ہم لشکر کیوں بنائیں ؟ ہم کیوں لڑیں ؟ فوج میں کس لیے بھرتی ہوتے ہیں؟ آج 78 سال کے بعد ہماری فوج ڈیوائیڈڈ ہے، آدھی افغانستان کی سرحد پر ہے، آدھی ہماری ہندوستان کی سرحد پر ہے، آدھی ملک کے اندر جنگ لڑ رہی ہے اور اس جنگ کے لیے آج ہمارے فورسز ناکافی ہیں۔ جناب اسپیکر، آج قبیلوں سے کہا جا رہا ہے، آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو، تم لڑو۔ میرا پشتون ہو یا بلوچ ہو، مقامی ہے، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ جنگ لڑے گا، ان کی دشمنیاں نسلوں تک جائیں گی۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ یا تو پھر آپ کہیں کہ ہم پاکستان کے ہر شہری کو فوجی تربیت دیں گے تاکہ وہ جہاد کے جذبے سے سرشار بھی ہو اور اس کے لڑنے کی اس کے اندر صلاحیت بھی ہو۔ ہم نے تو پاکستان میں کسی کو چھوٹا سا پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی۔ ہم تو چھری بھی نہیں رکھ سکتے۔ ہم تو بغیر لائسنس کے ایک بندوق بھی نہیں رکھ سکتے، اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
آج ان حالات میں اگر میرے اوپر تین خودکش حملے ہوئے ہیں، میرے گھر پر کئی راکٹ کے حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کے اوپر حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کو گاڑیوں سے اتارنے کی کوشش کی گئی ہے، میری پارٹی کے سینئر لوگوں کے اوپر خودکش حملے ہوئے ہیں، ایک ایک حادثے میں 25، 25 اور 30، 30 لوگ شہید ہوئے ہیں۔
ان حالات سے ہم گزر رہے ہیں، اس کے باوجود ہمیں تو ایک بندوق رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ملبہ قوم پہ ڈالنا، ملبہ لشکروں پر ڈالنا، یہ کون سی حکمتِ عملی ہے؟ فوج میں ہم کس لیے بھرتی ہوتے ہیں؟ ہم نے فوجی وردی کس لیے پہنی ہوئی ہے؟ ہم نے پیٹی کس لیے باندھی ہوئی ہے؟ اس لیے باندھی ہوئی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو پھر ہمارا یہ نوجوان جنگ لڑے، ناک میں۔ میں جنگ روڈ، ڈیرہ اسماعیل خان میں، فتح اللہ خان جنگ لڑے، ڈیرہ اسماعیل خان میں، اس لیے تو نہیں ہے۔ اور اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ سٹیٹ، بس لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے۔ کوئی سر اٹھائے، فنا کر دو۔
کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجیے، کون سی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پہ نیگوشیٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو، ایک پوائنٹ بتایا جائے۔ جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم ان پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے۔ یہ ہماری 78 سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے ہیں۔ میرے علماء شہید ہو رہے ہیں، علماء اس لیے شہید ہو رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہیں ؟
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ #سلیکشن_مافیا_نامنظور
#مولانا_شان_پاکستان #آئین_شکن_مقدس_گائے
#معافی_مائی_فٹ
@NavCom24@Jan_Achakzai روس امریکا کے بعد اسرائیل کو گمٹھنے ٹھکانے کے بعد سب کے ہواس ٹھکانے آگئے ۔ اسرائیل امریکہ کے بعد آج روس نے بھی پاکستان کی سٹریٹیجی کو ویلکم کہا ۔
ملك ميں دھشت گردی کے واقعات جس تسلسل کے ساتھ ھو رھے ہیں وہ اس بات کی دلیل ھیں کہ کوئی غیرملکی طاقت انکی پشت پناہی کررہی ہے ابھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں منظم حملوں کا زخم تازہ تھا کہ ترکئی اسلام آباد کا شرمناک واقعہ پیش آگیا پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی اس سازش کا مقابلہ صرف ملی اتحاد کے ذریعے ہوسکتا ہے اسلئے ملکی سلامتی کے معاملے میں تمام مذھبی اور سیاسی مکاتب فکر کو متحد ھوکر اس سازش کا مقابلہ کرنا ھوگا
اللہ میاں سے باتیں کیا کرو، دعا نہیں باتیں کیا کرو!!!
یا اللہ! یا تو یہ کر دیجیے ورنہ مجھ سے آخر پکڑ نہ کیجئے گا۔
یا اللہ! یا مجھے توفیق دے دیجیے اور فلاں گناہ سے مجھے بچا لیجئے ورنہ میری پکڑ نہ کیجئے گا وہاں۔ میں آپ کے حوالے کر رہا ہوں اپنے آپ کو۔
🥹🤍🕋
پیر مختار الدین شاہ مرحوم امتِ مسلمہ کا ایک قیمتی اثاثہ تھے،آپ کے انتقال خبر سے دل بوجھل ہے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
آپ کے انتقال سے آج امت ایک عظیم سرمایۂ ایمان و تقویٰ سے محروم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کربوغہ جیسے پسماندہ علاقے میں ایمان،اخلاص اور تقویٰ کی شمع روشن کی،جس کی روشنی سے امتِ مسلمہ نے بھرپور استفادہ کیا۔ مرحوم سے میرے دوستانہ اور برادرانہ مراسم رہے، اور وہ شعائرِ اسلام پر غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنے والے بزرگ تھے۔ ان کی قومی، ملی، دینی، علمی، خانقاہی، تصنیفی اور ہمہ جہت خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اللہ کریم ان کی جلیل القدر خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ مرحوم اپنے اہلِ خانہ اور متعلقین کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر کے اہلِ علم اور بالخصوص مجھے، میرے خاندان اور جماعت کو سوگوار کرگئے ہیں۔ میں سب سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور خود کو بھی تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں۔ اللہ کریم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
استاد کے احترام و ادب کی مثال اگر کہیں ملتی ہے تو وہ سیاست کے بےتاج بادشاہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی ذات میں نظر آتی ہے، اپنے استاد حضرت دیر باباجی کے سامنے عاجزی
آج ہندوستان میں اہل سنت و الجماعت احناف دیوبند کے چشم و چراغ فاضل دارالعلوم ندوہ جناب مفتی شمائل مفتی شمائل ندوی صاحب دامت فیوزھم اور ملـ۔ـحد جاوید اختر کے درمیان وجودِ باری تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے وجود) پر ایک بڑا مناظرہ تھا۔ یہ مناظرہ انتہائی اچھے انداز میں اور طے شدہ اصول و ضوابط کے تحت منعقد ہوا۔
پورے مناظرے میں دونوں اطراف نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے، لیکن علمی مناظروں میں کچھ باتیں انسان کو برتری دلاتی ہیں؛ وہ یہ کہ منتخب موضوع پر گفتگو کی جائے اور مخالف کی باتوں کا جواب دیا جائے۔
یہی وجہ تھی کہ مفتی شمائل پوری بحث میں واضح طور پر غالب نظر آ رہے تھے، جاوید اختر کا ایک نکتہ بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کا مفتی شمائل نے جواب نہ دیا ہو۔ دوسری طرف، جاوید اختر موضوع سے ہٹ کر بحث کر رہے تھے اور جذباتی باتوں کے ذریعے اپنا موقف ثابت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک جگہ ثالث (جج) نے بھی انہیں یاد دلایا کہ مفتی شمائل کی باتوں کا جواب دیں۔
مفتی شمائل منطق اور استدلال کے مالک ہیں اور انگریزی زبان پر ایسی مہارت کہ ہر اقت انگریزی ڈائلاگ مارنے والے جاوید اختر کی بوٹی بند کر دی بالآخر جاوید اختر نے آسان فہم زبان میں بات کرنے کی درخواست کی
الحمدلله آج تک کوئی مائی کا لال ایسا نہیں آیا کہ علماء دیوبند نے دلائل کے اس کو زیر نہ کیا ہو
الحمدللہ ثم الحمدللہ
شہزاد اکبر کے تہلکہ خیز انکشافات 🛑
فوج کے اندر سے لوگوں نے بتایا, ڈی جی نے ادارے کے ساتھ بہت زیاتی کردی!! بلکہ ادارے کو 0 کردیا!!
ڈی جی نے اوتھ کی خلاف وزری کی!!
ڈی جی پر آرٹیکل 6 لگےگا!
4 کروڑ عوام کی تزلیل کی ہے!!
ڈی نے نے اپنے ادارے پر حملہ کردیا🔥🔥
بنگلہ دیش کے شہر سہلٹ میں جلسے کے مناظر۔
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ولولہ انگیز خطاب کیا ۔۔
@juipakofficial#MaulanaInBangladesh
*پاکستان کے تمام فیصلے قادیانی کرنے لگے!*
جس طرح سانحہ مریدکے قادیانیوں کے حکم پر کیا گیا تھا، اسی طرح 27ویں آئینی ترمیم بھی قادیانیوں کے حکم پر کی گئی 😡
ویڈیو میں خود سن سن لیں قادیانیوں کا خلیفہ کیا کہہ رہا ہے!
پشاور کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں
ڈینگی کا ایک مریض زندگی اور موت کی آخری جنگ لڑ رہا تھا ۔مگر افسوس! کوئی ڈاکٹر موجود نہ تھا۔
آخرکار، وہ مریض اپنی آخری سانسیں گن کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
یہ ہمارے صوبے کے بگڑے ہوئے نظامِ صحت اور انتظامی غفلت کا نوحہ ہے😥
18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات کے حوالے سے
صوبوں کی اختیارات میں کمی کرنے کی کوشش کی تو جمعیت علمائے اسلام دفاع کرے گی
آئین کہتا ہے کہ صوبوں کی حق میں اضافہ تو کیا جاسکتا ہے کمی نہیں ، اگر کمی کرنے کی کوشش کی تو ہم مخالفت کرینگے
27 ویں ترمیم کے حوالے سے مولانا صاحب کا موقف
26 ویں ترمیم میں جہاں حکومت 35 نکات سے دستبردار ہوئی تھی اگر اسی کو دوبارہ لانے کی کوشش کررہے ہیں تو یہ پارلیمنٹ کی توہین ہے اور آئین کی بھی
27 ویں ترمیم میں اسی 35 نکات کو دوبارہ پاس کرنا قابل قبول نہیں ہے
اللہ تعالیٰ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو صحت، استقامت اور کامیابی عطاء فرمائے ۔۔
جو قوم کی امید، ملت کی آواز اور دستورِ پاکستان کے محافظ ہیں۔
مولانا صاحب کی سیاسی بصیرت سے سیاسی افق روشن ہے،
اور قوم کو ان کے تدبر اور رہنمائی سے مستقبل کی راہیں نظر آتی ہیں۔