سیٹوں کے فارم 47 جاری کیے گیے باقی 8 سیٹوں پر ہم سو فیصد جیت چکے تھے اس کو شکست میں بدل دیا گیا۔الیکشن کے دن بھی دھاندلی ہوئی بوگس ووٹ ڈالے گئے ۔
بیرسٹر گوہر خان
کشمیر میں مزید 400 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اس وحشیانہ ظلم اور بربریت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
ہم کشمیری عوام کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور ظلم کے اس سیاہ دور میں ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔۔