فیصل واوڈا ایک دن کے لیے لانچ ہوا ن لیگ کے خلاف۔
دوسرے دن ن لیگ سے کام لے لیا گیا
لیکن ن لیگ کے جاہل پٹواری اس بات پر خوش ہیں کہ ہم نے فیصل واوڈا کو چپ کرا دیا ہے۔
چ بن کے جیو🤣
یوں تو پاکستان میں کچھ بھی ہو جائے حیرت نہیں ہوتی آئے روز کچھ ایسا ہوتا ہے جس پر یا تو ہنسی آتی ہے یا آنکھیں نم ہو جاتی ہیں مگر جب خبر آئی کہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے تو ذہن میں سوال آیا کہ یہ عہدہ آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر دیا گیا ہے کوئی جنگ جیت لی یا معیشت کو سنوار دیا یا پھر دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا ہو لیکن ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں بلکہ سب کچھ اس کے اُلٹ ہوا جس کی فہرست کافی طویل ہے ،
جب سے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم منیر کو آرمی چیف اس ملک پر مسلط ہوئے ہیں تب سے فسطائیت عروج پر ہے حالات پر چیخنے والوں کو غدار کہا گیا سوال اٹھانے والوں کو جیل بھیجا گیا اور جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جہاں تک ممکن تھا حق گوئی کرنے والوں کی آواز ہمیشہ کے لیے بند کر دی گئی عدلیہ کو پاک فوج کی ذیلی شاخ بنا دیا گیا پارلیمنٹ محض ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی اور رہا میڈیا تو وہ خود ہی اپنے گلے میں پٹہ ڈال چکا ،
سیاست کو جس بے دردی سے روندا گیا اس کی مثال شاید کسی مارشل لائی دور میں بھ�� نہ ملے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو توڑ کر رکھ دیا گیا عوامی جلسے احتجاج اور آزادی ا��ہار رائے خواب بن کر رہ گئے عوام سے اُن کا سب سے بنیادی حق ووٹ چھین لیا گیا، اور کرپشن کے قطب میناروں کو اقتدار کی مسند پر بٹھایا گیا ،
ایس آئی ایف سی جس کا بہت شور مچایا اور بیرونی سرمایہ کاری کے خواب دکھائے اُس کی کارکردگی صفر نہ انویسٹمنٹ آئی نہ روپیہ مستحکم ہوا نہ مہنگائی کم ہوئی نہ عام آدمی کی زندگی بہتر ہوئی ہاں البتہ معیشت پر عسکری قبضہ ضرور مکمل ہو گیا ،
سرحدیں ہماری غیر محفوظ ہیں دہشتگردی کی جو لہر ہم نے کئی برسوں کی قربانیوں کے بعد دبائی تھی وہ اب پوری شدت سے دوبارہ سر اٹھا چکی ہے خیبر پختونخوا بلوچستان، حتیٰ کہ راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے شہر بھی محفوظ نہیں آئے روز خودکش دھماکے ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے ،
پس ثابت ہوا کہ یہ فیصلہ کسی قومی خدمت کسی جنگی فتح یا کسی داخلی کامیابی کا صلہ نہیں بلکہ محض اپنے اقتدار کو طول دینے کی ایک چال ہے فیلڈ مارشل کا یہ تاج دراصل ایک سیاسی ڈھال ہے اور ایک اعلان ہے کہ ملک کی بھاگ دوڑ جمہوریت کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وردی کے زیرِ سایہ رہے گی ،
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس فیصلے کی قیمت ہم دہائیوں تک ادا کرتے رہیں گے یہ محض ایک عہدہ نہیں ایک ایسی سوچ کی توثیق ہے جو طاقت کو حق پر فوقیت دیتی ہے جو آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھتی ہے ،
جو آوازیں آج طاقت کے زور پر دبائی گئی ہیں وہ آنے والی نسلوں کے کانوں میں سوال بن کر ابھریں گی کہ جب ظلم کا تاج سجایا جا رہا تھا تو تم لوگ کیوں خاموش ��ھے؟ کیونکہ اس خاموشی کی قیمت صرف وقت نہیں تاریخ بھی ہم سے وصول کرے گی۔
Never for a moment think that the Almighty has abandoned us. He knows and sees the courage and resilience of the Palestinians. He’s put a special light into their hearts and no one can dim that light. Victory will come.