عاصم منیر نے جو جال بچھایا تھا، اسی تارِ عنکبوت میں وہ خود، ن لیگ اور پیپلز پارٹی بری طرح پھس چکے ہیں۔ یہ جماعتیں اپنی حیثیت جانتی ہیں۔ صوبے بن گئے تو ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں رہے گا۔
عاصم منیر تم کس کس سے لڑو گے؟ پٹھانوں سے لڑو گے؟ بلوچوں سے لڑو گے؟ کشمیریوں سے لڑو گے؟ سندھیوں سے لڑو گے؟ پنجابیوں سے لڑو گے؟ لڑ لو! نہیں ہرا سکتے!
عظمیٰ خانم، نورین خانم اور علیمہ خانم، آپ کا بھائی عمران خان، عاصم منیر کے اس دامِ فریب میں نہیں آیا۔ آپ مبارک باد کی مستحق ہیں۔
اس میں اس کی اپنی جرأت تو تھی ہی، کچھ ہم فقیروں کی دعائیں بھی شامل ہیں۔
تاریخ اپنا موڑ مڑ چکی ہے۔
'ہمت مرداں مدد خدا'
پاکستان تحریک انصاف کی وکلاء کی ٹیم کہاں ہے اب تک انہوں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کیوں نہیں کی جبکہ دوسری طرف ناجائز حکومت نے عمران خان کے جیل سے شفاء ہسپتال منتقل ہونے والے فیصلے کے خلاف آج دوبارہ نظر ثانی کی درخواست دائر کردی ہے اور تحریک انصاف والے ناجانے کہاں سو رہے ہیں
عمران خان کی صحت یابی کے لیے اجتماعی دعا،
یا اللہ پاک عمران خان کی آنکھ کی بینائی کو ٹھیک کر دے، اور عمران خان کو تمام بیماریوں سے صحت عطا فرما، آمین
سب آمین کہیں، جو آمین نا کہے وہ پکا پٹواری ہو گا ۔
تمہیں نہیں پتہ یہاں کے سسٹم کا عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتا
بن گیا
تمہیں نہیں پتہ یہاں کے سسٹم کا یہ ملک نہیں چلا سکتا یہ ناتجربہ کار ہے
چلا دیا اور ریکارڈ انڈیکیٹرز کیساتھ چلا دیا
تمہیں نہیں پتہ یہاں کے سسٹم کا عمران خان اقتدار سے نکلے گا ملک سے بھاگ جائے گا
نہیں بھاگا
تمہیں نہیں پتہ یہاں کے سسٹم کا عمران خان فوج کے سامنے نہیں ٹک سکتا
ٹک گیا
تمہیں نہیں پتہ یہاں کے سسٹم کا فوج عمران خان کی مقبولیت وغیرہ سب ختم کردے گی
نہیں ہوئی
تمہیں نہیں پتہ عمران خان کو جیل میں ڈالا تو چند دن نہیں نکالے گا بھاگ جائے گا
نہیں بھاگا
بھوتنی کے اب تم ہمیں بتاؤ گے کہ وہ ڈیل کیساتھ نکلا ہے کیونکہ تمہیں لگتا ہے کہ یہاں کا سسٹم ایسے ہی چلتا آیا ہے۔ جو تم دیکھتے آئے ہو ہم نے وہ دیکھا ہی نہیں۔ جسے تم ناممکنات کہتے رہے اسے ہم پھونکوں سے اڑاتے رہے۔ اخے مجھے پتہ ہے۔ میں نے ہمیشہ سے ایسے ہی دیکھا ہے۔ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔ مخے نکل شاباش۔
ویسے آپس کی بات ہے شریف اور زرداری خاندان نے قیادت اور استقامت کا لیول بہت ہی نیچے گرا رکھا ہے۔ یعنی نا صرف ملک سے فرار ہوئے۔ علاج معالجے کے نام پرفرار ہوئے۔ باہر جا کر کسی ہسپتال میں علاج نہیں کروایا۔ یعنی بیمار تھے ہی نہیں۔ اچھے کردار کی ضمانت کے طور پر سوشل میڈیا اکاونٹس بھی بند رکھے۔ فیض حمید کی دی ہوئی سہولیات اورموبائل فون وغیرہ استعمال کرتے رہے۔ اپنی پارٹی کے لیڈرز کے ذریعے معافیاں مانگتے رہے اور پھر جس فوج نے نکالا اسی فوج سے جعلی نشستیں لیکر اسمبلیوں اور کٹھ پتلی حکومت میں بھی بیٹھ گئے۔
دوسری طرف عمران خان ہے جس نے لیول ہی بہت اوپر اٹھا دیا ہے۔ نا ملک سے فرار ہوا ہے۔ دس مہینے کی سخت ترین قید تنہائی برداشت کرگیا۔ عدالتیں اسکی زبان بندی کی گارنٹیاں مانگتی ہیں۔ اقتدار نہیں شفاف الیکشن مانگتا ہے۔ حقیقی آزادی مانگتا ہے۔
یعنی بے غیرت سے بے غیرت تبصرہ پاڑ سارا زور لگا کر کوئی کمپیریزن ڈرا ہی نہیں کرسکتے۔ موازنہ ہو ہی نہیں سکتا۔
فوج کو جس قسم کے حکمران چاہییں وہ میسر ہیں۔ عمران خان کی اس سسٹم میں کوئی گنجائش نہیں۔ عمران خان اور فوج میں کسی موقع پر کوئی سمجھوتہ ہوسکتا ہے لیکن عمران خان اور عاصم منیر کے درمیان نہیں۔ فوج کا مسئلہ ترقی استحکام امن نہیں کنٹرول ہے۔ جب تک فوج کے کنٹرول کا خاتمہ نہیں ہوگا یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونے والا۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے پیچھے شدید بیماری ، یا کوئی مبینہ سازش جیسی وجوہات ہوسکتی ہیں جو وقت کیساتھ نظر آجائیں گی۔ عمران خان ڈیل کرنے والا ، خاموش ہونے والا آدمی نہیں ہے۔ عمران خان کسی قسم کی پابندی کو قبول نہیں کرنے والا۔ تحریک انصاف کی قیادت البتہ فوج کی ہر آفر پر عمل کرنے کو تیار ہے اور یہ عمران خان کو رضامند کرنے کی بھی پوری کوشش کریں گے۔
قید تنہائی انسانی نفسیات کو تیزی سے تباہ کرتی ہے۔ عمران خان جتنے بھی مضبوط اعصاب کا مالک ہو اثر لیا ہوگا۔ غصہ اور چڑ چڑا پن بڑھا ہوگا۔ دیگر بیماریوں سے متعلق اطلاعات بھی درست ہوسکتی ہیں ، جس کے لیے عمران خان کو مکمل علاج اور نگہداشت کی ضرورت ہے۔ یوتھیے تھوک چاٹ پٹواری یا تبصرہ پاڑ نہیں ہیں۔ ہمارا الٹی میٹ گول حقیقی آزادی اور فوج کی سیاست سے بیدخلی تھا ہے اور رہے گا۔
یہ ممکن ہی نہیں کہ عدالت نے یہ فیصلہ فوج کی رضامندی سے نہ دیا ہو۔
یہ دو شخصیات پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک میں ہوتی تو حکومت ان کی خدمات کے عوض ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ دیتی ۔
کیونکہ یہ لوگ خاموشی سے اپنا سماجی کام کر رہے ہیں متوسط طبقے کے ہیں حکومت کی شان میں قصیدے نہی لکھتے اس لیے یہ تمغہ کے مستحق ہیں ۔
ولی اللہ معروف نے پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے خاندانوں سے ملانے کا عظیم کام کیا ہے ۔ بغیر کسی ریسورسز حکومت کی سپورٹ کے بغیر کے وہ کام کر رہا ہے جو ریاستی ادارے بھی نہی کر پاے ۔۔
یہ وہ شخص ہے جو برسوں سے گمشدہ اور بچھڑے ہوئے لوگوں کو ان کے خاندانوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کئی ایسے خاندان جنہوں نے اپنے پیاروں کی واپسی کی امید تقریباً چھوڑ دی تھی، سوشل میڈیا، تحقیق اور مسلسل کوششوں کے ذریعے دوبارہ ایک دوسرے سے ملے۔
کسی کا بیٹا کئی دہائیوں بعد ماں باپ سے ملا، کسی ماں کو برسوں بعد اپنی اولاد کا پتا چلا اور ایسے کیسز بھی سامنے آئے جن میں پاکستان سے باہر موجود خاندانوں کو بھی اپنے بچھڑوں تک پہنچانے میں مدد ملی۔
یہ کام صرف ایک پوسٹ لگانے کا نام نہیں۔ اس کے پیچھے دن رات کی محنت، لوگوں سے رابطے، معلومات کی تصدیق، مختلف شہروں اور ملکوں تک رسائی اور سب سے بڑھ کر ایک بے لوث جذبہ چاہیے۔
جبکہ دوسری طرف ٹیچر عثمان ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں۔جہاں اسلام اباد کا زمینی پانی ختم ہو گیا ہے یہ شخص انڈر واٹر کنوئیں بنا کر بارش کے پانی کو واپس زمین کے حوالے کر رہا ہے ۔ بلوچستان پنجاب ازاد کشمیر جہاں جس نے بولایا یہ شخص پہنچا ۔
اس کے اس اقدام سے پاکستان میں میں ایسی ایسی جگہوں پر جہاں پانی نہی تھا سالوں سے بور خشک ہو گئے تھے لوگ روزانہ ٹینکر سے پانی خریدنے پر مجبور تھے اج وہاں زمینی پانی ا رہا ہے ۔
اس شخص نے لوگوں کو اگاہی دی پانی کی اک اک بوند قیمتی ہے جو بارش کے بعد اپکے پکی سڑکوں کی وجہ زمین میں واپس نہی جارہی ہے ۔۔
یقیناً یہ دونوں شخصیات تمغوں کے محتاج نہیں، مگر اگر یہ تمغے ان کے سینوں پر سجتے تو شاید تمغوں کی قدر و منزلت ہی دوگنی ہو جاتی ۔
عمران خان نے ایک بار کہا تھا کہ میں نے ہر الیکشن سے پہلے نئ پی ٹی آئی کھڑی کی اب بھی وہی ہو گا یہ سارا دو نمبر مال تاریخ کے کوڑے دان میں چلا جائے گا اور عمران خان ایک نئی پی ٹی آئی کھڑی کر دے گا۔
The famous saying is "never wrestle with a pig, you both get dirty, and the pig likes it".
Arguing with someone who does not care about the truth only drags you down to their level, especially the lapdogs of pindi.
پہلے سوچا ، قید ہی اس کے لئے کافی ہو گی، جب وہ ڈٹ کر قید کاٹ گیا تو اس پر سختیاں شروع کر دیں، جب وہ سختیاں بھی سہہ گیا تو اس کی صحت اور زندگی کے ساتھ کھیلا گیا۔ اس کو توڑنے میں ناکام رہے لیکن یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ خدا کسی کو نیچ دشمن نہ دے۔
ہیلی کاپٹر میں گندہ فیول ڈالا
گولیاں مروائی گئیں
اسلام آباد ہائیکورٹ میں مارنے کا انتظام کیا گیا
نو مئی کو گرفتار کیا گیا
پانچ اگست کو دوبارہ گرفتار کیا گیا
آٹھ فروری کو علی الاعلان الیکشن چوری کر لیا گیا
صرف عمران خان کو روکنے کے لئے آئین کا بلاتکار کر دیا گیا
عدالتوں کو کینگرو کورٹس بنا دیا گیا
قید کو قید تنہائی میں بدل دیا گیا
آنکھ ضائع کروا دی گئی
اب بلڈ پریشر اور اس سے دل کے مسئلہ کا بتا رہے ہیں
کلاسک دلے ہیں کلاسک
اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کئے جا رہے ہیں صرف اپنی بادشاہت برقرار رکھنے کے لئے نقصان اس ملک کا اور عوام کا ہے انکا کیا جانا ہے
عمران خان بتائے کہ ان پر جسمانی تشدد ہوا
علیمہ خانم پیغام باہر نا لاسکیں کیونکہ تحریری ضمانت دے رکھی ہو
عمران خان جیل سے کہے اسمبلیاں چھوڑ دو
باہر عمل نا ہو کیونکہ علیمہ خانم نے تحریری ضمانت دے رکھی ہو
عمران خان جیل سے کہیں کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو
پیغام پر عمل در آمد ہی نا ہو کہ علیمہ خانم نے پیغام باہر نا لانے کی تحریری ضمانت دے رکھی ہو
ایسی کوئی بھی ضمانت دینا عمران خان کیساتھ غداری ہے۔