عید کے دن آواز اٹھائیں 🚨
ہمیں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کے ساتھ عمران خان کا مکمل میڈیکل check-up چاہیئے اور وہ بھی ڈاکٹر عاصم کی موجودگی میں۔
خان کی بیماری کو نورمالائز نہیں ہونے دینا اس پر سوشل میڈیا زیادہ سے زیادہ شور مچائیں
Imran Khan and Bushra Bibi remain illegally imprisoned and are being subjected to systematic psychological and physical torture through unlawful isolation.
For the past seven months, Imran Khan has been kept in solitary confinement. He has been denied access to his family, his personal doctors, and even basic human rights including books, which he has not been allowed for the last five months.
At this moment, our primary demand is clear: Imran Khan must immediately be shifted to Shifa International Hospital for comprehensive medical examinations and proper treatment for his eye condition.
Today, the 12th of May, CM Sohail Afridi, along with the entire KP Assembly, members of the Punjab Assembly, members of the National Assembly, and Senators from PTI, will come to Adiala Jail to stand in solidarity with their leader, Imran Khan.
Their presence will highlight the issue both nationally and internationally, the ongoing mistreatment and psychological torture being inflicted upon Imran Khan and Bushra Bibi. It is also intended to build pressure on this government (a government brought into power through stolen mandate from Imran Khan) to immediately transfer him to Shifa International Hospital without any further delay.
Our family once again strongly urges Imran Khan’s supporters NOT to come to Adiala Jail today. Police will not arrest elected representatives and Senators, but the supporters remain at serious risk of arrest and mistreatment.
قاسم سلیمان خان انٹرنیشنل میڈیا پر,
پوری دنیا کو بتا رہے ہیں, ہم نے اپنے والد کو 4 سال سے نہیں دیکھا!!
ہمارے والد کو قید تنہائی میں رکھا ہؤا ہے, انکھوں میں مسلہ ہے, ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے, ڈاکٹروں تک رسائی نہیں دی جا رہی!!
اسکو پھیلائیں 🛑
حسان نیازی کے جیل میں ایک ہزار دن مکمل۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کی قید کو آج ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں۔ حسان خان کو 13 اور 14 اگست 2023 کی درمیانی شب ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا سے ملٹری تحویل میں لیا گیا۔ چند دن بعد لاہور ہائی کورٹ میں فوج کی EME برانچ کے کمانڈنٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر جھوٹ پر مبنی کاغذی کارروائی کی اور مملکت کی اعلیٰ عدالت میں رعونت تکبر سے بھرا ایک خط SHO تھانہ سرور روڈ لاہور کے نام تھا جس میں غیر قانونی کارروائی کا برملا اعتراف تھا۔ میں SHO کو حسان خان کو فوج کے سپرد کرنے کا کہا گیا تھا، جبکہ حسان خان پہلے ہی ایبٹ آباد سے گرفتار ہو کر فوجی تحویل میں جا چکا تھا۔ ازراہِ تفنن اور اطمینانِ قلب کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ ایک طاقتور ادارہ، ایک عام شہری کی طرح جھوٹ، بزدلی اور آئین و قانون سے انحراف کا مرتکب پایا گیا اور اس معاملے میں عام شہری سے بھی زیادہ مستعد نظر آیا۔ حیف! آج اگر ریاست پچیس کروڑ عوام کے جان، مال اور عزت کے تحفظ سے قاصر ہے تو اس کی بنیادی وجہ مقتدرہ کی بداعمالیاں، لاقانونیت اور طاقت کے بے جا استعمال کی روایت ہے۔ چنانچہ حسان خان کے خلاف غصے، انتقام اور لاقانونیت کا یہ طرزِ عمل سمجھ میں آتا ہے۔ جس انداز سے طاقتور حلقوں نے آئین، قانون اور عدالتی نظام کو روندتے ہوئے حسان خان کو لاقانونیت کی بھینٹ چڑھایا، مجھے ایسے لوگوں کی بے بسی اور اخلاقی زوال پر ترس ہے۔ پاکستانی سیاسی قیادت محض ایک مہرۂ ناچیز ہے، لیکن جب موجودہ اقتدار کی شیلف لائف مکمل ہو جائے گی تو جن ہاتھوں نے انہیں اقتدار بخشا، انہی ہاتھوں کے ذریعے انہیں جیلوں کا راستہ بھی دکھایا جائے گا کہ پاکستان میں سات دہائیوں سے اقتدار اور جیل کی چھپن چھپائی جاری ہے، مگر ہمارے سیاستدان اس سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔
مجھے اس موقع پر نہ کوئی ذاتی شکوہ بیان کرنی ہے، نہ سیاسی نعرہ بازی اور نہ نفرت کی کوئی داستان سنانی ہے۔ مجھے صرف ریاست کی حالتِ زار، اس کی کسمپرسی اور اس بدنصیب ملک کی تقدیر پر افسوس کا اظہار کرنی ہے، جہاں بے پناہ طاقت رکھنے والے اداروں کو بھی جھوٹ اور لاقانونیت کے سہارے مقصد براری کرنی ہوتی ہے۔ دہائیوں سے ذاتی مفادات کو قومی مفادات کا نام دے کر پارلیمان، آئین، قانون اور عدالتی نظام کو مفاداتی ایجنڈوں کی بھینٹ چڑھایا جا چکا ہے، تمام آئینی اداروں کو بزورِ طاقت گھر کی لونڈی بنا دیا گیا ہے۔ بدنصیب مملکت سات دہائیوں سے یہ سب بھگت رہی ہے اور سیاسی ابتری میں نام پیدا کر چکی ہے اور ہر دس سال بعد زیرو پوائنٹ سے کچھ پیچھے اپنے سفر کا نئے سرے سے آغاز کرتی ہے۔
آج جہاں میں اپنے بیٹے کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں کہ اس نے ایک ہزار دن غیر قانونی اور غیر انسانی قید و بند کو صبر، استقامت، حوصلے، جرأت اور ذہنی مضبوطی کے ساتھ برداشت کیا، جو میرے لیے باعثِ فخر ہے، وہاں مجھے اس بات پر بھی مکمل اطمینان ہے کہ وہ ظلم، غیر قانونی حراست اور ریاستی جبر کے باوجود نہ ٹوٹا، نہ جھکا اور نہ ہی مایوس ہوا۔ اصل المیہ صرف حسان خان یا فرد واحد کی قید نہیں بلکہ اصل سانحہ آئینی، قانونی اور عدالتی نظام کا انہدام ہے کہ قانون اور عدالتی نظام کو پامال کر کے میرے بیٹے حسان خان کو غیر قانونی فوجی تحویل میں لیا گیا اور فوجی عدالتوں سے دس سال قیدِ بامشقت کی سزا دلوائی گئی۔ اس عمل میں آئین اور بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے اور عدالتی نظام کو عملاً بے اختیار بنا دیا گیا۔ 14 اگست، یومِ آزادی کے دن گرفتار کیا گیا، دو سے ڈھائی ماہ تک نہ اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا، نہ خاندان کو رسائی دی گئی اور نہ قانون کے تقاضے پورے کیے گئے، گویا ریاست خود اپنے آئین اور قوانین سے ماورا ہو چکی تھی۔ دسمبر 2024 میں فوجی عدالت نے میرے بیٹے کو دس سال قید کی سزا سنائی، مگر آج 10 مئی 2026 تک نہ فیصلے کی مصدقہ نقل فراہم کی گئی، نہ قانونی جواز بتایا گیا اور نہ شفاف عدالتی کارروائی کے بنیادی اصول پورے کیے گئے۔ یہ صرف انصاف کا قتل نہیں بلکہ آئین، عدلیہ اور شہری آزادیوں پر ایک سنگین حملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے خود قرار دیا تھا کہ ایسے متاثرین کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، سپریم کورٹ کے حُکم کے باوجود،دس ماہ سے حسان کی دائرُ درخواست ضمانت سماعت کے لئیے ایک عدد بینچ کی تلاش میں ہے، پانچ بنچوں سننے معذرت کر چکے ہیں عدالتی تاریخ کا پہلا واقع کہ سال ہونے کو ہے یہ فیصلہ نہیں ہو پارہا کہ درخواست سماعت کے لئیے ہائی کورٹ بینچ کی متلاشی ہےصورتحال واضح کرتی ہے کہ ملک میں قانون کی نہیں طاقت کی حکمرانی ہے۔ریاستی طاقت نے آئین، قانون اور انصاف کو پامال کر رکھاہے۔ اقتدارکا گھمنڈ اگرچہ یقین دلاتاہے کہ عروج دائمی ہے، مگر زوال ہمیشہ خاموشی سے اتا ہے اور انجام عبرتناک بنتا ہے
نورین خانم !
#imrankhan
اور سیز پالستانوں کو چاہیئے کہ ملک میں مقیم پاکستانیوں کی آواز بنیں کیونکہ ان کے پاس آزادی رائے نہیں ہے۔
نورین نیازی @Noreen_KhanPK کا ۹ مئی کے موقعے پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئیے پیغام
#مئی9_یوم_جبر#May9th_FalseFlag
Sad & Heartbreaking to hear #BushraImranKhan has been rushed to hospital again. Denying timely medical care and recovery to a prisoner is inhumane and unacceptable.
This mistreatment must stop immediately. Basic human rights apply to everyone.
May Allah grant her swift recovery, strength & justice.
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر ضرور آواز اُٹھائیں
SubhanAllah… Today I just learned something that shook me in the most beautiful way.
On the Day of Judgement, you’ll see mountains of reward in your name.
You’ll be in awe and shock.
And you’ll ask:
“Ya Allah… where did all of this come from?”
I studied people who:
• never miss Fajr
• memorized the Qur'an
• resist their phone effortlessly.
They all have ONE skill in common.
And most people don't even know it exists.
Here's their secret:
اسلام میں حد سے زیادہ سوچنا (اوور تھنکنگ)
کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حد سے زیادہ سوچنے (اوور تھنکنگ) کو بے چینی اور اضطراب میں بدلنے سے پہلے ہی روکنے کا طریقہ سکھایا ہے؟
#May9th_FalseFlag was a conspiracy to get dictator Asim Munir more power to crush PTI, have more control over judiciary and other institutions.
This false flag operation was used to justify fascism. Now that everyone knows it was false flag, will anyone question Asim Munir?
1,000 days on, the moment demands not silence but renewed resolve. Imran Khan, once lifted high by the cricketing world and defended by its strongest voices, remains in arbitrary detention despite clear calls for dignity, medical care, and justice.
Those who spoke before were right then, and they are needed now more than ever. This is the time to step forward again, to stand firmer and louder, because the principles at stake do not fade with time, and neither should the voices that defend them.
#SpeakUpForKhan
Our family has appealed to all party office holders, senior leadership, MNAs, MPAs, and Senators to come to Adiala Jail this Tuesday to build pressure on the government to:
1. Allow immediate access for Imran Khan’s lawyers and family.
2. Transfer Imran Khan to Shifa International Hospital for proper medical examination and treatment, in the presence of specialists, his personal doctor, and family.
3. Ensure Chief Justice Dogar takes up the bail applications of Imran Khan and Bushra Bibi so they can be released from this illegal imprisonment without delay.
Imran Khan and Bushra Bibi are being held in solitary confinement, one of the harshest forms of treatment in violation of Pakistani law and international human rights standards.
GLOBAL SOS
To the people of the world:
Imran Khan’s life is in danger. Reports of denied medical care, possible permanent eye damage, and prolonged solitary confinement raise grave concerns.
We urge immediate international attention and action. Raise your voice. Demand accountability. Silence is not an option. Act now.
#SpeakUpForKhan
#خان_کی_مزاحمت_کے_1ہزار_دن
”کل ایک بار پھر رات کے اندھیرے میں عمران خان کو پمز لے جایا گیا ہمیں کسی نے اطلاع نہیں دی یہ مجرم لوگ ہیں جرم کررہے ہیں رات کے اندھیرے میں خان صاحب کو ہسپتال لے کے جاتے ہیں، فیملی کو بتائے بغیر کونسا علاج کروا رہے؟ کون سے انجیکشن لگائے جارہے ہیں ؟ جو کچھ یہ کررہے ہیں ان کو اس کا حساب دینا ہوگا“۔
نورین خان
@Noreen_KhanPK
#اڈیالہ_کی_چابی_صرف_مزاحمت
عمران خان کی صحت کا معاملہ بہت سیریس ہےاگر وجہ پتا نہیں چلے گی تو دوسری آنکھ بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے اور کیا پتا یہ شروع ہو چکا ہو کیونکہ ٹیسٹ رپورٹس سے ہمیں مکمل لاعلم رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان۔ 🚨
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے