حضرت اویس قرنیؓ کا مزار۔
نبی کریم ﷺ نے انہیں "تابعین میں سب سے بہترین" قرار دیا۔ اگرچہ وہ اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے نبی ﷺ سے بالمشافہ ملاقات نہ کر سکے، مگر ان کی اخلاص نے انہیں آسمانوں میں مشہور کر دیا۔
اِک جھلک جو دیکھ پاؤُں
جان میں آپ پر لُٹاؤُں
راہ میں آنکھیں بچھاؤُں
دَست بستہ پھر سُناؤُں۔۔۔ 🙏
یا نبی سلامُ عَلَیْکَ یا رسُول سلامُ عَلَیْکَ
یا حبیب سلامُ عَلَیْکَ صلوٰۃُ الله عَلَیْکَ
ایک مرتبہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، صحابہ کرام رضوان ﷲ علہیم اجمعین کے علاوہ آپ کے دونوں نواسے سیدنا امام حسن مجتبیٰ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہم بھی ہمراہ تھے۔ دفعتاً نظرِ رحمت ایک ایسے بچے پر پڑی جو والدین کے سایۂ شفقت سے محروم تھا اور بوسیدہ لباس پہنے ہوئے تھا اور آنکھوں میں آنسو لیے حسرت و یاس کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ رحمت جب اس بچے پر پڑی تو بچے کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی لڑی کی مانند گرنے لگے۔ آپ نے اپنی بابرکت چادرِ مبارک سے اس بچے کے آنسو پونچھے اور اس کو اپنے سایۂ عاطفت میں لے کر کاشانۂ نبوت پر تشریف لائے اور اس بچے کو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا اور فرمایا کہ اس کو نہلاکر اچھے اور نئے کپڑے پہنائے جائیں۔ پھر جب تک وہ بچہ تیار ہوتا رہا آپﷺ محوِ انتظار رہے اور پھر اس بچے کی اُنگلی پکڑ کر اسے اپنے ساتھ عید گاہ لے کر گئے۔ (سیرتِ رسول اعظمﷺ)
فلسطین میں ملبے سے قرآن پاک کا ٹکڑا ملا
یہ کہتا ہے:
"اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو کبھی یہ مت کہو کہ وہ مردہ ہیں، حقیقت میں وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں اس کا احساس نہیں۔"
(قرآن 2:154)
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہو گا۔
(صحیح بخاری ، ١١٩٦)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے گھر میں امن و امان سے ہے، جسمانی طور پر تندرست ہے اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہے، تو گویا اس کے لیے پوری دنیا جمع کر دی گئی۔”
حوالہ: جامع ترمذی ، حدیث نمبر: 2346
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے زندگی کی تین عظیم نعمتوں کی قدر و قیمت بیان فرمائی ہے، یعنی اگر انسان کو گھر میں امن میسر ہو، صحت نصیب ہو اور ایک دن کا کھانا موجود ہو تو حقیقت میں اس کے پاس دنیا کی بڑی دولت موجود ہے، کیونکہ اکثر لوگ انہی بنیادی نعمتوں سے محروم ہوتے ہیں، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو بڑی بڑی چیزوں کی طلب میں ناشکری نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ کی دی ہوئی چھوٹی نعمتوں پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص صبح اٹھ کر یہ دیکھے کہ وہ محفوظ ہے، بیمار نہیں اور اس کے پاس کھانے کو موجود ہے تو اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہی نعمتیں انسان کی زندگی کو سکون اور اطمینان دیتی ہیں، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اصل خوشحالی مال کی زیادتی نہیں بلکہ امن، صحت اور بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ہے، اور ان نعمتوں پر شکر کرنا مومن کی پہچان ہے۔