An Open Letter from former Prime Minister Imran Khan to the Chief of Army Staff - February 3rd, 2025
"Pakistan is my country, and its military is mine too!!
Our soldiers are sacrificing their lives for Pakistan. Success in the war against terrorism requires the nation to stand behind their army. However, unfortunately, the gap between the military and the public continues to widen because of the establishment’s policies.
There are several fundamental reasons for this. In order to restore public sentiment towards the military and bridge the widening gap between the people and their armed forces, the establishment must reconsider its policies.
- The biggest reason is the historic rigging of the 2024 elections and the blatant theft of the people’s mandate, which has fueled public anger. The way agencies engaged in pre-poll rigging and political engineering to control results has severely damaged public trust. A party that won only 17 seats was handed the reins of power, imposing a “puppet government” on the nation.
- The second reason is the 26th Constitutional Amendment. The way the Constitution and laws have been violated, and this amendment has been used to control the judiciary has caused intense resentment in public. Nasser Javed Rana deliberately delayed decisions so that my cases could be assigned to "pocket judges." The ongoing "court packing" is aimed at ensuring that cases against me are heard by favored judges, who will deliver desired verdicts. This entire exercise is meant to secure selective rulings against me and to cover up violations of human rights and electoral fraud so that no fair judicial decisions can be made.
- The third reason is the draconian PECA Law. Electronic media is already under control, and now, through PECA amendments, restrictions have been imposed on social media and the internet. This threatens Pakistan’s GSP+ status. Disruptions to internet services have caused the IT industry more than 1.72 billion dollars in losses, destroying the careers of young professionals.
- The fourth major reason is the continued state terrorism against Pakistan’s largest and most popular political party. Violating the sanctity of private homes, over 100,000 raids have been conducted, more than 20,000 party workers and supporters have been either arrested or abducted, and their families harassed. Human rights violations continue in an effort to crush PTI, which has deeply hurt the public.
- The fifth major reason is the economic crisis caused by political instability, forcing people to leave Pakistan, along with their capital, at an alarming rate. Economic instability is at its peak. The growth rate is zero, and investment in Pakistan is nearly non-existent. No country can attract investment without the rule of law and justice. No one would willingly invest their capital in a country where there is a risk of terrorism. Investment only flows in when there is a government in place that represents the people’s will — anything else is futile.
- The sixth major reason is that all state institutions have abandoned their duties and are instead focused on politically persecuting PTI. Military officers at the major and colonel levels continue to blatantly defy court orders. Judicial rulings are being ignored, and as a result, the entire military is facing a backlash. Just two days ago, an ATC [Anti-Terrorism Court] judge ordered my wife to appear for an investigation, and despite her willingness, some unseen force sabotaged the process. 1/2
Dear President Trump,
My friend PM @ImranKhanPTI is in jail for past year and half on bogus charges in Pakistan.
Just like you he is a victim of political vendetta by current Pakistani Government.
Just like you they tried to assassinate him but failed.
Just like you he won the elections with overwhelming majority but they rigged the election in their favor.
As an American I request you to help this man who is loved by his 225 M people as he will restore democracy in Pakistan. Free Imran khan.
دو دن قبل چواد احمد کا بیان آیا کہ وہ کل عمران خان کی کرپشن بے نقاب کرے گا۔ اگلے دن وہ اپنی بیوی کے ساتھ بجلی چوری کرتا پکڑا گیا اور دو دن ہوگئے، اپنی بجلی چوری کی صفائیاں پیش کر رہا ہے۔
کل القادر کیس کا فیصلہ تھا۔ چار پٹواری صحافیوں کو مائک کیمرہ دے کر جیل بھجوایا گیا تاکہ وہ وہاں عمران خان کو شرمندہ کرسکیں۔ شرمندہ خاک کرتے، جیل سے باندر کا لقب لے کر واپس آئے اور کل سے اب تک وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں کہ عمران خان نے باندر مجھے نہیں بلکہ دوسرے صحافی کو کہا ہوگا۔ ایک سینئر باندر نے تو آنسوؤں کے ساتھ یہاں تک کہہ دیا کہ جس عمران خان کو میں جانتا ہوں، وہ ایسا ہرگز نہیں کہہ سکتا۔
جب میں خان کو ولی اللہ کہتا ہوں تو اس کی وجہ ہے۔ سورہ کہف کے ایک واقعہ کے مطابق جب کوئی کم ظرف شخص اللہ کے ولی کا دل دکھائے تو اسے سزا ملتی ہے۔
جو جو عمران خان کے خلاف سازش کرتے ہیں، نشان عبرت بن جاتے ہیں۔
بے شک آج کے دور کا قطب، غوث، ولی، پیر، رہبر، عمران خان ہی ہے!!!
ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال ہے کہ عمران خان کی حکومت تو اپریل 2022میں ختم ہو گئی تھی مئی 2022 میں کور کمانڈر پشاور جنرل فیض کس کے حکم سے کابل گئے ؟ انہوں نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کس کے کہنے پر کئے؟ ٹی ٹی پی نے مئی 2022 میں سی�� فائر کیوں کیا؟یہ سیز فائر ستمبر 2022 تک قائم کیوں رہا؟
I believe in a peaceful protest and, therefore, was constantly trying to stop people from violence, calling on the microphone constantly for restraint.
The audio leak about directions from me to damage core commander house are FAKE.
I believe in peaceful protest & continue to uphold those values.
اوورسیز پا��ستانیو:
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے بھی اپنے ڈالرز نکلوا لو۔ یہ ڈالرز بھی زرمبادلہ میں شمار ہوتے ہیں۔
ملٹری کورٹ سے ملنے والی سزاؤں کا جواب ایسے ہی دیا جاسکتا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو:
“حکومت کو اتوار، 22 دسمبر تک کا وقت دیا ہے، اگر کل تک حکومت نے ہمارے مطالبات پر سنجیدگی نہیں دکھائی تو ہماری سول نافرمانی کی تحر��ک کا پہلا مرحلہ یعنی ترسیلات زر کا بائیکاٹ شروع ہو جائے گا، جس کی اس نااہل ��کومت کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہیں اندازہ نہیں کہ سول نافرمانی کی تحریک اس جعلی حکومت کے لیے کتنی مہلک ثابت ہو گی۔ اگر حکومت ہمارے مطالبات پر سنجیدہ ہے تو فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرے۔
اسلام آباد قتل عام کو ایک ماہ ہوگیا ہے اور کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو قاتل اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے جبکہ یہاں ایک جوڈیشل کمیشن تک نہیں بن سکا- ہمارے کئی لوگ گمشدہ ہیں، جب تک ہمارے لاپتہ لوگوں کی تصاویر کے ساتھ تفصیلات نہیں شئیر کی جاتیں کہ وہ کہاں کہاں ہیں تب تک حکومت کی کسی بات پر یقین نہیں کریں گے-
ملٹری کورٹس کے ذریعے سیاسی ورکروں کو سزائیں دینے سے ںہتر ہے کہ ملک میں لگے مارشل لاء کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے- 9 مئی کے ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری کیں- جنہوں نے لوگوں پر گولیاں چلائیں وہی جج جیوری اور جلاد بنے س��ائیں بھی سنا رہے ہیں۔ یہ جمہوریت نہیں جنگل کا قانون ہے-
ہمارا دوسرا مطالبہ 9 مئی کی آزادانہ تحقیقات ہیں جس کے لیے ہم بارہا سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کر چکے ہیں- 9 مئی کو بھی ہمارے دو درجن سے زائد کارکنان کو گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ 15 کی تفصیلات ہم نے پبلک کیں۔ مزید براں ہمارے سینکڑوں کارکنان کو اس دن گولیاں ماری گئی تھیں- کسی ایک فوجی یا پولیس والے کی جان نہیں گئی تو دہشتگردی کیسے ہوئی؟ کیا نہتی عوام کا پرامن احتجاج دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے یا ان پر سیدھی گولیاں برسانا؟
مجھے معلوم ہے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے کیس کا فیصلہ کیا آنا ہے، یہاں سارے فیصلے پہل�� سے لکھ کر آتے ہیں- میرے خلاف اڈیالہ جیل میں تین فیصلے سنائے گئے تینوں فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں ختم ہوگئے کیونکہ سارے کیسز جھوٹے اور بے بنیاد تھے- حکومت کی غیر سنجیدگی سے میرا نہیں ملک کا نق��ان ہورہا ہے-
لوگوں کے گھروں میں ماتم ہورہا ہے، ہمارے لوگوں کی اگر کوئی مجبوری ہو تو بند کمرے میں مذاکرات کریں، 26 نومبر قتل عام کے قاتلوں اور سہولتکاروں کے ساتھ تصاویر نہیں بنانی چاہیں۔
ہمارے جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں انہیں سخت سردی میں اٹک جیل میں تمبووں میں رکھا گیا ہے جو کہ ناصرف قانون بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ ہمارے ILF وکلأ کی ٹیمز مزید متحرک ہو کر ان کو ریلیف دلوائیں-
ہمیں امید تھی کہ قاضی فائر عیسیٰ کے جانے کے بعد ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا لیکن مافیا نے ممبران پارلیمنٹ کے اغوا کے ذریعے آئین میں ترمیم کرکے عدلیہ پر قبضہ کرلیا اور اب عدلیہ کو سیاسی ��نتقامی کاروائی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے- پاکستان صرف سرمایہ کاری سے بچ سکتا ہے لیکن پاکستان میں اس وقت قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں اور دن بدن حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں- ملکی مفاد شخصی ان�� اور ایکسٹینشن کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ حالات کی بہتری کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ اقتدار عوام کی نمائندہ جماعت کو سونپا جائے تاکہ سیاسی اور نتیجتاً معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔”
اگر فوج نے گولی چلائی تو ثبوت لاؤ۔۔۔۔۔ آئی ایس آئی ٹاؤٹس کا بار بار اعلان۔
اب مطیع اللہ جان نے صحافت کا حق ادا کر دیا ہے تو سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ دیکھیے اہم ترین تفصیلات
فوجی مصنوعات میں فوجی سیمنٹ، اٹک پمپ، عسکری بینک، DHA، سونا یوریا، CSD، اور CMH ہسپتال سمیت 32 مصنوعات شامل ہیں
پاکستانی قوم نے
متحد ہو کر ان تمام انسانیت کی قاتل فوجی مصنوعات کا
زبردست بائیکاٹ کر دیا ہے
شاباش
#فوجی_کاروبار_کو_انکار