“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔ جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے۔”
- عمران خان
#FascismUnderAsimLaw
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
یہ نور عالم عدم اعتماد سے پہلے سندھ ہاؤس میں دانت نکال رہا تھا، اگر یہ جرنیلوں کے کہنے پر عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتا تھا تو آج مولانا کی پیٹھ میں بھی چھرا ہی گھونپے گا، یہ بدبخت ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ سے ہارا تھا لیکن فارم 47 پر اسے نوازا گیا
My mother, Noreen Niazi, my khalas Aleema Khan & Dr Uzma Khan have completed 30 days of unlawful detention under MPO — and still not released.
Detention was unlawful from day one. Any extension is equally unlawful.
یہ ستر کی دہائی کا واقعہ ہے سعودی شاہی خاندان کی 19 سالہ نوجوان شہزادی مشاعل بنت فہد کو پڑھنے کے لیے بیروت (لبنان) بھیجا جاتا ہے۔
وہاں لبنان میں تعینات سعودی سفیر کے بھتیجے "خالد الشعر محلل" سے شہزادی کی محبت پروان چڑھتی ہے۔ سعودی عرب واپسی پر بھی ان کا میل جول جاری رہتا ہے اور وہ تنہائی میں وقت گزارتے ہیں۔ بالآخر شاہی خاندان کو اس تعلق کی خبر ہو جاتی ہے۔ دونوں جدہ ایئرپورٹ سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں خالد شہزادی کو مردانہ لباس پہنا کر لے جانے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ دھر لیے جاتے ہیں اور عدالت میں ناجائز تعلق کا اعتراف کر بیٹھتے ہیں۔
15 جولائی 1977ء کو شہزادی مشاعل اور ان کے محبوب خالد کو جدہ کے ایک پارک کے قریب سرعام سزائے موت دے دی جاتی ہے۔
یہ دسمبر 2012ء کا ایک سرد دن ہے۔ ریاض کے صحرائی علاقے "الثمامہ" میں قائم ایک کیمپ کے اندر چند نوجوانوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور جھگڑا ہوتا ہے۔ اس ہنگامے میں سعودی شہزادے ترکی بن سعود غصے میں آ کر فائرنگ کرتا ہے جس کے نتیجے میں انہی کا ایک دوست عادل المحیمید موقع پر ہی قتل ہوتا ہے
عادل کا تعلق ایک عام، متوسط طبقے سے تھا۔ واقعے کے بعد شاہی خاندان نے مقتول کے لواحقین کو راضی کرنے کے لیے منہ مانگی دیت (خون بہا) کی پیشکش کی، یہاں تک کہ خود بادشاہ کی جانب سے بھی معافی کی درخواست کی گئی، مگر عادل کی فیملی اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی اور قصاص کے سوا کوئی شرط قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
بالآخر تمام قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد، 18 اکتوبر 2016ء کو قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے شہزادہ ترکی بن سعود کو سرعام سزائے موت دے دی گئی۔
سوچیے! جو ملک اپنے شاہی گھرانے کے شہزادوں اور شہزادیوں کو سزائے موت دینے سے گریز نہ کرے، کیا وہ عام بنگالیوں کو حرمتیں پامال کرنے پر خلی ولی بولے گا ؟
جو عدالتیں 2019ء میں ایک ساتھ اپنے 37 شہریوں کے سر قلم کر دے، کیا وہ بنگالی مجرموں کو یلا مدیر ما فی مشکله بولے گی؟
جو عدالتیں 2022ء میں 81 سعودی شہریوں کے سر تن سے جدا کر دے کیا وہ بنگالی مجرموں کو زمزم کھجور دے کر رخصت کریگی ؟
وہ بنگالی مرد اور عورت میاں بیوی تھے یا نہیں اس کا نکاح شاید ہمارے دیسی 'لبرلز' یا ایرانی راتب خور طبقے نے پڑھایا ہو گا، کیونکہ کسی معتبر ذریعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آپس میں میاں بیوی تھے۔
مبینہ بنگالی جوڑے کے پاکستانی لواحقین نے انہیں ہنی مون کے لیے مکہ بھیجا اور وہ مسجد کے اندر رنگ رلیاں منا رہے تھے! یہی لبرل طبقہ انہیں ہنی مون پر بھیجنے کے دعوے کے ساتھ ساتھ اس مبینہ جوڑے کی ایک پانچ سالہ بچی کو روتے ہوئے بھی دکھا رہا ہے! مطلب وہ نیا شدہ شدہ جوڑا ہنی مون پر آیا اور پیچھے سے پری نے لا کر ایک عدد بچی دادی کی گود میں ڈال؟
ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ مزاروں، درباروں اور مسجدوں تک میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ گھناؤنے جرائم ہوتے ہیں تو الزام شیطان کے سر ڈال کر مجرم صاف بچ نکلتا ہے۔
بھئی! وہاں ایک سخت قانونی نظام موجود ہے جہاں مقدمات کو قانونی مراحل اور عدالتوں کی چھلنی سے گزار کر فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہے۔
اس واقعے میں مجرموں نے بیک وقت کئی حرمتوں کو پامال کیا تھا مکہ کی حرمت، حدودِ حرم کی حرمت اور مسجد کی حرمت! چنانچہ اسلامی قانون (تعزیر) کے تحت گردن اڑائی جانا بالکل درست تھا،تاکہ یہ واقعہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن سکے۔
دنیا بھر میں سزائے موت کے نفاذ کے معاملے میں چین پہلے اور ایران دوسرے نمبر پر ہے۔ صرف 2025 میں ایران نے 2100 افراد کو پھانسی کے گھاٹ اتارا ہے لیکن ہمارے دیسی لبرل اس حقیقت پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔ اصل میں ان کا مسئلہ انسان دوست رویہ نہیں بلکہ اسلام اور اسلامی شعائر سے عناد ہے۔ شاید وہ اس خوف کا شکار ہیں کہ اگر قانون اور انصاف کے نفاذ کی بات چلی، تو کل کو اس کی زد ان کی اپنی گردنوں تک بھی آ سکتی ہے
(کاپی)
عمران خان صاحب نے شوکت خانم کو پہلے دن سے ایک ایسا خودمختار ادارہ بنا دیا ہے جو نظام کے تحت کام کررہا ہے۔ اور ان کا عوام کے لئے ایک اور بے لوث تحفہ کراچی میں کھلنے والا ہے۔
ان اداروں سے علاج کرانے والے مریض اور اہل خانہ عمران خان کے لئے ہمیشہ دعا کرتے ہوں گے۔ جس کے لئے اتنے لوگ دعا کریں اسے بدنظروں سے اللہ محفوظ رکھے گا انشاءاللہ آمین
#FreeImranKhan
رکشہ ڈرائیور نے حلفاً کہہ دیا کہ ہم روانہ مریض لے کر شوکت خانم آتے ہیں ہم نے 70 سے 80 لاکھ تک کا غریبوں کا اعلاج یہاں مفت ہوتے دیکھا ہے ن لیگ بکواس کرتی ہے شوکت خانم کا نام ہمیشہ رہے گا کیونکہ غریبوں کی خدمت ہوتی ہے۔
🚨🇺🇸🇮🇱 Michigan Democratic Senate nominee, Abdul El-Sayed, compares Israel to a friend who mooches your money and drags your kid into fights
Hust a year ago this response was a career-ender in either party:
"If your kid has a friend who keeps bumming off their money, talks about them behind their back, and gets them into fights with other friends, what would you tell your kid?"
Supporters of the alliance will predictably counter that American aid buys missile defense, intelligence and a partner in a dangerous region.
The question for voters isn’t whether El-Sayed is right about Israel, it’s how many of them already agree with him and simply hadn’t heard a candidate say it.
The latest polling says plenty do: El-Sayed leads Republican Mike Rogers 48% to 46% in the most recent InsiderAdvantage survey of likely voters, and he has led in every public poll this month.
Writer: Daniel
آج منگل چیئرمین عمران خان سے ملاقات کا دن!
عمران خان خان صاحب سے ملاقات کے لیے ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کے خاوند اڈیالہ پہنچے!
ایک دن حق غالب آئے گا، اور ناانصافی اور جھوٹ کا خاتمہ ہو کر انصاف قائم ہوگا۔
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
🇵🇰 IMRAN KHAN'S SISTERS have spent 30 DAYS IN DETENTION.
Their family still doesn't know when they're coming home.
@KhanShershah says his aunts, Dr. Uzma Khan and Noreen Niazi, have now reached the end of their 30-day detention under Pakistan's Maintenance of Public Order law.
He says the family has received no new detention order, no explanation for their continued imprisonment, and neither woman has been allowed to see her family or lawyers.
I find this absolutely disgraceful.
These are two women whose brother happens to be Imran Khan. If the authorities have lawful grounds to keep them imprisoned, produce the order and let their lawyers challenge it.
Otherwise, RELEASE THEM!
A government that cannot tolerate the political loyalty of someone's sisters has a serious problem explaining what it thinks justice means.
And after an entire month, their family deserves something considerably better than silence.
@PTIofficial / Writer: Oliver
یہ ظالم حکومت خواتین، بچوں اور خاندانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے!
”آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیا ایک بیمار انسان، ایک معذور ماں اور معصوم بچوں کو بھی جینے کا حق نہیں؟
میں گزشتہ تین سال سے بیمار ہوں اور کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں۔ میری والدہ محترمہ گزشتہ 17 سال سے معذوری کی حالت میں گھر پر ہیں۔ گزشتہ چار سال سے میں مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے مظالم بھی برداشت کر رہا ہوں، لیکن آج جو کچھ ہمارے ساتھ کیا گیا، اس نے ظلم اور بے حسی کی تمام حدیں پار کر دیں۔
آج جب میں گھر پر موجود نہیں تھا بلکہ اسپتال میں زیرِ علاج تھا، تو میرے گھر کی چار دیواری پامال کی گئی، گھر کا تمام سامان باہر نکال دیا گیا، میری معذور والدہ محترمہ اور میرے معصوم بچوں کو گھر سے نکال کر گھر چھوڑنے کا کہا گیا۔
آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟
کیا ایک بیمار انسان کو اس لیے اذیت دی جائے کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم ہے؟ کیا ایک معذور ماں اور معصوم بچوں کا کوئی حق نہیں؟ کیا انسانیت، رحم اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی؟
میں ایک اسپورٹس مین ہوں۔ میرا سیاست سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی میں نے کبھی کسی کے خلاف ذاتی دشمنی رکھی۔ میرا قصور، اگر کسی کی نظر میں کوئی قصور ہے، تو صرف اتنا ہے کہ میں مراد سعید کا بھائی ہوں، اور مراد سعید نے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے اور پاکستان کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اگر اپنے اصولوں پر قائم رہنا، اپنے نظریے سے وفادار رہنا اور حق سمجھ کر کسی کا ساتھ دینا جرم ہے، تو ہاں! ہم نے یہ جرم کیا ہے، ہم آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور ان شاء اللہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہیں گے۔
لیکن خدارا! ذرا انسانیت کا بھی خیال کریں۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ، جو تین سال سے کینسر کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، اس کی معذور ماں اور معصوم بچوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہوئے کیا آپ کے دل میں ذرا سا بھی رحم نہیں آتا؟
یاد رکھیے! طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتی، حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور وقت کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا۔ آج جن کے پاس اختیار ہے، کل ان کے پاس شاید یہ اختیار نہ ہو۔
وقت بدلے گا، حالات بدلیں گے، لیکن ظلم کی داستانیں اور مظلوموں کی آہیں تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائیں گی۔
ہم اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، لیکن اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کو بھی خاموشی سے بھول نہیں جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ میری والدہ محترمہ، میرے بچوں اور میرے خاندان کی حفاظت فرمائے، ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہر مظلوم کو انصاف نصیب فرمائے۔ آمین۔
ہمیں اپنے نظریے کی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن ہمارے حوصلے اور اصولوں کو شکست نہیں دی جا سکتی.“۔کلیم سعید - مراد سعید کے بھائی
فرانس میں مہنگائی پر ہنگامے ہیں اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں فرانس کی پولیس نے ایک بھی گولی نہیں چلائی۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں پر گولیاں کیسے چلائیں؟ اپنے ہی بچوں کو مارنا قاتلوں کا کام ہے، مہذب دنیا ایسا نہیں کرتی یہاں جذبہ حریت کو گولیوں کے ذریعے دبا دیا جاتا ہے۔
اس حکومت کے خلاف نہ نکلنا، ججز کا اس کے خلاف فیصلہ نہ کرنا اور سماجی تنظیموں کی خاموشی مجرمانہ ہے۔ جو بھی انسان قرآن اور جمہوریت پر ایمان رکھتا ہے، اس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کے خلاف کھڑا ہو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔
ہمیں اس حکومت کے خلاف پرامن طور پر نکلنا ہوگا۔ ہمیں نہ تو کسی کو گالیاں دینی ہیں اور نہ ہی کسی پر گولی چلانی ہے، لیکن اگر ہم اب بھی نہ اٹھے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ہم یہاں اخلاقی طور پر خیبر پختونخوا کے چار کروڑ عوام کے ساتھ ہونے والے مذاق کے خلاف آئے تھے اور اسے چیلنج کیا تھا۔ ہم اس جدوجہد میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ جو اس وقت ڈر کر گھر بیٹھے گا وہ مارا جائے گا، اور جو اس جدوجہد میں باہر نکلے گا، وہ تاریخ میں سرخرو ہوگا۔
محمود خان اچکزئی
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
4 کروڑ عوام کی رائے اور مینڈیٹ کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ یہ ان کا آخری وار تھا۔
عمران خان اچھا انسان ہے یا برا، لیکن یہ بات طے ہے کہ 2024 کا الیکشن عمران خان اور اس کی پارٹی مکمل طور پر جیت چکی تھی۔ وہ عمران خان کو اس کا مینڈیٹ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ پہلے دن سے ہی اس کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا اور 97 نشستوں کو 70 پر لا کھڑا کیا۔
یہ ہمارا مینڈیٹ اور ہماری حکومتیں چھین رہے اور ہمیں رونے کا ، احتجاج کا حق بھی نہیں دے رہے۔ ہم پرامن جلوس نکالتے ہیں تو سیدھا سر میں گولیاں ماری جاتی ہیں۔ یہ حکومت قاتل ہے۔
تحریک انصاف کے نوجوانوں نے پارلیمنٹ کے سامنے جلوس نکالا تو ان پر گولیاں چلائی گئیں جس میں درجنوں افراد شہید ہوئے۔ اسی طرح تحریک لبیک ایک مذہبی جماعت ہے، جن کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہوں نے جلوس نکالے تو ان کے بھی درجنوں افراد کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ کشمیری بھی 120 سے زائد کی تعداد میں شہید ہوئے۔ گلگت بلتستان میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔
یہ قاتلوں کی حکومت ہے جو مسلسل قتل و غارت کر رہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے۔
محمود خان اچکزئی
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
ہر روز ایک نیا سانحہ اس یتیم بچے کو صرف اس لئے مار دیا گیا یہ جبری مشقت سے آزاد ہوکر کام چھوڑ کر چلا گیا تھا کیا بنے گا اس ملک کا جس میں بچے محفوظ نہیں ہیں
ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی میں گھسائے گئے اپنے آخری کھلاڑی بھی کھل کر میدان میں اتار دیئے ہیں، یہ وہ کم ظرف اور گرے ہوئے لوگ ہیں جو دولت کے پجاری ہیں اور صرف دنیاوی زندگی پر یقین رکھتے ہیں، یہ فوج کا پی ٹی آئی پر آخری بڑا وار ہے اور بیشمار آستین کے سانپ بہتر مالی مستقبل کے لیے عمران خان کے نظریے کی نفی کرتے ہوئے آبپارہ کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں، اس ایڈوینچر کے بعد عمران کی پی ٹی آئی میں صرف وہ نظریاتی لوگ رہ جائیں گے جو سالوں سے عمران خان کے نظریے کا بوجھ اٹھائے جیلوں میں ہیں فوج کے زیر عتاب ہیں روپوش ہیں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں لاکھوں جان نثار کارکنان ہیں سوشل میڈیا رضا کار ہیں عوام ہے، نظریاتی انسان کبھی غدار نہیں ہوتے اور دولت کے شوقین کبھی وفادار نہیں ہوتے، عمران خان کی پی ٹی آئی کو ختم کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے نظریے کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، دولت کے پجاری، عمران خان سے احسان فراموشی کرنے والے، بے حس فوجی مراعات کے شوقین لوگ فارورڈ گروپ بنا لیں ریورس گروپ بنا لیں مائنس پلس کر کے دیکھ لیں چاہے کچھ بھی بنا لیں عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے اور پی ٹی آئی ہی عمران خان ہے۔
اپنے محسن یا مددگار کے ساتھ دھوکا، فریب یا دغا کرنے کو اردو زبان میں "نمک حرامی" یا "احسان فراموشی" کہا جاتا ہے، تاریخ اور ادب میں ایسے کرداروں یا واقعات کو بہت برے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے جہاں کسی نے اپنے ہی مربی یا محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہو۔
ساڑھے چار سال گزر چکے ہیں کچھ سال اور گزر ہی جائیں گے لیکن تاریخ بہادروں کو ہی یاد رکھے گی، تاریخ عمران خان اور ان کے خاندان کو یاد رکھے گی تاریخ پی ٹی آئی کے شہداء کو یاد رکھے گی تاریخ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، شاہ محمود قریشی، عالیہ حمزہ، آمریت کے زیر عتاب رہنماؤں اور کارکنان کو یاد رکھے گی تاریخ عمران خان کے سوشل میڈیا کے نامی اور گم نام رضا کاروں کو یاد رکھے گی اور وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیئے جائیں گے، رزق کی خاطر ہاتھ گندے کرنا برا نہیں ہے مگر رزق کی خاطر نیت اور ضمیر گندا کرنا اور اپنے محسن کے ساتھ دھوکہ بہت برا ہے۔
یہ پاگل کے بچے پاکستان کو نگل جائیں گے جب 1973 کا آئین بنا تب ہم خوش تھے لیکن ان کو وہ آئین ہضم نہیں ہوا انہوں نے 58 (2B) کے ذریعے پاکستان کی 5 اسمبلیاں نگل لیں جب سیاستدان اکٹھے بیٹھے 2 دنوں میں 58 (2B) اڑا دیا گیا
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی