جس ملک میں الجزیرہ کی ویب سائٹ بند اور اسرائیل کے سب اخبارات کے لنک کھلے ہوں اس ملک کا سسٹم واقعی گر گیا ہے، شرم حیا نہیں رہ گئی اس حکومت میں، شیم پروف حکومت ہے، کشمیریوں کا قتل عام کیا، کسی نے رپورٹ کیا کہ کشمیری تو بائیکاٹ کر رہے ہیں اٹھ کے اس کی ویب سائٹ بند کر دو، بندے کے منہ پہ کالک لگی ہو اسے نشاندہی کرنے پر اپنا منہ دھونا چاہیے یا نشاندہی کرنے والے پر پڑ جانا چاہیے؟ ہر معاملے کا علاج لاٹھی، گولی، بندش، پابندی، آمریت سے، جیسے ہلاکو خان کی حکومت آ گئی ہو
@ImranRiazKhan اب بتاؤ اس سوچ پر لعنت جو کہتی ہے فوج کو برا بھلا نہ کہو یہ صرف جرنیل کرتے ہیں جرنیل تو زمین پہ ا کے گولیاں نہیں مارتے یہ فوج جرنیلوں کی محافظ ہے واللہ پاکستان کی نہیں
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکی ایمبیسی کی طرف سے پاکستانی صحافیوں، انفلونسرز، یوٹیوبرز اور تجزیہ کاروں کے لیے تازہ ہدایات:
1. ایران اسرائیل پر حملہ کرنے کے بجائے برادر مسلمان ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔ اس طرح رپورٹ کرو۔
2. ایرانی حکومت بےاختیار ہے اور IRGC کنٹرول میں ہے۔ سارا قصور IRGC کا ہے۔ دفاع کو جارحیت بنا کر دکھایا جائے۔
3. جنگ کے موجودہ راؤنڈز کے لیے ایران غلطی پر ہے۔ کہیں ایران نے سعودی، قطری اور اماراتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ نہ بتایا جائے کہ ان ممالک کے بحری جہازوں نے MoU کی خلاف ورزی امریکہ کے حکم پر کی تھی۔
4۔ سعودی عرب کی یمن کے خلاف جارحیت کا ذکر نہ کیا جائے۔ یمن کی جوابی کاروائی کو جارحیت کہا جائے۔
سید حسن نصر اللہ کے بعد سید مجتبی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش !
نیدرلینڈ میں مقیم ایک صحافی علی الموسوی نے حالیہ تحریر میں بیان کیا ہے کہ امریکہ نے حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کو قتل کرنے کے لئے عراقی وزیر اعظم شیاع السوڈانی کا استعمال کیا اور وہ کامیاب ہو گئے۔ نہیں معلوم کہ السوڈانی کو اس سازش کا علم تھا یا نہیں۔
امریکی اور صیہونی سید حسن نصر اللہ کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اب وہ سید مجتبی خامنہ ای کو قتل کرنے میں ناکام ہیں۔
گذشتہ دنوں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات سے واپس آنے کے بعدعراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے ایرانی حکومت سے ایک عجیب و غریب درخواست کی کہ انہیں سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔اس عجیب و غریب درخواست کے پیچھے کون تھا؟
ہم سب کو یاد ہے کہ کس طرح سید حسن نصر اللہ کے مقام کی نشاندہی کی گئی تھی،جس کے نتیجے میں انہیں فوری طور پر نشانہ بنایا گیا اور ان کی شہادت ہوئی۔
مبصرین، تجزیہ کاروں اور اکٹھی کی گئی سیکیورٹی معلومات کے مطابق اس احتمال کو کمزور سمجھا جاتا ہے کہ کسی نے حزب اللہ کے اندر سے جاسوسی کی۔ کیونکہ شہید سید کے ساتھ جانے والی سیکیورٹی ٹیم نے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور تمام امکانات پر غور کیا جس کی وجہ سے اس کے مقام کی نشاندہی کرنا بہت مشکل تھا۔
دوسری بات امریکی دھوکے کی ہے۔ امریکی فریق نے عراق کے سابق وزیر اعظم محمد الشیاع السوڈانی کو سید نصر اللہ سے براہ راست فون کال کرنے کا کام سونپا۔ ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا یہ منصوبہ السوڈانی کو معلوم تھا یا اسے گمراہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا۔ اس موقع پر، امریکی فریق نے عراقی وزیر اعظم محمد الشیاع السوڈانی سے کہا کہ وہ سید حسن نصر اللہ سے رابطہ کریں اور انہیں جنوبی لبنان سے جنگ بندی اور انخلا کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے معاہدے سے آگاہ کریں!
ابتدائی براہ راست رابطے کے بعد، سوڈانی کو سید کے کمیونیکیشن آفیسر نے مطلع کیا کہ وہ سیکورٹی کی پیچیدہ صورت حال کی وجہ سے ان سے بات نہیں کر سکتا۔ اسے بتایا گیا کہ وہ بعد میں دوبارہ کال کر سکتے ہیں، جیسا کہ سید کی سکیورٹی ٹیم نے طے کیا ہے۔ جب سوڈانی واپس آیا اور امریکی فریق کو مطلع کیا، تو انہوں نے اصرار کیا کہ وہ دوسری کال کریں، جس میں شہید سید کی لبنان کے لیے امریکی جنگ بندی کی تجویز کی منظوری کو یقینی بنانے کی اہم ضرورت پر زور دیا گیا، جس کا اعلان سلامتی کونسل کے چیمبر میں کیا جانا تھا۔
جب کمیونیکیشن آفیسرسید نصر اللہ کے پاس واپس آیا اور اسے امریکی تجویز سے آگاہ کیا، تو سید نے اچانک میٹنگ ختم کر دی اور سوڈانی سے بات کرنے پر رضامند ہو گئے۔
بدقسمتی سے، یہ فون کال سید نصراللہ شہید کا صحیح مقام اور ملاقات کی جگہ معلوم کرنے کے لئےتھی، جس پر انہوں نے بڑی طاقت کے ساتھ بمباری کرنے کی پہلے سے تیاری کر رکھی تھی، جس کا مقصد انہیں جلد از جلد قتل کرنا تھا۔
حالیہ دن ان دشمن نے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی کی تصدیق کے لیے اس مذموم منصوبے کو دہرانے کا ارادہ کیا، اس طرح علی زیدی کے امریکی دورے کے بعد سید مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی غیر معمولی درخواست کے ذریعے ان کے قتل کو آسان بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لہذا، ایرانی فریق نے بدنیتی پر مبنی امریکی منصوبے کو بھانپ لیا ہے اور ایران کے خلاف جنگ ختم ہونے تک جناب مجتبیٰ خامنہ ای یا کسی دوسرے مہمان سے ملاقات سے انکار کردیا۔
دوسری طرف روسی صدر پوٹن کی جانب سے بھی آیت اللہ مجتبی خامنہ ای سے ٹیلی فونک بات چیت کا اصرار کیا جا رہا ہے تاہم ایرانی فریق نے فی الحال اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
#نصراللہ
#Iran
❇️ ایرانی وزیرخارجہ عباس اراغچی کا شاہکار انٹرویو
عباس اراغچی: "اور خطے کے رہنماؤں میں سے ایک جن سے میں نے ملاقات کی، خیر، ایک بہت ہی متکبرانہ موقف سے اور ایک ایسی خوشی کے ساتھ جو آپ اس کے اندر محسوس کر سکتے تھے، اس نے کہا: 'یقین رکھیں کہ وہ آپ پر حملہ کریں گے... وہ آپ کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیں گے، اور آپ کی میزائل صلاحیتوں کو ختم کر دیں گے، اور آپ کی تیل کی تنصیبات کو تباہ کر دیں گے... اور جواب نہ دیں کیونکہ وہ آپ کو ذاتی طور پر نشانہ بنائیں گے، وہ آپ کی قیادت کو نشانہ بنائیں گے۔'"
انٹرویو لینے والا: "یہ کس نے کہا؟"
عباس اراغچی: "خطے کے ایک رہنما نے۔ اور میں نے اس سے کہا کہ..."
انٹرویو لینے والا: "سعودی عرب ہی۔"
عباس اراغچی: "ابھی اجازت دیں کہ ناموں میں نہ پڑیں، ہم آخر کار ان کے ساتھ کام کرتے ہیں، ان سب کے ساتھ۔"
انٹرویو لینے والا: "یہ اندازِ گفتگو بن سلمان سے ملتا ہے۔"
عباس اراغچی: "ابھی اجازت دیں، میں کہتا ہوں کہ ناموں میں نہ پڑیں۔ نہیں، یہ ان سب پر لاگو ہوتا ہے۔ اب ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔ نہیں، ان سب کا رویہ ایسا ہی تھا۔ وہ سب اس واقعے کے منتظر تھے، لیکن وہ ڈرتے تھے۔ میں نے وہاں ان سے کہا کہ..."
انٹرویو لینے والا: "یعنی وہ سوچتے تھے کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے؟"
عباس اراغچی: "ہاں۔ میں نے ان سے کہا کہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ کہہ رہے ہیں۔ اگر وہ ہمارے کسی بھی پوائنٹ کو نشانہ بنائیں گے، تو ہم اس کے مقابل والے پوائنٹ کو نشانہ بنائیں گے۔ اگر وہ ہماری جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، تو ہم ان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ اگر وہ ہماری فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنائیں گے، تو ہم اسرائیل کی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنائیں گے۔ اور اگر امریکہ شرکت کرے گا، تو ناچار ہم علاقے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، کیونکہ ہمارے میزائل امریکہ کی سرزمین تک تو نہیں پہنچتے، لیکن علاقے میں ان کے اڈوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر وہ ہماری تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائیں اور ہم تیل نہ بیچ سکیں، تو خطے میں کوئی بھی تیل نہیں بیچ سکے گا۔ بالکل یہی جملہ۔"
عباس اراغچی: "جس سے، خیر، وہ دوسری طرف والا تھوڑا غصہ ہوا اور کہا کہ کوئی ہمیں دھمکی نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی ہمیں دھمکی دے تو، میں نہیں جانتا، سارا یورپ، سارا امریکہ، میں نہیں جانتا، اس کے خلاف ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ چین بھی اس کے خلاف ہو جائے گا، کیونکہ ہمارے چین کے ساتھ اتنے تجارتی تعلقات ہیں، کیا کیا ہے، کیا کیا ہے۔"
انٹرویو لینے والا: "دنیا میں تیل کی ترسیل ہمارے ہاتھ میں ہے، تقسیم کا نیٹ ورک ہمارے ہاتھ میں ہے، اس طرح کی باتیں وغیرہ۔"
عباس اراغچی: "جس پر میں ہنسا اور کہا کہ جناب خدا نہ کرے، ہم آپ لوگوں کو تو نہیں مارنا چاہتے، ہم امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے جو بدقسمتی سے آپ کی سرزمین پر ہیں۔ بعد میں ہم نے امریکی اور صہیونی اداروں سے تجزیے سنے۔ اور کچھ لوگوں نے ہمیں بتایا کہ یہ لوگ گئے اور خطے کے ممالک کو یہ باور کرایا کہ جناب زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ اور، صبر کریں، یہ کہانی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ ہاں، ایران مارے گا، میزائل مارے گا، فلاں کرے گا، لیکن ایک مہینہ صبر کریں تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اور انہوں نے انہیں ایک ماہ تک صبر کرنے کے لیے تیار کیا اور معاملہ ختم ہو جائے گا۔"
چاہے سنی ہوں یا شیعہ، ہمارا دشمن اسلام ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع
ہائے ہائے اس بات پر ایران پر بمباری کی خوشیاں منانے والے، امریکہ کو اڈے دینے والے، مولویوں کی باتوں میں آ کر ایران کے خلاف من گھڑت الزامات گھڑنے والے، ٹرمپ کو سجدے و سیلیوٹ مارنے والے، ٹرمپ اور پیٹ ہیگزٹ کی قربت پا کر ڈھول بجانے والوں کو تو ڈوب مرنا چاہئیے
پلان بڑا سمپل ہے اور یہ "آپس" میں سر جوڑ کر بنایا گیا ہے:
پلان یہ ہے کہ اسرائیلی سرزمین سے ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔
بلکہ،
ایران پر حملے کے لیے عرب ممالک کی سرزمین کو استعمال کیا جائے
تاکہ،
ایران جوابی حملے میں عرب ممالک کو ہی نشانہ بنائے
اور پھر یہ بیانیہ بنایا جائے کہ ایران، اسرائیل پر نہیں، بلکہ عرب ممالک پر حملہ کررہا ہے۔ اس سے ایران کے خلاف بیانیہ بنانے اور مسلمان ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے کا جواز پیدا ہوجائے گا
باقی جو مسلمان، امریکہ اسرائیل کو برسوں جاننے کے باوجود، قوم پرستی کے نام پر گدھا ہے، وہ یہ سوچنے کا تردد ہی نہیں کرے گا کہ عرب ممالک، ایران پر حملے کے لیے اپنی سرزمین کیوں پیش کررہے ہیں؟
آپ کو پروپگینڈا خبر ایسے دی جائے گی کہ،
"ایران نے سعودیہ پر حملہ کیا"
جبکہ مکمل خبر یہ ہے کہ،
"سعودی سرزمین سے، امریکی فورسز نے ایران کے سول انفراسٹرکچر پر حملہ کیا جس کے جواب میں، ایران نے، سعودیہ میں موجود امریکی بیس کو نشانہ بنایا"
شہزاد حسین، کراچی
شیطن یاہو: مسٹر ٹرمپ، ہم نے نیا پلان بنایا ہے۔ توجہ سے سنو۔ اس پر عمل کرنا ہے۔
تم نے ایران پر حملے صرف ایران کے ہمسایہ عرب ممالک کی سرزمین سے کرنے ہیں۔ چاہیے وہ جتنا بھی روئیں پٹیں ان کے ملکوں سے ایران پر حملے جاری رکھنے ہیں۔
اس طرح ایران کے پاس جب کوئی چوائس نہيں رہے گی اور وہ جوابی کاروائی کرے گا تو ہم میڈیا میں "رولا" ڈال دیں گے ایران مسلمان ملکوں پر حملے کر رہا ہے۔ پاکستان میں جیو نیوز اور ARY وغیرہ سب کو ایکٹو کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف ہم عرب میڈیا میں عربوں کو غیرت دلا رہے ہیں کہ ایران حملے کر رہا ہے لیکن بزدل عرب جواب نہيں دے رہے۔ جب عربوں نے جواب دینا شروع کر دیے تو سمجھو ہم کامیاب ہو گئے۔
عربوں کو ہم ایران سے اس طرح لڑائیں گے جیے عراق کو 80۔کی دہائی میں ایران سے لڑوایا تھا۔ اور آخر میں ہم اچانک خود آجائیں گے۔ اور بہت بڑا سرپرائز اٹیک کریں گے۔ یہ ہے منصوبہ۔
ایران کے عزم کو امریکی اسلحہ نہیں توڑ سکتا۔ یہ کوئی جذباتی بیان نہیں ہے بلکہ یہ ایک سائینسی حقیقت ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایران ایگزسٹانشل جنگ لڑ رہا ہے۔ میری دانست میں امریکہ خطے میں ایگزسٹانشل جنگ لڑ رہا ہے۔ فرق یہ ہے کہ میدان جنگ ایران کی زمین اور پانی ہے، جبکہ امریکہ اس خطے میں گُھس بیٹھیا ہے۔ اور گُھس بیٹھیے کو بھاگنا پڑتا ہے۔
باقی خطے کی عرب ریاستیں نہ مقتدر ریاستیں ہیں اور نہ آزاد مُمالک، ان کے حکمران محض عالمی استعماری نظام کے مقامی مینیجرز ہیں!
ثقلین امام
لندن
سابق بی بی سی اردو پترکار
بریکنگ نیوز 🚨منیب فاروق کے انکشاف کے بعد عادل راجہ نے بڑی سٹوری بریک کر ڈالی۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے صحافیوں کو کتنے کروڑوں روپے ملے اور کتنی گاڑیاں انعام کے طور پر تحفہ میں ملی عادل راجہ تفصیلات سامنے لے آیا 🔥🔥🔥
عادل راجہ کی تفصیلات کے مطابق ریحام خان کو سب سے زیادہ 25 کروڑ روپے انعام ملا جسے باقاعدہ خان کے خلاف لانچ کیا گیا تھا۔ مبشر لقمان کو 10 کروڑ اور ایک گاڑی ملی۔ مبشر لقمان نے بہت زیادہ کیچڑ بھی خان کے کردار پر اچھالا تھا۔ دوسرے نمبر پر سہیل وڑائچ ہیں جنہیں 9 کروڑ روپے ملے خان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے پر۔ تیسرے نمبر پر آتی ہیں غریدہ فاروقی جن پر انعامات کی برسات کی گئی۔ اسلام آباد کی مہنگی سوسائٹی میں 6 مرلہ کا مکان، 8 کروڑ روپے اور ایک گاڑی سے نوازا گیا۔ چھوتھا نمبر سلیم صافی کا ہے جن کو 7 کروڑ روپے اور ایک گاڑی دی گئی۔ پانچویں نمبر آتا ہے منصور علی خان کا جنکو 6 کروڑ روپے کے ساتھ ساتھ تین گاڑیاں دی گئیں۔ چھٹا نمبر پر منیب فاروق آتے ہیں جنہیں 5 کروڑ روپے انعام دیا گیا۔ ساتواں نمبر جاوید چوہدری کا ہے جس کے ہاتھ 4 کروڑ روپے لگے۔ آٹھواں نمبر ہے افتخار چوہدری کا جنکو 3 کروڑ روپے دیے گئے۔ ناواں نمبر کامران شاہد کا ہے جنہیں نے 2 کروڑ روپے کے ساتھ ساتھ 7 مرلہ کا مکان بھی دیا گیا جس کی لوکیشن لاہور میں ہے۔ 10 ویں نمبر طلعت حسین کا ہے جسے 1 کروڑ روپے کے ساتھ ساتھ بیٹے کو پی ایس ایل اور قومی ٹیم میں شامل کروایا گیا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے صحافی ایسے ہیں جن کی معلومات ابھی لیک نہیں کی گئی۔ چند ہفتوں کے بعد میری کوشش ہوگی انکے نام بھی سامنے لائے جاسکیں۔ ایک بڑا پاکستان کا صحافی ہے جنہیں 40 کروڑ روپے ملے ہیں، اور بھی بہت کچھ ملا ہے لیکن اسکی مکمل الگ سے انفارمیشن بہت جلد آپ کے ساتھ شئیر کروں گا۔
عمران ریاض کا انکشاف۔ عمران خان کا اپنی بہنوں کو پیغام🚨🚨
میری بہنوں کو کوئی پیغام دو کہ جتنا جلدی ہو سکے مجھے ملنے کی کوشش کریں۔ میری حالت انتہائی خراب ہوچکی ہے۔
@JimmyVirkk اس دفعہ کامیاب بھی ہو جائیں گے کیونکہ کتا (عاصم منیر)کنویں سے نہیں نکالا تھا نا پہلے کتا کنویں میں موجود تھا اس دفعہ کتا نکالا ہے تو کامیابی بھی ملے گی