Top 10 most beautiful buildings in the world 🌎
🇮🇳 Taj Mahal
🇪🇸 Sagrada Família
🇦🇺 Sydney Opera House
🇦🇪 Burj Khalifa
🇮🇹 Colosseum
🇺🇸 Fallingwater
🇩🇪 Neuschwanstein Castle
🇫🇷 Louvre Pyramid
🇷🇺 St. Basil’s Cathedral
🇯🇴 Petra
Which one you like more
2.5 million views so far on this breaking news by @DropSiteNews on Cipher being real and Imran Khan’s vindication. Dropsite has claimed that the copy came from a military source: “from an individual disillusioned with the direction of the country’s leadership.”
#سائفر_ایک_حقیقت
⚡️ Drop Site News has published for the first time the full Cable I-0678 — the classified Pakistani diplomatic telegram dated March 7, 2022, that Imran Khan has cited as evidence of a U.S.-backed conspiracy to remove him from power.
The cable, sent from Pakistan’s ambassador in Washington to the Foreign Secretary in Islamabad, documents a luncheon meeting between Ambassador Asad Majeed Khan and U.S. Assistant Secretary of State for South and Central Asia Donald Lu.
According to the cable, Lu told the ambassador that Washington’s grievances with Khan’s government could be set aside if Khan were removed through a no-confidence vote. “I think if the no confidence vote against the Prime Minister succeeds, all will be forgiven in Washington because the Russia visit is being looked at as a decision by the Prime Minister,” Lu said, per the cable.
“Otherwise, I think it will be tough going ahead.”
In his own assessment, the ambassador wrote that Lu “could not have conveyed such a strong demarche without the express approval of the White House” and had “spoken out of turn on Pakistan’s internal political process.”
The cable was marked Secret, No Circulation, and distributed to Pakistan’s Secretary to the Prime Minister, Foreign Secretary, Chief of Army Staff, Director General of the ISI, and the Director of the SSP Section.
Khan was removed via no-confidence vote on April 9, 2022, six weeks after the meeting. He has been imprisoned since 2023, and has been held in solitary confinement since last year.
🔗 Read the full Drop Site report tracing how the U.S.-Pakistan relationship moved from mutual suspicion to full political embrace at the link below.
��یں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میرا تعلق پاکستان تحریک انصاف @PTIofficial سے کسی عہدے، فائدے یا لالچ کے لیے نہیں، بلکہ ایک نظریے کے لیے ہے۔
میں عمران خان @ImranKhanPTI کے نظریے کے ساتھ کل بھی کھڑا تھا، آج بھی کھڑا ہوں اور آخری سانس تک کھڑا رہوں گا۔
آج علیمہ خانم @Aleema_KhanPK سے ملاقات ہوئی۔ ہزار دن سے زائد قید بھائی کی اذیت، دباؤ اور تکلیف کے باوجود ان کے حوصلے میں ذرہ برابر کمی نہیں۔ وہ بھی اسی نظریے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہیں جس نے لاکھوں پاکستانیوں کو جگایا۔
پاکستان تحریک انصاف کے لوگ یاد رکھیں!
عمران خان صاحب کی رہائی صرف بیانات یا ٹرینڈز سے نہیں ہوگی۔
جب پوری قوم ایک وقت میں، ایک آواز بن کر نکلے گی، تب ہی ظلم کی دیواریں گریں گی۔
خرم ذیشان @khurramzeeshan بھائی اصل اثاثہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں بھی نظریے کا جھنڈا زمین پر نہیں گرنے دیتے۔
آپ جیسے وفادار، بے خوف اور ڈٹ کر کھڑے رہنے والے لوگ ہی عمران خان @ImranKhanPTI اور پاکستان تحریک انصاف @PTIofficial کی اصل طاقت ہیں۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، ک��ر کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
��میں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے ن�� اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
ہماری فیملی نے تمام پارٹی عہدیداران، سینئر قیادت، ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منگل کو اڈیالہ جیل پہنچیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ:
1. عمران خان کے وکلاء اور اہلِ خانہ کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔
2. عمران خان کو مکمل طبی معائنہ اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ماہر ڈاکٹروں، ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔
3. چیف جسٹس ڈوگر اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ انہیں اس غیر قانونی قید سے بلا تاخیر رہا کیا جا سکے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، جو کہ بہت بڑا ظلم ہے اور پاکستانی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی ہے
Our family has appealed to all party office holders, senior leadership, MNAs, MPAs, and Senators to come to Adiala Jail this Tuesday to build pressure on the government to:
1. Allow immediate access for Imran Khan’s lawyers and family.
2. Transfer Imran Khan to Shifa International Hospital for proper medical examination and treatment, in the presence of specialists, his personal doctor, and family.
3. Ensure Chief Justice Dogar takes up the bail applications of Imran Khan and Bushra Bibi so they can be released from this illegal imprisonment without delay.
Imran Khan and Bushra Bibi are being held in solitary confinement, one of the harshest forms of treatment in violation of Pakistani law and international human rights standards.
‼️ڈٹ جاو یا ہٹ جاو‼️
حق کے راستے پہ اکثر انسان اکیلا رہ جا��ا ہے لیکن پریشانی کی بات اکیلا رہ جانا نہیں بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں اور معاشرے کی مردہ ضمیری ہوتی ہے۔
یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے جس میں ہر طرح کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہر خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور۔موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چٹان کی طرح کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ اس راستے پہ صرف وہ چلے جو اس کا بوجھ اٹھا سکے بھلے اکیلے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس پہ آپ کے اپنے بھی ساتھ چھوڑ جائیں گے۔
میں سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ صاحب،صدر بلوچستان داؤد شاہ،پنجاب کے چاروں ریجن کے صدر بلال اعجاز،عون بپی،ملک تیمور،حسن نیازی، سب کو دعوت دیتا ہو وہ 8فروری کو اس لانگ مارچ میں شرکت کریں۔ہم سب عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں کیونکہ ہمارا لیڈر 3سال سے ناحق جیل کاٹ رہا ہے۔
احمد خان نیازی کا قیادت کے لیے پیغام @Ahmed_khanNiazi