اب ہمیں بتایا گیا کہ ان کا ارادہ ہے کہ ایک بہن کی ملاقات کروائیں جب باہر آکر وہ عمران خان کا کوئی پیغام دے گی تو پھر اگلے چھ مہینے کے لیے عمران خان کو قید تنہائی میں ڈال دینگے، آج ملاقات کروائیں گے تو اگلے منگل کو کیوں نہیں اس سے اگلے منگل کو کیوں نہیں؟ اس لیے میں پہلے بتادوں ایسا ہو تو یہ ان کا ارادہ ہے۔
ہم ایک ملاقات پر شکر گزار کیوں ہوں؟ ہم کو عمران خان کا علاج چاہئے، اس تک اس کے ڈاکٹرز کی رسائی چاہیئے اس کے آئین و قانون کے مطابق تمام حقوق کی بحالی چاہئے ۔ علیمہ خان
📜Drop Site News is publishing below the full transcript of Cable I-0678 — the classified Pakistani diplomatic cypher dated March 7, 2022, at the center of Imran Khan’s claim that the United States orchestrated his removal from power.
The document was previously described by The Intercept, which first reported on its contents in August 2023. The Intercept’s source, who had access to the document as a member of the military, spoke of growing disillusionment with Pakistan’s military leadership and the impact on military morale following its involvement in the political fight against Khan.
The source said they hoped the document “would finally confirm what ordinary people, as well as the rank and file of the armed forces, had long suspected about the Pakistani military, and force a reckoning within the institution.” They warned the military was pushing Pakistan toward a crisis similar to the one in 1971 that led to the secession of Bangladesh.
Drop Site is now publishing the document in full so that it may be part of the historical record.
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
"جیل انتظامیہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہر بار کہتے یہ گیٹ پر نہیں پہنچے پیچھے سے خود پولیس کے ذریعے ناکے لگا کے روک رکھا ہوتا،آج ہم نے گیٹ پر پہنچ کے ان کا یہ بہانا بھی ختم کردیا ہے۔ اب جیل انتظامیہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہم آئے نہیں ہیں"۔ @Aleema_KhanPK
عدالتی لباس میں چھپے سہولت کاروں نے انصاف کو مذاق بنا دیا ہے۔ القادر ٹرسٹ سے لے کر توشہ خانہ تک، ہر اہم موڑ پر جسٹس سرفراز ڈوگر کا قلم صرف تاخیری حربوں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے ہی چلتا ہے۔
ایک سابق وزیر اعظم کی اہم سماعت کو 'میٹنگ' کی بھینٹ چڑھانا اسی پرانی سہولت کاری کا تسلسل ہے جس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے وقار کو خاک میں ملا دیا ہے۔ شرم کا مقام ہے کہ قانون کو ایک بار پھر طاقتور کے اشاروں پر بے بس کر دیا گیا۔
#ShameOnJudges
#خان_کا_قرض_مزاحمت_فرض
"آج عمران خان کی القادر کیس میں ضمانت کی سماعت تھی ہمارے وکلاء اور ہم صبح صبح دور دور سے یہاں عدالت پہنچے یہاں آکر پتہ چلا چیف جسٹس صاحب آج عدالت ہی نہیں لگا رہے، یہ کیا طریقہ ہے ؟ عمران خان چھ ماہ سے قید تنہائی میں ہیں، ان کی آنکھ کا علاج نہیں کروایا جارہا اور یہاں چیف جسٹس عدالت چھوڑ کے چلے جاتے ہم کہاں جائیں؟ کہاں سے انصاف لیں؟ججز استعمال ہورہے ہیں تاکہ عمران خان اور بشری بی بی کا کیس ہی نہ سنا جائے یہ کیس میں تاخیر انصاف کا قتل ہے“ @Aleema_KhanPK