اگر آپ کا واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے درست اقدام اٹھائیں۔ چند آسان مراحل کے ذریعے اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔
مزید آگاہی کے لئے ویڈیو ملاحظہ کریں، خود کو محفوظ رکھیں اور دوسروں کو بھی باخبر کریں۔
#WhatsAppSafety#StaySafeOnline#CyberAwareness #PublicAdvisory #DigitalSecurity #Pakistan
غموں میں ڈوبنا کیسا ؟
مجھے ساحل بنا لو تم
جو تیرے واسطے دھڑ کے
مجھے وہ دل بنا لو تم
تیری آنکھوں میں بس جائے
مجھے وہ تصویر بنا لو تم
سنو ! اک بات کہنی ہے
مجھے اپنے دل میں بسا لو تم
@_itsjarry15
20 نومبر 1916 یومِ پیدائش
احمد ندیم قاسمی
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا
چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں
اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا
کاش عمر رواں ٹھہر جائے
کوئی مڑ مڑ کے دیکھتا ہے مجھے
اختر شمار
17 اپریل 1960.... یومِ پیدائش
منتخب اشعار
.................
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں
......
ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا
نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون
.......
وہ مسکرا کے کوئی بات کر رہا تھا شمارؔ
اور اس کے لفظ بھی تھے چاندنی میں بکھرے ہوئے
......
مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا
خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے
......
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
......
تو نے ایک عمر کے بعد پوچھا ہے حال دل
وہی درد و غم وہی حسرتیں مرے ساتھ ہیں
.....
میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا
وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا
......
پہاڑ بھانپ رہا تھا مرے ارادے کو
وہ اس لیے بھی کہ تیشہ مجھے اٹھانا تھا
......
میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا
یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے
.......
میں گھر کو پھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھ
کہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا
.......
مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر
مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے
..........
شبنم آلود پلک یاد آئی
گلِ عارض کی جھلک یاد آئی
پھر سلگنے لگے یادوں کے کھنڈر
پھر کوئی تاکِ صنک یاد آئی
کبھی زلفوں کی گھٹا نے گھیرا
کبھی آنکھوں کی چمک یاد آئی
پھر کسی دھیان نے ڈیرے ڈالے
کوئی آوارہ مہک یاد آئی
پھر کوئ نغمہ گلو گیر ہوا
کوئی بت نام کسک یاد آئی
ذرّے پھر مائلِ رَم ہیں ناصر
پھر اُنھیں سیرِ فلک یاد آئی
― ناصر کاظمی
گلابوں کی طرح دل اپنا شبنم میں بھگوتے ہیں
محبت کرنے والے خوبصورت لوگ ہوتے ہیں
کسی نے جس طرح اپنے ستاروں کو سجایا ہے
غزل کے ریشمی دھاگوں میں یوں موتی پروتے ہیں
پرانے موسموں کے نام نامی مٹتے جات�� ہیں
کہیں پانی کہیں شبنم کہیں آنسو سے دھوتے ہیں
یہی انداز ہے میرا سمندر فتح کرنے کا
مری کاغذ کی کشتی میں کئی جگنو بھی ہوتے ہیں
سنا ہے بدرؔ صاحب محفلوں کی جان ہوتے تھے
بہت دن سے وہ پتھر ہیں نہ ہنستے ہیں نہ روتے ہیں