عائشہ بٹ کے اتنا خوبصورت جسم ہے اس کو دیکھ کر میرے منہ سے رال ٹپکنے لگ گئی ۔ میں مرد ہوتی تو اس کے سامنے بچھ جاتی ۔
اس بڑھیا کی عمر دیکھیں اس کی باتیں سنیں یہ رجب بٹ کی فٹنس ٹرینر عائشہ بٹ پر فدا ہو گئی ہے اور رجب بٹ اور عائشہ بٹ کی ویڈیو پر تجزیہ سنیں ۔ خود سن لیں تاکہ دیکھیں اس ملک میں کس حد تک غلاظت عام ہو گی یہ اک ستر سالہ بڑھیا کی گفتگو ہے۔
جس عمر میں اس کو قبروں کے ڈائزئن دیکھنے چاہیے تھے اس عمر میں یہ پتہ نہی کون سے شوق لیکر بیٹھ گئی ۔
یہ ملک پاکستان کی جادوگرنی لالہ رخ ہے جو کہتی ہے کوہ قاف کا اک جن مجھ پر عاشق ہے ۔ اس نے بھی اج تک جتنی سیاسی غیر سیاسی دعوے کیے کچھ سچ نہی نکلا ۔۔
حال ہی میں اس نے دعوی کیا ڈاکٹر نبیحہ پھر حارث کھوکھر سے طلاق لے گی اور رجب بٹ سے شادی کرے گی ۔۔
گرلز کالج ڈیوٹی
پچاس سالہ حمید تین جوان بچوں کا باپ تھا۔ دو بیٹے کالج میں تھے اور بیٹی مہرین بائیس سال کی تھی۔ میٹرک کے بعد اس نے پرائیوٹ طور پر بی اے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ گھر پر ہی کتابیں کھول کر بیٹھتی، نوٹس بناتی، اور امتحانات کی تیاری کرتی۔ کالج کی باقاعدہ کلاسز میں نہیں جاتی تھی۔
مڈل ایسٹ میں پندرہ سال گزار کر جب حمید پاکستان واپس آیا تو جیب میں کچھ بچت تھی مگر مستقبل کی فکر بھی۔ اس نے سوچا کہ ایک گاڑی لے کر کالج کی لڑکیوں کو اٹھانے کا کام شروع کرے تو مہینے کا اچھا خاصا پیسہ بن سکتا ہے۔ قسطوں پر ایک سفید سزوکی پک اپ خرید لی۔ گاڑی چمکدار تھی، سیٹیں صاف، اور اے سی بھی ٹھیک چل رہا تھا۔
پہلے ہفتے ہی کالج کے گیٹ کے باہر کھڑا ہو گیا۔ بورڈ لگا دیا: “کالج ڈیوٹی – محفوظ اور وقت پر”۔ شروع میں چند لڑکیاں ہی بیٹھتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ گاڑی بھرنے لگی۔ زیادہ تر بیس-اک��س سال کی تھیں۔ حمید کی نظر کبھی کبھی ان کے جسموں پر پھسل جاتی تو وہ فوراً نگاہیں نیچے کر لیتا۔ مگر رات کو جب گھر آتا تو وہی لڑکیاں اس کے دماغ میں گھومتی رہتیں۔
ایک دن ایک نئی لڑکی بیٹھی۔ لمبی سی، گندمی رنگت، کالے بال کندھوں تک، اور شلوار قمیض کے یونیفارم میں بھی جسم کی لکیریں چھپ نہ پا رہی تھیں۔ قمیض قدرے فٹ تھی اور شلوار کی کمر تنگ۔ اس نے سامنے والی سیٹ پر بیٹھنے کی اجازت مانگی۔ حمید نے سر ہلا دیا۔
گاڑی چلتے ہی اس نے پوچھا، “انکل، آپ کب سے یہ ڈیوٹی کر رہے ہو؟”
حمید نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “ابھی چند دن ہوئے۔ تمہارا نام کیا ہے؟”
“زویا۔”
اس کے بعد ہر روز زویا سامنے والی سیٹ پر بیٹھتی۔ کبھی اس کی ران حمید کی کہنی سے ٹکراتی، کبھی گاڑی کے جھٹکے سے ذرا سا جھک جاتی اور اس کی خوشبو گاڑی میں پھیل جاتی۔ حمید اپنے آپ کو روکتا، مگر رات کو وہی زویا اس کے دماغ میں گھومتی رہتی۔
کالج کی ڈیوٹی کے بعد زیادہ تر ڈرائیور ایک الگ واٹس ایپ گروپ میں باتیں کرتے تھے:
“آج فلاں لڑکی کی رانوں پر ہاتھ پھیرا، بہت نرم تھیں۔”
“کل والی نے تو خود میرے ہاتھ کو اپنے ممّوں پر رکھ دیا۔”
“اس نئی والی کے کپڑے اتنے ٹائٹ ہیں کہ بیٹھتے ہی سب کچھ دکھائی دے جاتا ہے۔”
حمید ان سب میسجز کو خاموشی سے پڑھتا، کبھی جواب نہیں دیتا تھا۔ اس نے آج تک کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ نہ ہاتھ پھیرا، نہ چھوا۔ وہ صرف گاڑی چلاتا اور لڑکیوں کو ان کے گھروں پر اتار دیتا۔
اس کا دل اکثر کرتا تھا کہ زویا کی رانوں پر ہاتھ پھیرے، اس کے جسم کو چھوئے، مگر ہمت نہیں ہوتی تھی۔ دوسرے ڈرائیور جو کرتے تھے، وہ کبھی نہ کر سک��۔
ایک دن اس کی بیٹی مہرین کے بی اے کے پیپرز شروع ہونے والے تھے۔ پرائیوٹ امیدوار ہونے کے باوجود اسے کالج میں حاضر ہو کر پیپر دینا تھا۔ یہ اس کی زندگی میں پہلی بار تھا کہ وہ باپ کے ساتھ کالج جا رہی تھی۔ حمید نے صبح ناشتے پر کہا، “آج گاڑی میں جگہ زیادہ ہو گی۔ تم بھی ساتھ چل لو، میں تمہیں کالج چھوڑ آؤں گا۔”
مہرین نے سر ہلا دیا۔ دل میں عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ بائیس سال کی عمر میں پہلی بار باپ کے ساتھ کالج جانا… اور وہ بھی اپنے فائنل کے پیپرز دینےکے لیے۔
گاڑی میں رش بہت زیادہ ہو گیا۔ پیچھے سیٹیں بھر چکی تھیں۔ ایک اور لڑکی، جو کافی بھری جسم والی تھی، آگے آنے پر مجبور ہو گئی۔ تینوں آگے بیٹھ گئے۔ مہرین بیچ میں تھی۔
گاڑی چلتے ہی جگہ کی کمی کی وجہ سے مہرین کے نرم کولہے اپنے ابو کی ران سے سکڑ کر ٹچ ہو گئے۔ ہر جھٹکے کے ساتھ وہ مزید دبتے جا رہے تھے۔ حمید نے سانس روک لی۔ اس نے نظر نیچے کیے رکھی، مگر جسم میں ایک عجیب سی گرمی پھیل رہی تھی۔
گیئر چینج کرتے وقت اچانک ہی بے خیالی میں حمید کا دایاں ہاتھ پیچھے ہٹا… اور پھسل کر سیدھا مہرین کی رانوں کے درمیان چلا گیا۔
حمید کی ہتھیلی شلوار کے اوپر سے سرکتی ہوی سیدھا اس کی سگی بیٹی کی جوان چوت کے گرم نرم گوشت سے جا لگی۔ مہرین کے دونوں رانوں کے درمیان، شلوار کے کپڑے کے اوپر سے، اس کی انگلیاں دب گئیں۔ ایک لمحے کے لیے سب کچھ رک سا گیا۔
حمید نے جیسے ہی محسوس کیا کہ اس کا ہاتھ مہرین کی رانوں کے درمیان ہے، ایک دم ہاتھ ہٹا لیا۔ دل زور سے دھڑک رہا تھا، پیشانی پر پسینہ آ گیا تھا۔ اس نے فوراً گیئر پکڑ لیا اور نگاہیں سڑک پر جما لیں۔
حمید سے یہ حرکت ہوی تو بے خیالی اور بہت اچانک تھی
مگر اس اچانک حرکت کی وجہ سے اب مہرین کی نفسیاتی کیفیت بالکل الٹی ہو چکی تھی۔
صبح جب ابو کا ہاتھ اس کی رانوں کے درمیان پھسلا تھا، تو پہلے لمحے میں اسے سخت جھٹکا لگا تھا۔ شرم، خوف، اور ایک عجیب سی گھبراہٹ۔
اس دن مہرین کے اندر کچھ اور ہی حالت ہونے لگی تھی
عورت کی پکار
یہ فقط میرا اک عضو نہیں
جادو کی ڈبیا ہے
اس میں پوری کائنات بستی ہے
تخلیق کے آغاز سے لیکر
میرے بھائی کی غیرت تک
میرے شوہر کی مردانگی سے لیکر
باپ کی عزت تک
اس سے واعظ کا گھر چلتا ہے
دلال اسں سے روٹی کھاتا ہے
فلسفیوں نے کتابیں لکھی
شاعروں نے دیوان سجائے
عاشق اسی پر مارے گئے
خودکشی اسی کا سکھایا ہے
یہ فقط میرا اک عضو نہیں
جادو کی ڈبیا ہے
یہ بیغرت رات 11 بجے اپنی سگی ماں پر سواری کرنا چاہتا تھا لیکن بدقسمتی سے ماں نے انکار کر دیا اور الٹا ایف آئی آر بھی درج کروائی ۔
یہاں پر ایسا کوئی لڑکا ہے جو کامیاب ہوچکا ہے ؟