@Ali_MuhammadPTI تحریک انصاف میں موروثیت کی بناء پر لیڈرشپ کی کوٸی گنجاٸش نہیں ہے اس حد تک تو متفق ہوں مگر جب ساری کی ساری قیادرت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ جاٸے اور نظریات پر، پارٹی لیڈر کی قید پر سمجھوتہ کرلے تو علیمہ خان موروثیت نہیں بلکہ اپنے سٹینڈ اور پرفارمنس کی بنیاد پر تحریک کو لیڈ کریں گی
ایران کو چاہیے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دے۔ ایک بھی جہاز گزرنے نہ دے۔ باب المندس بھی یمنی اتحادیوں سے بند کروا دے۔ اور تب تک بند رکھے جب تک امریکہ ایران کے نزدیک عرب ممالک سے آخری فوجی نکال کر نہيں لے جاتا اور اڈے بند نہيں کر دیتا۔
ہوشیار خبردار
امریکہ اور اسرائیل دوبارہ جنگ میں نئے بیانیے کے ساتھ آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ مغربی میڈیا امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی جنگ کو اس دفعہ قانونی بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایک منصوبے کے تحت دو کارگو بحری جہازوں کو آبناۓ ہُرمز سے ایران کے دئیے گئے راستے سے گزرنے کی بجاۓ آبناۓ ہُرمز میں دئیے گئے راستے سے ذرا ہٹ کر گزارنے کی کوشش کی گئی، ایران کے کنٹرول ٹاور نے وارننگ کے بعد دونوں جہازوں کو نشانہ بنایا، اور یہاں سے مغربی میڈیا اور اُنکے غلاموں نے ایران کو ولن کے طور پر پیش کرنے کے بیانیے کا آغاز کر دیا۔ یعنی ہمیشہ کی طرح عوام کو بے وقوف بنانے کا بیانیہ میدان میں آ گیا۔
اسکے ساتھ ہی پاکستان میں مغربی میڈیا کے دھائیوں سے ایجنٹ اور غلام میدان میں آ چکے ہیں۔
لیکن فکر کی بات نہیں، میں ہوں نا، عوام کو بے وقوف نہیں بننے دوں گا۔
یاد رکھیں کہ کراۓ کا صحافی تخلیق اور ریسرچ دونوں سے محروم ہوتا ہے، کیونکہ اُسکا قلم پیسے سے چلتا ہے۔
آج کراۓ کا صحافی کہہ رہا ہے کہ ایران مس کیلکولیشن کر رہا ہے، بھاڑے کے صحافی اور مغربی میڈیا کے مطابق تو ایران 47 سال سے مس کیلکولیشن کر رہا تھا، لیکن پھر ایران نے ان سب کی آنکھیں کھول دیں بلکہ بہت کچھ کھول دیا۔
چلیں آج پھر پشین گوئ کر دیتا ہوں کہ ایران کے زلزلے کے آفٹر شاکس جاری رہیں گے۔ امریکہ اور اسرائیل اس دلدل میں پھنستے چلے جائیں گے۔پھر بتا دیتا ہوں کہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران چوتھی سُپر بن چکا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان کیلئے سُنہری موقع ہے، اسلامی ممالک کیلئے سنہری موقع ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کیلئے اس جنگ میں ذلت اور تباہی ہے۔
سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی 35 سال کی بدمعاشی ختم ہونے کا وقت آ چکا ہے۔
بھاڑے کے صحافی کو کیا پتہ کہ ایران نے ایک سو سال کی دفاعی سٹرٹیجی میں مضبوط ائیر فورس کے کردار کو غیر ضروری بنا دیا، ائر کرافٹ کیرئر کی سو سالہ تاریخ کے بعد محض ایک فیشن شو کے درجے پر لا کھڑا کیا، دُنیا کے اربوں ڈالر کے امریکی اور اسرائیلی ائیر ڈیفنس سسٹم کو ناکام بنا دیا، آبناۓ ہُرمز پر دُنیا کی بیس فیصد معیشت کا انحصار ایران پر شفٹ ہو گیا۔
افسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام دھائیوں تک بھاڑے کی صحافت کی مرہون منت رہی، صحافت میں حق اور سچ بولنے والے صحافی ہمیشہ اقلیت میں رہے اور مسلسل قُربانیاں دیتے رہے، جبکہ بھاڑے کے صحافی مال بناتے رہے اور عوام کو مس گائیڈ کرتے رہے۔
Everyone can see horizon, few can see beyond
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
جج اگر جج ہوتا...
جج اگر جج ہوتا تو پاکستان میں آگ نہ لگی ہوتی۔
جج اگر جج ہوتا تو آزاد کشمیر میں ہنگامے نہ ہوتے۔
جج اگر جج ہوتا تو خیبر پختونخوا میں ڈرون حملے نہ ہو رہے ہوتے۔
جج اگر جج ہوتا تو بلوچستان میں خون کی ہولیاں نہ کھیلی جا رہی ہوتیں۔
جج اگر جج ہوتا تو عوامی مینڈیٹ کا احترام ہوتا، عوام کے ووٹ پر ڈاکا نہ ڈالا جاتا۔
جج اگر جج ہوتا تو انتخابی دھاندلی کے خلاف دائر اپیلیں محض تکنیکی بنیادوں پر مسترد نہ کی جاتیں۔
جج اگر جج ہوتا تو ہر شہری کو بلاامتیاز آئین اور قانون کے مطابق انصاف ملتا۔
جج اگر جج ہوتا تو سویلینز کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں نہ ہوتا۔
جج اگر جج ہوتا تو ملٹری ٹرائل کے بعد 300 دن گزرنے کے باوجود اپیل کا حق معطل نہ رہتا۔
جج اگر جج ہوتا تو ماورائے عدالت قتل کے ہر الزام کی آزادانہ تحقیقات ہوتیں اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوتا۔
جج اگر جج ہوتا تو عمران خان قیدِ تنہائی میں نہ ہوتے، اور ان کی ملاقاتیں بند نہ ہوتیں۔
جج اگر جج ہوتا تو 9 مئی کے مقدمات پر اٹھنے والے ہر قانونی سوال کا فیصلہ صرف آئین اور قانون کی روشنی میں ہوتا۔
جج اگر جج ہوتا تو تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان نہ چھینا جاتا۔
جج اگر جج ہوتا تو اپنے ہی ججوں کو انصاف دینے میں بھی کوئی تامل نہ کرتا۔
جج اگر جج ہوتا تو سعد رضوی اور انس رضوی کے مقدمات پر بروقت اور مؤثر کارروائی ہوتی۔
جج اگر جج ہوتا تو سانحۂ مریدکے پر جوڈیشل کمیشن قائم ہو چکا ہوتا۔
جج اگر جج ہوتا تو سانحۂ منہاج کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا چکا ہوتا۔
جج اگر جج ہوتا تو صفری بی بی کیس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا چکا ہوتا۔
جج اگر جج ہوتا تو مفادِ عامہ کے مقدمات میں عوام کے حقوق کو اولین ترجیح دی جاتی۔
جج اگر جج ہوتا تو آئین کی بالادستی ہر طاقت، ہر دباؤ اور ہر مصلحت سے بالاتر ہوتی۔
جج اگر جج ہوتا تو انصاف صرف ہوتا ہی نہیں، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آتا۔
مگر افسوس... صد افسوس!
آج عوام یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کیا جج واقعی آزاد ہے؟
اگر جج آزاد ہوتا تو انصاف بھی آزاد ہوتا۔
اگر جج آزاد ہوتا تو آئین بھی مضبوط ہوتا۔
اگر جج آزاد ہوتا تو عوام کا اعتماد بھی قائم ہوتا۔
افسوس... آج جج، جج نہیں بلکہ نوکر دکھائی دیتا ہے۔
پہلے فوج نے بلوچستان پر قبضہ کیا
پھر اس کے وسائل لوٹے
پھر اپنی کٹھ پتلیوں کو نوازا
پھر عام عوام کو بربریت کا نشانہ بنایا
اب علیحدگی پسندوں سے لڑنے میں بھی ناکام ہیں
مطلب آئی ایس آئی کی ذیلی کمیٹی نے جاکر ان رہنماؤں سے ملاقات کی جن سے پوری پی ٹی آئی قیادت کو ملنے پر پابندی ہے، ماسوائے ڈبو جی اور عسکرانڈو ٹیم کے۔ واہ جی واہ۔ اور اوپر سے یہ ڈرامہ بھی مائنس عمران خان فارمولے پر مشتمل ہے۔ کرلو گل۔ بھائی عوام اس ڈفر ٹائپ فارمولے کو مسترد کرچکی۔
Pakistani cleric Mufti Taqi Usmani says #Crypto purchases are "impermissible!"
Meanwhile corruption and money laundering could continue as usual.
Banning the future of money while blessing the present of graft, that's truly protecting the faith from the wrong enemy. 😐
#Bitcoin #eth #doge #Trump
It's evident that General Asim Munir and his puppet PM Sharif are not a part of the US-Iran negotiations at any stage. Both sides always knew that Munir is a "deceiver" and cannot be trusted.
اسحاق ڈار اکثر قرآن مجید کی آیات پوسٹ کرتے ہیں۔ یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ وہ اب لوٹ مار اور منی لانڈرنگ چھوڑ کر متقی بن چکے ہیں۔
اس کے رشتے داروں نے فارن خواتین بلا کر ان کو یرغمال بنایا ان سے تاوان مانگا اور بعد میں ان کو ریپ کر دیا۔
ریپ کو فقہاء نے زنا بالجبر یا حرابہ کے زمرے میں رکھا ہے۔
قرآن مجید میں زنا بالجبر کی سزا سو کوڑے ہیں اور حکم ہے کہ ایسے بدکارشخص پر رحم نہ کیا جائے اگر تم آخرت پر یقین رکھتے ہو تو۔
یہ سزا غیر شادی شدہ لڑکوں کے لئے ہے۔ لیکن ڈار فیملی کے جو مرد (اسحاق ڈار سمیت) شادی شدہ ہیں اور اس جرم کے مرتکب پائے گئے ہیں انہيں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔
اگر مجھے قید تنہائی میں ڈال دیں تو خیبر پختونخواہ بند کردو
عمران خان
خان صاحب آپ کی رہائی سے زیادہ ضروریخیبر پختونخواہ کی حکومت کے لیے تا حیات بلیو پاسپورٹ ہے افسوس آپ کے حصے میں کھوٹے سکے آئے ہیں ۔آپ کے دشمن کم ظرف و کمینے تھے ہی آپ کے ہاتھوں سے پروان چڑھنے والے بھی احسان فراموش اور کمینے نکلے ۔
بہت سے آوارہ کتے، بلے، کتیاں اور بلیاں عسکرانڈو بریگیڈ کا ٹھپہ لگوانے اور مفتا کھانے ایسے ٹرپ پر جارہے ہیں۔ انگریز کے راج میں تو پھر بھی دم ہلانے پر جاگیر ملتی تھی، مگر یہ ایمان و ضمیر فروش تو بس فری ائیر ٹکٹ، ٹی بریک اور گیسٹ روم پر ہی راضی ہیں