The essence of who we are is our ability to endure immense pain/loss & yet refuse to stay down / A Lion doesn't concern himself with the opinion of Sheeps.
امیر عباس نے سید علی حیدر کو لتاڑ کے رکھ دیا۔۔۔!
کیا عمران خان یا تحریک انصاف کی حکمت عملی درست ہے؟ کہ ہر چھ مہینے بعد احتجاج کی کال دیں، اور پھر کچھ لیڈرز گرفتار ہو جائیں اور کچھ کارکن؟ سوال
ہاں عمران خان کی یہ حکمت عملی بلکل درست ہے، کیونکہ یہ تحریک عمران خان کی رہائی کے لیے نہیں ہے، عمران خان تین سال جیل میں رہ کر لوگوں کو سمجھا چکا ہے، کہ یہ جدوجہد ملک میں رول آف لاء کی ہے،
اور تحریک ایک دو روز کی نہیں ہوتی، الجیریا میں 132 سال تحریک چلی تھی، شروع کسی نے کی تھی اور اس کے اختتام پر کوئی اور لیڈر تھا، برطانوی راج کے خلاف برصغیر میں تحریک 1857ء میں شروع ہوئی تھی، اور اختتام 1947ء کو ہوا تھا، 90 سال لگے تھے اس تحریک کو اور وہاں گاندھی لیڈر بنا اور یہاں قائد اعظم،
آج بھی اگر ایک تحریک عمران خان نے شروع کی ہے تو ہو سکتا ہے یہ طویل جدوجہد ہے کیونکہ لوگ تھک چکے ہیں اس نظام سے، امیر عباس
The breast is not just feeding the baby. It is reading the baby.
When a baby feeds at the breast, the same suckling action that draws milk out also pulls a small amount of the baby's saliva back into the nipple and into the milk ducts. Scientists call this "retrograde duct flow".
This hypothesis was put forward by lactatiom biologists and they are gathering evidence through research - If the baby is sick, that backwashed saliva carries traces of the infecting pathogen into the mother's breast tissue. Her immune system detects it, identifies the threat, and begins manufacturing targeted antibodies. These then appear in the very next feed of milk delivered to the sick infant.
Human studies have steadily supported this. Riskin et al. (2012), published in Pediatric Research, demonstrated that when nursing infants were ill, their mothers' milk showed a dramatic surge in white blood cells, particularly macrophages, along with raised levels of TNF-α, a key inflammatory signal. These levels fell back to normal once the baby recovered. Mothers of healthy babies showed no such changes.
Hassiotou et al. (2013), in Clinical and Translational Immunology, confirmed that both maternal and infant infections trigger a rapid leukocyte response in breast milk. Then a landmark 2022 study in Nature provided the clearest mechanistic proof yet. It tracked a virus from an infected mouse pup's saliva, through the nipple, into the mother's milk ducts, and demonstrated a subsequent antibody surge in her milk.
Taken together, the evidence describes a mother and infant in quiet, continuous biological dialogue through the breast. Illness whispered through saliva. Answered in medicine. Still remains a hypothesis but the evidence is piling up.
ہندوستان میں اسلام تلوار سے نہیں آیا، بھارتی سیاستدان ششی تھرور انتہائی خوبصورت انداز سے تاریخ سمجھا رہے ہیں، جو ہمارے مولوی حضرات کو سمجھانی چاہیے تھی
ہندو بادشاہ کا مدینہ کا سفر، عرب دنیا کے باہر پہلی مسجد
Whenever we see or hear the name Samsung, we instantly think of Mobile phones or electronic products!
But did you know Samsung's humble beginning was with a Grocery store?
A thread on the Brand's history, Fun facts, and how South Korea is dependent on Samsung!
Do retweet :)
سعودی عرب میں مقیم ایک پردیسی بتاتا ہے کہ ایک دن میرے کفیل نے زکات تقسیم کرنے کا ارادہ کیا۔ مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ گاڑی میں زکات کے لفافے رکھے گئے تھے، ہر لفافے میں پانچ ہزار ریال تھے۔ یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ ہم دونوں ساحلی علاقے کے دیہات کی طرف نکلے جہاں غربت اور محرومی کا بسیرا ہے۔
ایک گاؤں سے نکل کر جدہ جازان شاہراہ پر آئے تو دور سے ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ جلتی دھوپ میں ایک بزرگ اکیلے، ننگے صحرائی راستے پر چل رہے تھے۔ عمر بظاہر ستر برس یا اس سے کچھ زیادہ تھی، لیکن جسم میں اب بھی قوت باقی تھی۔ دوست نے کہا: "یہ بزرگ اس بیابان میں کس حال میں بھٹک رہے ہیں؟" ڈرائیور نے کہا: "یقیناً یہ کوئی یمنی ہے، غیر قانونی راستے سے آیا ہوگا۔"
گاڑی روکی گئی، بزرگ کے قریب گئے اور سلام کیا۔ پوچھا: "کہاں سے آئے ہو؟" بولے: "یمن سے۔" پھر سوال کیا: "کہاں جا رہے ہو؟" جواب ملا: "مکہ مکرمہ، بیت اللہ کے دیدار کو، عمرہ کرنے۔"
ہم نے کہا: "قانونی طریقے سے آئے ہو؟"
بولے: "نہیں، میرے پاس اتنے وسائل کہاں۔ داخلے کے لئے دو ہزار ریال ضمانت دینا لازمی تھا ، اور میرے پاس کل دو سو ریال تھے۔ ایک سو سواری پر خرچ ہو گئے، ایک سو باقی ہیں۔ اس کے بعد پیدل چل رہا ہوں۔"
دوست نے پوچھا: "کتنے دن ہو گئے چلتے ہوئے؟"
بولے: "چھ دن سے مسلسل سفر میں ہوں۔"
پھر سوال کیا گیا: "روزے سے ہو؟"
بولے: "جی ہاں، صائم ہوں۔"
یہ سن کر ہم سب حیران رہ گئے۔ دھوپ، بھوک، پیاس، طویل سفر اور پھر بھی روزہ! ہم نے پوچھا: "یہ سب چوکیوں سے کیسے گزر گئے؟"
بزرگ نے کہا: "اس رب کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں ہر چوکی کے پاس سے گزرا لیکن کسی نے روکا ہی نہیں ۔"
انہوں نے مزید بتایا: "کچھ دیر پہلے تو ایک گشتی پارٹی نے پکڑا بھی تھا اور تھانے لے گئی۔ مگر جب میں نے کہا کہ میرا مقصد صرف بیت اللہ کی زیارت ہے تو انہوں نے رہا کر دیا۔"
یہ سن کر ہمارے دل کانپ گئے۔ سبحان اللہ! اللہ نے اس بندے کے لئے خود راستے آسان کر دیئے۔ میرے کفیل صاحب نے بے اختیار دو لفافے بزرگ کے ہاتھ میں تھما دیئے۔ انہوں نے شکریہ ادا کیا مگر انہیں اندازہ نہ تھا کہ اس میں کتنی رقم ہے۔ میں نے کہا: "لفافے کھولو اور پیسے محفوظ کر لو۔" جب انہوں نے لفافے کھولے اور دیکھا کہ دس ہزار ریال ہیں تو حیرت و صدمے سے گاڑی میں گر پڑے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور زبان پر یہی الفاظ تھے: "یہ سب میرے لئے؟ یہ اتنی بڑی رقم سب میرے لئے؟"
ہم نے انہیں ہوش میں لانے کے لئے پانی چھڑکا۔ ہوش آیا تو کہنے لگے: "میرا یمن میں ایک چھوٹا سا گھر ہے۔ اس کے ساتھ ایک زمین تھی جسے میں نے اللہ کے نام پر وقف کر دیا۔ اسی پر میں نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر مسجد تعمیر کی۔ عمارت مکمل ہو چکی ہے، مگر فرش اور کچھ چیزیں باقی ہیں۔ میں اسی فکر میں تھا کہ کہاں سے رقم آئے گی۔ آج اللہ نے آپ کے ذریعے مجھے وہ عطا کر دی ۔"
یہ سن کر ہماری آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو گئے۔ اس وقت دل میں رسول اکرم ﷺ کا فرمان گونج اٹھا:
"جس کا مقصد آخرت ہو، اللہ اس کے دل میں غنا ڈال دیتا ہے، اس کے کاموں کو سمیٹ دیتا ہے اور دنیا خود اس کے پاس جھک کر آتی ہے۔ اور جس کی فکر صرف دنیا ہو اللہ اس کی محتاجی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اس کے معاملات کو منتشر فرما دیتا ہے اور اسے دنیا سے وہی ملتا ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔"
میرے کفیل نے اشارہ کیا اور مزید دو لفافے بزرگ کے حوالے کر دیئے۔ یوں کل رقم بیس ہزار ریال ہو گئی۔ بزرگ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی تھم ہی نہ رہی۔ وہ مسلسل دعائیں دیتے رہے اور بار بار دہراتے رہے: "اللہ نے پرندوں کی طرح مجھے رزق پہنچا دیا۔"
واقعی وہ لمحہ تھا جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ یاد آ گئی:
"اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسا کہ حق ہے تو اللہ تمہیں ویسے ہی رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتے ہیں۔"
یہ قصہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ جو بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے در کو پکڑ لے، اس کے لئے راستے آسان ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعہ صدق دل سے نکلی دعا اور توکل کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ دولت نصیب فرمائے۔ آمین
#copied
How did Geo Fact Check verify the video of Aleema Khanum’s interview on Sky News?
- We reviewed the live Sky News broadcast from the day the interview aired. Yalda Hakim did not ask any question about India and Pakistan, and Aleema Khanum did not make the statement circulating online.
- The audio was analysed using Hiya, a deepfake voice detector, which gave it an authenticity score of 1 out of 100.
- Yalda Hakim herself also confirmed that the video is fake.
https://t.co/x4RzcQI0Tw
Had a 1:1 with our new hire yesterday.
I asked him what the company could do better.
He said, “I’ve been working 12 hours a day for 3 months now and I wish that could change.”
I nodded and agreed.
We’ve now put him on a 16-hour shift.
Always listen to your employees.
انڈین پولٹیکل سائنس کےاسٹوڈینٹ نے کیا کمال طریقے سے بتایا ہے کہ:
( Why Constitution Matters )
جو لوگ کہتے ہیں کانسٹیٹیوشن کو ہٹا دو گورنمنٹ اپنی پارٹی کی چن کو سب سیٹ ہو جائے گا مرغا ہو کر KFC کے مینجر کو ڈیفنڈ مت کریں۔
کانسٹیٹیوشن کو ڈیفنڈ کریں ورنہ کٹنا طے ہے آپ سوچ رہے ہوں گے ہم کو نہیں مارے گا،کالے والے مرغے کو مارے گا،چھوٹے والے مرغے کو مارے گا،تو ایسا نہیں ہوتاہے۔یا تو گورئمنٹ سب کی ہوتی ہے یہ کسی کی نہیں ہوتی ۔
یہی ہے وہ نام نہاد جمہوریت (ذاتی مفاد اور ہوس اقتدار والی) جو ان دونوں پارٹیوں کو موافق آتی ہے اور جس میں عوام/جمہور کا کوئی حصہ نہیں اور یہی وہ خود غرض سیاست ہے جو٬ بقول ان سیاست دانوں کے٬ عمران خان کو نہی آتی اسلیے وہ فاشسٹ ٹہرا۔
اپنے ملک میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر اقتدار میں آنا، پھر انہی غیر سیاسی قوتوں کے اشاروں پر آئین، عدلیہ اور جمہوری اقدار کو روند ڈالنا لیکن بیرونِ ملک انتخابات میں عوام کی حق رائے دہی پر خوش ہونا، اسے ترقی پسندوں کیلئے قابل فخر اقدامات قرار دینا، یہ صرف منافقت نہیں، بلکہ قومی بددیانتی اور سیاسی دوغلے پن کی بدترین مثال ہے !