پاکستان اشرافیہ کی ایسی چراہگاہ بن چکا ہے جس میں عوام بیگار کاٹ رہے ہیں،وہ سارا دن ہل جوتتے، پانی لگاتے اور پنیری لگاتے ہیں،اور اشرافیہ کے اسوار اس چراہگاہ میں پہنچ کر سارا سبزہ چر جاتے ہیں اور گھاس پھونس بچ جاتا ہے۔
آپ کو چند مثالوں سے واضح کرتا ہوں، یہ شوگر ملز کے مالکان کون ہیں؟ یہ ہر سال حکومت سے سبسڈی کیسے لیتے ہیں؟ہر کابینہ ان کے حق میں قانون سازی کیسے کرتی ہے؟ ہر سال سرپلس پروڈکشن کیسے ہوتی ہے؟پھر وہ پروڈکشن غائب کیسے ہوتی ہے؟ پھر عوام کی جیب سے پیسہ چوری ہو کر کن کی جیبوں میں جاتا ہے؟
سیمنٹ کا نرخ کس طرح سے صرف ایک دو روپے کے فرق سے ملتا جلتا ہی کیوں ہوتا ہے؟جب کہ لاگت تو سب کی ایک سی نہیں ہوسکتی؟ بیس سال تک ہنڈا ایٹلس، ٹویوٹا پاکستان اور سوزوکی ایک ہی دن نرخ کیسے بڑھا لیتے ہیں؟ اور ان کا قیمت فروخت میں اضافہ ایک جتنا ہی کیوں ہوتا ہے؟
پاکستان کی تمام لارج سکیل انڈسٹری چند مخصوص ہاتھوں میں ہی کیوں ہے؟
کھاد کا کام کون کرتا ہے؟کھاد کے نرخ کون کنٹرول کرتا ہے؟کسانوں کے جیب سے پیسہ چوری کرکے کن کی جیبوں میں جاتا ہے؟
یہ کوئی ایسا معمہ نہیں ہے جو کسی بھی معاملہ فہم انسان سے چھپا ہوا ہو۔
ایسا کیوں ہے کہ الیکشن کی لاگت بیس کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے؟ یعنی اس کلب میں عوام کا کوئی بندہ شامل ہو ہی نہیں سکتا۔
اسمبلیوں میں آپ ایک درجن مڈل کلاس کے بندوں کی مثال دے سکتے ہیں؟
یہ جو لوگ پالیسی بناتے ہیں ان کا عوام کے مسائل سے کیا لینا دینا ہے؟ احسن اقبال، اسد عمر، خسرو بختیار، نوید قمر،اورنگزیب رمدے یا شوکت ترین کو کبھی زندگی میں ایک بار بھی معاشی تنگی محسوس ہوئی ہوگی؟
آپ کو کیا لگتا ہے کہ آنے والا بجٹ آپ کے لئے کوئی ریلیف لا سکتا ہے؟ آپ کی زندگیوں کو آسان بنائے گا یا آپ کے جہنم میں ایندھن کا اضافہ کرنے کی کوشش ہی ہوگا؟پچھلے دس سال میں آپ کسی ایسی قانون سازی کا بتا سکتے ہیں جس کا عوام کو براہ راست کوئی فائدہ ہوا ہو؟
آپ کو لگتا ہے کہ الیکشن کو سستا کرنا قانون ساز اسمبلی کے لئے مشکل کام ہے؟ ملک کی تینوں بڑی جماعتیں ایسے بلدیاتی نظام کے خلاف کیوں ہوں جس میں مالی اختیارات نیچے چلے جائیں؟ اور عام آدمی سٹیک ہولڈر بن جائے؟
ابھی چند ذہنی غلام آ کر آپ کو بتائیں گے کہ اگر عمران خان کو نہ ہٹایا جاتا تو سب ٹھیک ہوجاتا، کچھ کہیں گے کہ تیرہ سے اٹھارہ تک ملک اوپر اٹھ رہا تھا اور کچھ احمق ترین لوگ آپ کو بتائیں گے کہ صرف جاگیرداروں کی ایک جماعت کو ہی علم ہے کہ معیشت اوپر کسیے جانی ہے۔
یہ سب رانگ نمبرز ہیں،جھوٹے ہیں، فراڈ ہیں۔
کامران طفیل
پاکستان پیپلز پارٹی کا تاریخی کارنامہ:
آئین شکنی کے خلاف آرٹیکل 6 مزید سخت شقیں
مارشل لا کے چور دروازے بند
صدر کے اختیارات کم
پارلیمنٹ بااختیار بنایا گیا
عوامی طرزِ حکمرانی کے لیے مضبوط بنیاد
جمہوریت کی اصل طاقت
عوام کی جیت!
بیشک
جمہوریت بہترین انتقام ہے
@BBhuttoZardari
Politically May have many disagreements
But right now No excuse No justification, simply standing with team #AuratMarch & Sheema Kirmani Ji 🙏🏻
As political worker at least in #Sindh under #PPP I expect democratic behaviors
جوانی اور بڑھاپے کا فرق
باہر نکلتے ہی میں نے دلبر سے کہا کہ کسی جوان سے میوزیم کا راستہ پوچھو۔ ایک نوجوان نے راستہ یوں بتایا "سیدھے چلے جائیے، ایک سینما آئے گا وہاں سے داہنی طرف مڑ جایئے جہاں لڑکیوں کا ہوسٹل ہے وہاں سے بائیں طرف، آگے بار آئے گی پھر تھئیٹر، میوزیم بالکل سامنے ہو گا"۔
اب کسی بوڑھے سے پوچھو
بوڑھے نے کہا "اگلے چوک پر جو گرجا ہے وہاں سے دہنی طرف مڑ جائیے، جہاں قبرستان وہاں سے پھر دہنی طرف، اس کے آگے ایک اور گرجا ہے، بائیں طرف جہاں ہسپتال آئے گا وہاں سے میوزیم دہنی طرف ہے۔"
دیکھا؟ جوانی اور بڑھاپے کا فرق
شفیق الرحمان۔ ڈینیوب
ڪراچي:
#InternationalMotherLanguageDay#سنڌي_ٻولي_قومي_ٻولي
مادري ٻولين جو عالمي ڏهاڙو انسانيت جي تهذيبي سڃاڻپ، قومي وقار ۽ ثقافتي بقا جو علامتي ڏينهن آهي. ٻولي، رڳو اظهار جو وسيلو يا رابطي جو ذريعو نہ، پر قومن جي تاريخ، فڪر، احساس ۽ شعور جي حامل هوندي آهي. سيد زين شاھ
#SUP
َانسان کو شرمندہ تو ہونا چاہیے: جب وہ پڑھتا نہیں، کچھ علم نہیں حاصل کرتا، کچھ سیکھتا نہیں ، تدبر نہیں کرتا، سوچتا نہیں اور پھر بھی وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے، اور یہ گمان کرتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔
انسان کو شرمندہ ہونا چاہیے: جب وہ اپنے گزرے ہوئے آباؤ اجداد کے ماضی پر فخر کرتا ہے اور اس کا اپنا حال پسماندہ اور بدبختوں والا ہو۔
انسان کو شرمندہ ہونا چاہئے: جب اس کا معاشرہ جس میں وہ رہتا ہے بری طرح سے ناکام ہو چکا ہو ، اور وہ اس معاشرے کو اور دنیا کو تبدیل کرنے کے لیے کچھ بھی پیش نہ کر سکتا ہو۔
مصری ڈاکٹر ادیب
نوال السعداوی
ایک اس لڑکے نے الگ ہی دھمال ڈالی ہوئی ہے🐆
امریکہ میں ایسا استقبال میں نے کم از کم کسی پاکستانی وزیراعظم کا اپنی ہوش میں نہیں دیکھا
چاچو چھا چھو گیا اے 🇵🇰 ❤️
واہ مولا!!!
برسوں "ڈان" سے وابستہ رہ کر ریٹائر ہونے والے صحافی اور "روشنی کم تپش زیادہ" نامی کتاب کے مصنف علی اقبال نے 60-1950 کی دہائی کے کراچی شہر کا ایک مزیدار قصہ سنایا تھا۔
یہ وہ وقت تھا جب کراچی کا اُجاڑا ابھی ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی جائیداد پر قبضہ کرنے اور اسے برباد کرنے کے پہلے مرحلے میں تھا۔ اُجاڑے کی باضابطہ شروعات 1974 کے آس پاس ہوئی جب مضبوط ٹرانسپورٹروں نے ٹرام کی پٹریاں اکھاڑ دیں اور شہر اُجڑنا شروع ہو گیا۔ یہ مرحلہ 1977 میں شراب خانوں، نائٹ کلبوں اور موسیقی کے اڈوں کی بندش پر مکمل ہوا۔ ویران شود آں شہر کہ میخانہ ندارد۔
لیکن اس سے کوئی پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے کہ ایک گداگر صدر کی ایک مسجد کے باہر نماز پڑھ کر نکلتے ہوے لالچی دکانداروں اور نچلے درجے کے سرکاری افسروں سے مولا کے نام پر بھیک مانگا کرتا۔ اکثر اسکے ہاتھ میں چھوٹے موٹے سکّے ہی آیا کرتے۔ ایک رات عشا والی شفٹ نمٹا کر وہ مایوس اور تقریباً خالی ہاتھ فٹ پاتھ پر چلا جا رہا تھا کہ اچانک ایک شراب خانے سے نکلتا ہوا کوئی نیم مدہوش شخص اس سے ٹکرا گیا۔ اس نے حسبِ عادت مولا کے نام پر کچھ دینے کی درخواست کر ڈالی۔ شرابی نے چونک کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس روپے کا نوٹ اسے تھما کر لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ اب گداگر نے وہیں ڈیرا جما لیا اور رات ڈھلے تک مالامال ہو گیا۔ وہاں سے خوش خوش جاتے ہوے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر بولا:
"واہ مولا! کہتے کہاں ہو، رہتے کہاں ہو! ۔"
اجمل کمال
🚨ذوالفقار علی بھٹو کیس میں جسٹس صفدر حسین شاہ نے اختلافی نوٹ دیا۔۔ جسٹس صفدر یہاں سے پیدل افغانستان گئے اور وہاں روپوش ہوئے۔۔ وہاں سے وہ لیبیا گئے۔۔ 1988 میں کینسرز سے مرے۔۔ دس سال بعد بے نظیر کی حکومت نے ان کے پچوں کو پینشن جاری کی، جسٹس محسن اختر کیانی
الحمدللہ ۔ میری نئی کتاب "اور تبدیلی گلے پڑگئی" شائع ہوگئ۔ میری خوش قسمتی کہ اس کی تقریب رونمائی قربانیوں اور محبتوں کی سرزمین کے مرکز مظففر آباد میں پاکستان آرٹس کونسل کے زیراہتمام ہوئی۔ کشمیری دانشوروں، شعرا، طلبہ طالبات کی محبتوں اور مہمان نوازی کا شکریہ