سہیل آفریدی پر تنقید صوبے کے بجٹ کے لیے وفاق سے رابطوں پر تنقید نہیں ہورہی۔
سہیل آفریدی پر تنقید اس لیے ہورہی ہے کہ ؛
ڈرون حملوں پر ایف آئی آر دیے بغیر
فوجی آپریشن روکے بغیر
سٹریٹ موومنٹ کے بغیر
اسمبلی کو قانون سازی کے لیے استعمال کیے بغیر
رجیم چینج کے بعد کے واقعات پر تحقیقاتی کمیشن بنائے بغیر
عمران خان کے لیے اڈیالہ جائے بغیر
سہیل آفریدی وفاقی کٹھ پتلیوں سے مل رہا ہے اور اس سب کا مطلب مائنس عمران خان ہے۔
یہ جو کشمیر میں 12 سیٹیں کا ڈرامہ ہے، یہ کشمیریوں کی حق تلفی ہے اور کچھ نہیں۔
ایسا نظام پوری پاکستان میں کسی اور صوبہ میں نہیں ہے، یعنی مقامی کشمیری 33 سیٹیں ہیں اور 12 (33 فیصد) سیٹیں اُن کی جو کشمیر میں رہتے ہی نہیں ہیں۔
یہ جو دہشت گردی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ڈکٹیٹر کا پاکستان: پاکستان کے مسائل حل؛ کم از کم ایک ہزار بندے مار دو۔
کسی بھی نارمل یا مہذب ملک میں ایسے شخص کو نوکری سے نکال کر جیل میں ہونا چاہیے تھا، لیکن یہاں ایک ذہنی مریض نے اسے ترقی دے کر آزاد جموں و کشمیر کا آئی جی پولیس لگا دیا گیا۔
سابق کیپٹن اور جموں و کشمیر کے حاضر ڈیوٹی آئی جی ملک لیاقت علی سول سروسز کے انٹرویو میں فخر سے اپنی ذہنی عدم استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔آفیشل انٹرویو میں اتنی بڑی بات آرام سے کہنا نارمل انسان کی سوچ نہیں ہو سکتی۔
لیکن یہ صرف باتیں نہیں تھیں۔ 9 مئی کے کریک ڈاؤن، زمان پارک آپریشن، انتخابات کی زیادتیاں اور عمران خان کی گرفتاری—جہاں طاقت کا ننگا ناچ ہوا اور شہریوں و کارکنوں کو کچلا گیا، وہاں ان کا نام سامنے آیا۔ انہوں نے اپنی سوچ کو عملی شکل دے دی۔
انعام میں انہیں مزید ٹارگٹ پریکٹس اور ہزار بندے مارنے کا خواب پورا کرنے کے لیے کشمیر کی عوام ملی۔
یہ ہے #عاصم_لاء کی حقیقت۔ یہاں قانون کی بات کرنے والوں کو سزا ملتی ہے جبکہ جو جتنا بڑا ظالم ہو، قانون کو پیروں تلے روند کر طاقت کا راج قائم کرے، اسے بڑے عہدے دیے جاتے ہیں۔ یہ اب قائد یا اقبال کا پاکستان نہیں، ذہنی مریض کا مقبوضہ پاکستان ہے۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
یہ دیکھیے بھائی کشمیر میں اتنے سارے را کے ایجنٹ گھس آے ہیں ‼️
چند بد بخت بیمار ذہنوں اور سیاسی بونوں نے سارے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے آج ملک کے ہر کونے میں اپنے حقوق کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اوکاڑہ کے کسان، گوادر کے باسی قبائلی علاقوں کے مکین سب مل کر آپ سے محض جینے کا حق مانگ رہے ہیں اور آپ کا لالچ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ان کو دو وقت کی روٹی دینے میں بھی قباحت ہے
“ عمران خان جیل میں مر گیا “ اگر آپ کو اس خبر سے رتی برابر بھی تکلیف ہوگی تو تحریک انصاف کی قیادت سے ، سہیل آفریدی سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار مت کیجیے۔ مہینوں سے عمران خان کی کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ شدت کی اس گرمی میں عمران خان کے سیل میں پنکھا بھی چلتا ہوگا یا نہیں۔ پینے کا پانی بھی دستیاب ہوتا ہوگا یا نہیں۔ کھانا بھی ملتا ہوگا یا نہیں۔ اسکے باجود یہ لوگ میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں۔
اگر آپ ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کریں گے تو پھر کسی انتہائی تکلیف دہ خبر کے لیے تیار ہوجائیے۔ یہ لوگ اگر کمزور اور مجبور ہیں تو میدان چھوڑ دیں۔ گھر چلیں جائیں۔ کسی استحکام پارٹی ، کسی مسلم لیگ میں چلے جائیں ، کوئی اور جماعت بنالیں ، لیکن جن چوروں کیساتھ نا عمران خان اقتدار سے پہلے بیٹھا ، نا اقتدار کے دوران بیٹھا نا اقتدار کے بعد بیٹھا ان کیساتھ بیٹھنے سے گریز کریں۔ سختی زیادہ ہے تو سہولت کاری کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور عہدے چھوڑ دیں۔ عوام اپنا رستہ خود نکال لیں گے۔ حالات اپنی قیادت خود پیدا کرلیں گے۔
بغاوت
=======
آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے
میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے
آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف
میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے
جبر-و-سفاکی-و-طغیانی کا باغی ہوں میں
نشئہ قوّتِ انسان کا باغی ہوں میں
جہل پروردہ یہ قدریں یہ نرالے قانون
ظلم-و-عدوان کی ٹکسال میں ڈھالے قانون
تشنگی نفس کے جزبوں کی بجھانے کے لئے
نو انساں کے بنائے ہوئے کالے قانون
ایسے قانون سے نفرت ہے عداوت ہے مجھے
ان سے ہر سانس میں تحریک بغاوت ہے مجھے
تم ہنسوگے کہ یہ کمزور سی آواز ہے کیا
جھنجھنایا ہوا، تھرّایا ہوا ساز ہے کیا
جن اسیروں کے لیے وقف ہیں سونے کے قفس
ان میں موجود ابھی خواہشِ پرواز ہے کیا
آہ! تم فطرتِ انسان کے ہمراز نہیں
میری آواز، یہ تنہا میری آواز نہیں
انگنت روحوں کی فریاد ہے شامل اس میں
سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئ دل اس میں
تہ نشیں موج یہ توفان بنیگی اک دن
نہ ملیگا کسی تحریک کو ساحل اس میں
اسکی یلغار میری زات پے موقوف نہیں
اسکی گردش میرے دن رات پے موقوف نہیں
ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو
خوار رسوا سرِ بازار تو کر سکتے ہو
اپنی قہار خدائی کی نمائش کے لئے
مجھے نزرِ رسن-و-دار تو کر سکتے ہو
تم ہی تم قادرِ مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟
جسمِ انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں
آہ یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر
آدمی نادر-و-چنگیز تو بن سکتا ہے
ظاہری قوت-و-سطوت کی فراوانی سے
لینن-و-ہٹلر-و-انگریز تو بن سکتا ہے
سخت دشوار ہے انسان کا مکمّل ہونا
حق-و-انصاف کی بنیاد پے مکمّل ہونا
سہیل آفریدی وہ بادام ہے جو فوج نے کچہ ہی توڑ لیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بتایا گیا ہے کہ وفاق سے مکمل تعاون کی صورت میں تحریک انصاف کو “ سپیس “ ملے گی۔ محسن نقوی سے ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں یہی طے پایا ہے۔ سہیل آفریدی کو سبز باغ یہ دکھایا گیا ہے کہ عمران خان “ سپیس “ جیسی نعمت ملنے پر خوشی سے پاگل ہوجائیں گے اور سہیل آفریدی کو اس عظیم کارنامے پر اپنا جانشین نامزد کردیں گے۔ فوج بھی مکمل تعاون کے بدلے عمران خان کو سہیل آفریدی کی سفارش کردے گی۔
اس سلسلے میں محمود اچکزئی , بیرسٹر گوہر وغیرہ بھی ضمانتیں دینے اور سہیل آفریدی کو یقین دہانیاں کروانے میں شامل ہیں۔ صدیق جان بھائی اور ان کا اسلام آبادی صحافتی ٹولہ و آئی ایس پی آر اپنے اثاثوں کی مدد سے اور اندر کی خبر والے نیٹ ورک کے ذریعے عمران خان کی رہائی ، سابق آرمی چیف سے ملاقات ، عمران خان قومی حکومت پر رضا مند اور وغیرہ وغیرہ والی خبریں تواتر سے چلا رہا ہے ، تاکہ سہیل آفریدی کو اور یوتھیوں کو یہ تاثر ملتا رہے کہ واقعی کچھ نا کچھ ہورہا ہے۔
تیسرا فیکٹر یہ ہے کہ سہیل آفریدی کو “ ناراض اراکین “ والی جھلکیاں بھی دکھائی جارہی ہیں ، نومئی اور دیگر کیسز پہلے سے موجود ہیں اور دس بیس سال کی قید ، وزارت اعلی کا چھن جانا وہ خوف ہے جو ساتھ ساتھ دکھایا جارہا ہے۔ وزارت اعلی جاتی دیکھ کر علی امین گنڈاپور علیمہ خانم کو ایم آئی کی ایجنٹ کہنے پر اتر آیا تھا سہیل آفریدی بھی اسی ہی کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے۔
فوج کسی نا کسی بہانے سے وقت لیتی جاتی ہے اور اس امید میں ہے کہ کوئی معجزہ ہوگا اور ملکی معاشی و سیاسی حالات بدل جائیں گے۔ اگر چار دن اچھے لگ جائیں جیسے بھارت سے جھڑپوں اور ٹرمپ کی پوسٹس کے دوران ہوا تو اوقات سے باہر ہوجاتے ہیں ، کوئی مشکل آپڑے ، تیل مہنگا ہوجائے ، نئے ٹیکس لگانے ہوں اور احتجاج شروع ہوجائیں جیسا کہ آجکل ہورہا ہے تو ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
فوج کی موجودہ پالیسیز کے ہوتے ہوئے ملکی حالات بہتر ہونے والے نہیں۔ عمران خان کی رہائی موجودہ نظام اور اسکے بینفشریز کی موت ہے۔ کچھ وقت بعد جب سہیل آفریدی پر سوشل میڈیا اور عوام کا دباؤ زیادہ آئے گا اور فوج حسب سابق ، حسب توقع “ سپیس “ نہیں دے گی تو پھر سہیل آفریدی کو اندازہ ہوگا کہ انکے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی کا ڈنگ مکمل نکل چکا ہے۔ عوامی پذیرائی ختم ہوچکی ہے ۔ فوج سہیل آفریدی کو یوتھیوں کے آگے پھینک دے گی ، ویسے ہی جیسے گنڈاپور کو استعمال کرکے پھینک دیا تھا۔ یوتھیے ا س کچے بادام کو چکھے بغیر پھینک دیں گے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔
سردار امان چھا گیا ہے 🙌🏻🔥
ہم ایک ایک محلے میں انکا مقابلہ کریں گے ۔
یہ وطن ہمارا ہے اسکی حفاظت ہم کریں گے یہ وطن ہمارا ہے اسکی خاطر ہم لڑیں گے۔
ہم میں سے ایک بھی واپس نہیں جائے گا ہم ہمت اور حوصلے سے آگے بڑھیں گے۔اگر ہم پر حملہ ہوا تو کوہی واپس نہیں جائے گا ۔
@FarhanKVirk بیشرم جب منہ کھولتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں
بیغیرت جب منہ کھولتے ہیں، زہر گھولتے ہیں
سچ یہ ہے کے یہ اسٹبلشمنٹ وطن فروش غداروں کا جتھا ہے! ایک دن سب پہ آرٹیکل چھ لگے گا بشمول ایسے جھوٹ پھیلانے والوں پر بھی۔
سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا، جب لاٹھ چلے گا بنجارہ
اے یوتھیو ! کشمیریوں کی جدوجہد انکے حقوق کی جدوجہد ہے۔ وہ منظم بھی ہیں اور گولیوں اورشیلنگ کا مقابلہ بھی کررہے ہیں۔ وہ اپنے لیے بہت کچھ حاصل کرلیں گے۔ ادھر سہیل آفریدی نے عمران خان کی قید تنہائی کا ، بینائی کا ، اپنی حکومت کے عوض سودا کردیا ہے ، اسکی خبر لے لیجیے۔
گرنے والے ہیلی کاپٹر میں بیس رینجرز اہلکار موجود تھے۔ کوٹلی ، راولا کوٹ میں فائرنگ بھی رینجرز نے کی۔ طرفین جمل اور صفین کے فریقین نہیں کہ ہم خاموش رہیں۔ یا تو یہ رینجرز شہید ہیں یا وہ نہتے شہید ہیں جن پر احتجاج کرتے ہوئے گولیاں چلائی گئیں۔
جگہ جگہ رپورٹ ہورہا ہے کہ کوٹلی میں راولا کوٹ میں فوج نے ہسپتال پہنچنے والی لاشیں تحویل میں لینے کی کوشش کی۔ یعنی یہ لاشیں غائب کرنا چاہتے تھے۔ یعنی یہ لاشیں غائب کرتے رہے ہیں۔ یعنی یہ وہی ہیں۔ مریدکے سے لاشیں غائب کرنے والے۔ ڈی چوک سے لاشیں غائب کرنے والے۔ یہ وہی ہیں۔
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ یا مجیب “ #غدار_کون_تھا
"Every Pakistani should study the Hamoodur Rahman Commission Report and find out who the real traitor was; Yahya or Mujibur"
Through every trial, Kaptaan stood with patience, resolve, and trust in Allah.
His strength came not from ease, but from faith that did not break under pressure.