آج کی حدیث
آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اُس شخص کے لیے (جنت کی) خوشخبری ہے جس کے نامہ اعمال میں استغفار کثرت سے پایا جائے گا
ابن ماجہ شریف
ہر زمانے میں استاد یا کاریگر کا اپنا ایک معیار ہوتا ہے، اگر ہم تابعین ؒ کے زمانہ میں صحابہ ؓ کو معیار ڈھونڈیں تو نہیں ملے گا اور آج ہم تین سو سال پہلے والا معیار ڈھونڈیں گے تو مایوسی ہوگی،
،
،
(حضرت مولانا ��افظ محمد ناصر الدین خان خاکوانی دامت برکاتہم نقشبندی مجددی)
رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے سوال کیا
یا رسول اللہ ﷺ
ایمان کیا ہے؟
آپﷺ نے فرمایا
جب تمہیں تمہاری نیکی خوش کرے اور تمہارا گناہ تمہیں برا لگے تو تم مومن ہو
اس نے سوال کیا گناہ کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا
جو تمہارے دل میں جگہ کے لے(یعنی دل میں بری لگے) تو تم اسے چھوڑ دو
المستدرک 33
یااللہ! امت کے دشمنوں پر امت کو قوت غلبہ عطا فرما اللہ ہر قسم کے دشمن کھلے چھپے یا بھس بدل کر ہمدرد بن کر جس جس طرح بھی امت پر وار کر رہے اللہ ان کے واروں کو ان پر پلٹ دے اللہ عبرت ناک انجام سے دنیا و آخرت میں دوچار فرما ۔۔۔آمین یا رب العالمین
لوگوں کی محبت کو تم اپنا
غم نہ بناؤ !
پس لوگوں کے دل تو الٹتے
پلٹتے رہتے ہیں
لیکن اپنا غم اللہ کی محبت
کو بنا لو
پس اگر اللہ تم سے محبت
کرے گا تو لوگوں کے دل بھی
ایسے بنا دے گا کہ تم سے
محبت کریں!
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم، امہات المؤمنین رض اور دیگر مقدس ہستیوں کے ناموس کی حفاظت کے لیے اللہ نے صرف ایک ہی رستہ دیا ہے اس کے سوا وہ تمام رستے جو اس کے علاوہ ہوں چاہے اخلاص جتنا بھی خالص ہو، گمراہی ہے، ذلت ہے۔
جان رکھیے وہ رستہ خلافت کے نفاذ کے لیے قتال کرنا ہے۔
اسلام میں ایسا وقت آ ہی نہیں سکتا کہ قرآن وحدیث صرف صحائف کی شکل میں رہ جائیں اور ان کے الفاظ و معانی کی حامل کوئی جماعت نہ ہو۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایک جماعت قیامت تک حق پر قائم رہے گی اور دین قویم اور صراطِ مستقیم کی حفاظت کرتی رہے گی۔(صحیح مسلم:1038)