میر یوسف علی قلندرانی کی عدم بازیابی کے خلاف بلوچ وائس فار جسٹس 10 ستمبر کو ’ایکس‘ پر دوپہر 12 بجے سے رات 12 بجے تک ایک آن لائن مہم چلائے گی اور تمام سیاسی و سماجی کارکنوں، وکلاء ، طلبہ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم کا حصہ بنیں اور چند منٹ کا ویڈیو پیغام ریکارڈ کر کے شیئر کریں
#ReleaseYousafQalandrani
زہری ٹو حب چوکی ویگن وڈھ ایریا سے سواریوں سمیت ایف سی کے ہاتھوں لاپتہ
جبری گمشدگیوں کا معاملے اب یہاں تک پہنچا ہے کہ اجتماعی طور پر لوگوں کو غائب کیا جاتا ہے
قومی جدوجہد کے اصولوں پر کاربند رہتے ہیں اور اپنی آواز کو مزید بلند کرتے ہیں تو شاید آنے والے وقت میں حالات کسی اور رخ پر جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ آج بھی ریاست سے امید لگائے بیٹھے رہے، تو تاریخ یہی بتاتی ہے کہ انہیں مزید جبر، مزید لاپتہ افراد، اور مزید مایوسی کا سامنا کرنا
5/6
بلوچ قومی تحریک کے لیے نیا لائحہ عمل؟
موجودہ حالات میں بلوچ قیادت اور عوام کو اس سوال پر غور کرنا ہوگا کہ کیا پرانے طریقے کارگر ثابت ہوئے ہیں یا ہمیں ایک نیا حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے؟ سیاسی و جمہوری جدوجہد کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر اپنے مقدمے کو مزید مؤثر انداز میں اٹ
4/5
کرتا ہے کہ بلوچ عوام اگر آج بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ریاست ان کے مسائل حل کرے گی، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ گزشتہ ستر سالوں میں طاقت اور جبر کے ذریعے بلوچ عوام کو زیر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے، لیکن ریاستی پالیسی میں اب تک کوئی واضح تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔
3/4
ننے کے بجائے انہیں غداری کے الزامات، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور طاقت کے استعمال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور دیگر کارکنان کی گرفتاری اسی پالیسی کا تسلسل ہے جو دہائیوں سے بلوچستان میں جاری ہے۔
ریاست پر امید رکھنا؟
یہ سوال ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ
2/4
بنیادی جمہوری و انسانی حقوق کو دبانے کے لیے اختیار کی گئی ہے۔
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بلوچستان میں جب بھی عوامی احتجاج یا حقوق کی بات کی جاتی ہے، تو اسے طاقت سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاریخی طور پر بلوچ عوام نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے، لیکن ان کی آواز کو س
1/4
بلوچستان میں سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال ایک بار پھر سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ سمیت دیگر کارکنان کی گرفتاری اور سردار اختر مینگل کے دھرنے پر شیلنگ و گرفتاریاں ریاست کی وہ پالیسی ظاہر کرتی ہیں جو بلوچ
وڈیرہ غلام سرور کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ کہیں بھی ہو کسی بھی جماعت سے ہو،اگر وہ حق اور سچ بولے گا تو اسکی آواز خاموش کر دی جائے گی۔اجّ زہری میں وڈیرہ غلام سرور کو شہید کر کے ایک توانا آواز کو خاموش کر دیا گیا۔اس دُکھ میں پوری بلوچ قوم شہید کے خاندان کے ساتھ شریک ہے۔
ماڈل پبلک ہائی سکول زہری کے اعلان کے مطابق موسم سرما کی تعطیلات کے بعد یکم مارچ بروز جمعہ سے تعلیمی سیشن دوبارہ شروع ہونا تھا تاہم موسم کی خرابی کے باعث سکول جمعہ اور ہفتہ کو بند رہے گا۔
لہٰذا تمام والدین، اساتذہ اور طلباء کو مطلع کیا نئے تعلیمی سال کا آغاز 4 مارچ سے ہوگا
ماڈل اسکول کے لئے اعزاز
ماڈل پبلک ہائی اسکول زہری کے طالب علم Umar Yousaf BalOch نے بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کے Mdcat ٹیسٹ میں ٪78.70 فیصد مارکس حاصل کرکے ضلع خضدار میں آٹھویں پوزیشن پر سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے
یاد ر
📸 Look at this post on Facebook
https://t.co/HuCoXZ0avR
Model public high school zehri annual result ceremony 2023 chief guest sir Muhammad jan District programme manager Khuzdar, Baluchistan
@UNICEF@UNICEF_Pakistan