عمران خان اس وقت مکمل تنہائی میں ہیں، نہ کسی سے رابطہ ممکن ہے، نہ ملاقات کی اجازت ہے۔ یہ انسانی ��ور سیاسی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اگر ہم آج خاموش رہے، تو کل ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اب خاموشی اختیار کرنا مجرمانہ غفلت ہوگی۔
@Aleema_KhanPK
#ReleaseImranKhan
جس کی حکومت گرائی
جس کے گھر حملہ کیا
جس کے گھر کی چادر اور چار دیواری پامال ہوئی
جس پر بار بار قاتلانہ حملہ کیا
جس کی پارٹی توڑ دی
جس کا انتخابی نشان لے لیا
جس پر جھوٹے کیس بنائے
جس کو عدالت کے احاطے سے اغوا کیا
جس کو جیل کی قید میں بھی ہر ظلم کر کے توڑنے کی کوشش کی
وہ آج بھی عوام کی ��گوں میں دوڑ رہا ہے اور ظلم کرنے والے ظالم آئین اور قانون توڑ مروڑ کر اقتدار چھین کر ، آج بھی خوف زدہ ہیں ۔۔!!
#مزاحمت_ہوگی_تو_رہائی_ہوگی
"میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے" @ImranKhanPTI
#فیصلہ_کن_تحریک
انتہائی تہلکہ خیز انکشاف 🚨
ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف ایک ٹریفک وارڈن کو جھوٹا گواہ بنایا تھا, جب ڈاکٹر یاسمین راشد کمرہ عدالت میں ائی اس نے قرانی ایات پڑھی, گواہ بغیر گواہی چلا گیا۔
یہ اتنی بڑی خبر سوشل میڈیا پر وائرل کیوں نہیں ؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ جو لوگ اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں، انہیں امریکہ کا ویزہ نہیں دیا جائے گا۔
نواز شریف، مریم نواز اور طاقتور لوگ کیو�� اسرائیل کا نام نہں لیتے اب سمجھ آگئی ہوگی؟
فیلڈ مارشل ایک اعزازی عہدہ ہوتا ہے جو ناممکن کو ممکن بنانے پر نوازا جاتا ہے جیسا کہ عاصم منیر کو الیکشن میں 17 سیٹیں حاصل کرنے والوں کو 180 پر برتری دینے پر ایک دوسرے کے پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پہ گھسیٹنے والوں کی اتحادی حکومت سے دلوایا گیا۔
" ہر دور میں یزید ہوتے ہیں جو لوگوں کو ڈرا دھمکا کے، خوف طاری کر کے اور دہشت پھیلا کر کنٹرول کرتے ہیں۔ میرے پاکستانیو، یاد رکھو "لا الہ الا اللہ" - کوئی نہیں ہے خدا اللہ کے سوا۔" کپتان عمران خان
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پ��چھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
جو ظلم اس وقت چل رہا ہے ایسا ظلم تو جنرل ضیاء کے مارشل لاء میں بھی نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود ہم اس نظام کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد جاری رکھیں گے، سلمان اکرم راجہ
https://t.co/2CaEhma4zE
@salmanAraja
حق سچ کی توانا آواز زبیر علی خان سے روزگار چھین لیا گیا۔ وی نیوز کی انتظامیہ ایک فون کال پر ڈھیر ہوگئی اور زبیر علی خان کو نوکری سے فارغ کردیا گیا۔ وی نیوز کا بغیر نوٹس زبیر علی کو terminate کرنے پر وی نیوز کو حساب دینا ہوگا۔ آر آئی یو جے اس پر اپنا لائحہ عمل دے گی۔