دنیا کے امیر ترین شخص کی ناقابلِ یقین کہانی 🧵
آپ نے ایلون مسک، ��یف بیزوس اور لیری ایلیسن جیسے ارب پتیوں کے بارے میں تو سن رکھا ہوگا، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخ میں ایک ایسا شخص بھی گزرا ہے جس کی دولت ان تینوں سے کہیں زیادہ تھی؟
ملیے منسا موسا سے، جو 14ویں صدی کے افریقی بادشاہ تھے اور جن کی دولت اتنی وسیع تھی کہ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
اگر آج کے حساب سے ان کی دولت کو دیکھا جائے تو یہ 400 سے 700 ارب ڈالر تک بنتی ہے۔
یہ آج کے سب سے امیر شخص کی دولت سے تین گنا زیادہ ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے اس دولت کا کیا کیا؟
عون کھوسہ @aun_khosa اتنے بہترین طریقے سے عوام میں آگاہی پھیلانے پر آپکا چُکا جانا بلکل بنتا تھا۔ اگر آپ نے اتنے ہی بہترین طریقے سے یہ مہاذ جاری رکھنا ہے تو چکے جانے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اللّٰہ آپکا حامی و ناصر ہو۔۔♥️
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
۲۳ جولائی ۲۰۲۴
۱-
پرسوں میڈیا پر مخصوص ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنایا گیا کہ میں نے عوام کو جی ایچ کیو جا کر احتجاج پر اکسایا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تقریباً ۳ دہائی پر محیط تاریخ میں پرتشدد احتجاج کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تحریک انصاف کے خلاف بدترین ہتھکنڈے استعمال کر کے تشدد پر اکسایا گیا۔ نومبر ۲۰۲۲ میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور میری مرضی کی ایف آئی آر کاٹنے سے بھی انکار کیا گیا۔ اس کے بعد ۲ مرتبہ میری رہائش گاہ پر عسکری ادارے نے حملہ کیا، ایک مرتبہ میری پیشی کے موقع پر مجھے قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنا کر سادہ لباس میں لوگوں کو چھوڑا گیا۔ صرف یہی نہیں ۹ مئی کو عوام کو انتشار دلانے کے لیے ایک سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ کو جس ہتک آمیز انداز میں اغواء کیا گیا، وہ بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا لیکن تحریک انصاف کے کارکنان کی سیاسی تربیت میں تشدد کا کوئی عنصر شامل نہیں۔ تحریک انصاف سیاسی، آئینی و قانونی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
۲-
۹ مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ جس نے ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی، وہی ۹ مئی کے حقیقی ذمہ داران ہیں۔ ان کی عقل کا یہ عالم ہے کہ یہ ۹ مئی کو امریکہ کے کیپیٹل ہل کے احتجاج سے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ وہاں باقاعدہ شفاف تفتیش اور سی سی ٹی وی کے باریک بینی سے جائزے کے بعد صرف ملوث افراد کو سزا دی گئی، پوری سیاسی پارٹی “ ریپبلکن” کو کچھ نہیں کہا گیا۔ لیکن یہاں نہ صرف ثبوت مٹانے کی غرض سے فوٹیج غائب کر دی گئی بلکہ پورے پاکستان میں ایکشن لیا گیا ہے۔ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کے مختلف علاقوں کے لوگ جنہوں نے احتجاج میں حصہ نہیں لیا ان کو بھی اُٹھایا گیا، ان کا کیا قصور تھا؟
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکہ میں سابق صدر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو سیکرٹ سروس کی چئیرپرسن نے ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے استعفی دیا جبکہ پاکستان میں جس سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوا، “سیکرٹ سروس” نے اسی وزیراعظم کو ��ید کر دیا۔
۳-
پوری پاکستانی قوم کو دہشتگرد کہہ کر قوم کو متنفر کیا جا رہا ہے۔ ۷۰ کی دہائی میں جینے والے چند افراد جو اس امر سے یکسر نابلد ہیں کہ سوشل میڈیا کام کیسے کرتا ہے، وہ ڈیجیٹل دہشتگردی کے لقب بانٹ رہے ہیں۔ پاکستان کی ۹۰ فیصد آبادی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کی ۹۰ فیصد عوام نے ۸ فروری کو تحریک انصاف کے حق میں ووٹ دیا تھا، ان سب کو اگر ڈیجیٹل دہشتگرد کہا جائے گا تو فوج اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوگی۔ اور یہ نفرت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ جو بھی لوگ یہ کررہے ہیں ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ۱۹۷۱ میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ 25 مارچ 1971 کو جب ڈھاکہ کے اندر یحییٰ خان نے لوگوں کی بڑی تعداد کے خلاف آپریشن کیا تھا تو اس کے نتائج ملک کیلئے اچھے نہیں نکلے۔اب بھی اگر پاکستان کی اکثریت آبادی کو دہشتگرد کہا جائے تو اس کے ملک کیلئے خطرناک نتائج نکلیں گے۔
۴-
ملک، حکومتیں اور معاشرے اخلاقیات کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ جس معاشرے میں اخلاقیات ختم ہوجائیں باقی کچھ نہیں رہتا۔ آج لوگ اگر آپ کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں تو وہ صرف آئین کی بالادستی کی بات کررہے ہیں۔ آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کا مطالبہ کرنا کوئی غداری نہیں ہے۔ یہ جو مضحکہ خیز کیسز بنائے جارہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لوگ بالکل پر امن طریقے سے کام کررہے تھے اور جب آپ ان کو پر امن طریقے سے کنٹرول نہیں کر سکے تو پھر آپ نے ان کے خلاف فسطائیت کے حربے استعمال کرنا شروع کردیئے۔
۵-
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اسلام آباد میں جلسے کی قیادت کریں۔ پوری قوم حقیقی آزادی کے حصول کے لیے اور ملک میں رائج ظالمانہ اور فسطائی نظام کے خلاف اس جلسے میں بھرپور شرکت کی تیاری کرے۔
بیشک میرا رب، میرا اللہ ”الحق“ ہے!
میں نے چیف الیکشن کمشنر کے اپنے اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بغض و تعصب کی بار بار نشاندہی کی ہے اور اس باب میں پیہم تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے آج کے فیصلے، جس نے تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن کی بدنیتی اور تعصب کو ثابت کیا ہے، سے ہمارے مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت ہوئی ہے۔ ہم کروڑوں پاکستانی ووٹرز اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے حمایتوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت فوجداری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین فی الفور مستعفیٰ ہوں۔
اس کے ساتھ میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لازماً خود کو میرے اور پاکستان تحریک انصاف سے متعلق تمام مقدّمات سے الگ کریں۔
*پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ*
*یہ نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بینک میں معمولی سا کیشیر تھا��*
*اس نے بینک کے ساتھ ایک ایسا فراڈ کیا جس کی وجہ سے وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا فراڈیا ثابت ہوا‘*
*وہ کمپیوٹر کی مدد سے بینک کے لاکھوں کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے ایک‘ ایک پینی نکالتا تھا*
*اور یہ رقم اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا تھا،*
*وہ یہ کام پندرہ برس تک مسلسل کرتا رہا*
*یہاں تک کہ اس نے کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے کئی ملین پونڈ چرا لیے،*
*آخر میں یہ شخص ایک یہودی تاجر کی شکایت پر پکڑا گیا‘*
*یہ یہودی تاجر کئی ماہ تک اپنی بینک سٹیٹ منٹ واچ کرتا رہا*
*اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے*
*چنانچہ وہ بینک منیجر کے پاس گیا‘ اسے اپنی سابق بینک اسٹیٹمنٹس دکھائیں*
*اور اس سے تفتیش کا مطالبہ کیا...*
*منیجر نے یہودی تاجر کو خبطی سمجھا ‘*
*اس نے قہقہہ لگایا اور دراز سے ایک پاؤنڈ نکالا*
*اور یہودی تاجر کی ہتھیلی پر رکھ کر بولا
*’’ یہ لیجئے میں نے آپ کا نقصان پورا کر دیا ‘‘*
*یہودی تاجر ناراض ہو گیا‘*
*اس نے منیجر کو ڈانٹ کر کہا
*’’میرے پاس دولت کی کمی نہیں‘*
*میں بس آپ لوگوں کو آپ کے سسٹم کی کمزوری بتانا چاہتا تھا‘‘*
*وہ اٹھا اور بینک سے نکل گیا،*
*یہودی تاجر کے جانے کے بعد منیجر کو شکایت کی سنگینی کا اندازا ہوا‘*
*اس نے تفتیش شروع کرائی تو شکایت درست نکلی*
*اور یوں یہ نوجوان پکڑا گیا...*
*یہ لندن کا فراڈ تھا لیکن ایک فراڈ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے‘*
*اس فراڈ کا تعلق پیسے کے سکے سے جڑا ہے،*
*پاکستان کی کرنسی یکم اپریل 1948ء کو لانچ کی گئی تھی‘*
*اس کرنسی میں ��ھ سکے تھے‘*
*ان سکوں میں ایک روپے کا سکہ‘*
*اٹھنی‘ چونی‘ دوانی‘ اکنی‘ ادھنا*
*اور ایک پیسے کا سکہ شامل تھے‘*
*پیسے کے سکے کو پائی کہا جاتا تھا،*
*اس زمانے میں ایک روپیہ 16 آنے*
*اور 64 پیسوں کے برابر ہوتا تھا...*
*یہ سکے یکم جنوری 1961ء تک چلتے رہے‘*
*1961ء میں صدر ایوب خان نے ملک میں عشاریہ نظام نافذ کر دیا*
*جس کے بعد روپیہ سو پیسوں کا ہو گیا*
*جبکہ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی اور پائی ختم ہو گئی*
*اور اس کی جگہ پچاس پیسے‘ پچیس پیسے‘ دس پیسے‘ پانچ پیسے*
*اور ایک پیسے کے سکے رائج ہو گئے...*
*یہ سکے جنرل ضیاء الحق کے دور تک چلتے رہے*
*لیکن بعد ازاں آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے*
*یہاں ��ک کہ آج سب سے چھوٹا سکہ ایک روپے کا ہے*
*اور ہم نے پچھلے تیس برسوں سے*
*ایک پیسے‘ پانچ پیسے‘ دس پیسے اور پچیس پیسے کا کوئی سکہ نہیں دیکھا*
*کیوں...؟*
*کیونکہ اسٹیٹ بینک یہ سکے جاری ہی نہیں کر رہا*
*لیکن آپ حکومت کا کمال دیکھئے*
*حکومت جب بھی پیٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے*
*تو اس میں روپوں کے ساتھ ساتھ پیسے ضرور شامل ہوتے ہیں*
*مثلاً آپ پیٹرول کے تازہ ترین اضافے ہی کو لے لیجئے‘*
*حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے اضافہ کیا*
*جس کے بعد پٹرول کی قیمت 62 روپے 13 پیسے‘*
*ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 62 روپے 65 پیسے*
*اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 54 روپے 94 پیسے ہو گئی ...*
*اب سوال یہ ہے کہ ملک میں پیسے کا تو سکہ ہی موجود نہیں ھے*
*لہٰذا جب کوئی شخص ایک لیٹر پیٹرول ڈلوائے گا تو کیا پمپ کا کیشیر اسے 87 پیسے واپس کرے گا...؟*
*نہیں وہ بالکل نہیں کرے گا*
*چنانچہ اسے لازماً 62 کی جگہ 63 روپے ادا کرنا پڑیں گے...*
*یہ زیادتی کیوں ہے...؟*
*اب آپ مزید دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘*
*پاکستان میں روزانہ 3 لاکھ 20 ہزار بیرل پیٹرول فروخت ہوتا ہے،*
*آپ اگراسے لیٹرز میں کیلکولیٹ ��ریں*
*تو یہ 5 کروڑ 8 لاکھ 80 ہزار لیٹرز بنتا ہے،*
*آپ اب اندازا کیجئے اگر پٹرول سپلائی کرنے والی کمپنیاں* *ہر لیٹر پر87 پیسےاڑاتی ہیں*
*تویہ کتنی رقم بنے گی...؟*
*یہ 4 کروڑ 42 لاکھ 65 ہزار روپے روزانہ بنتے ہیں جناب....*
*یہ رقم حتمی نہیں کیونکہ تمام لوگ پیٹرول نہیں ڈلواتے‘*
*کچھ صارفین ڈیزل اور مٹی کا تیل بھی خریدتے ہیں*
*اور زیادہ تر لوگ پانچ سے چالیس لیٹر پیٹرول خریدتے ہیں*
*اور بڑی حد تک یہ پیسے روپوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں*
*لیکن اس کے با وجود پیسوں کی ہیرا پھیری موجود رہتی ہے،*
*مجھے یقین ہے اگر کوئی معاشی ماہر اس ایشو پر تحقیق کرے ‘*
*وہ پیسوں کی اس ہیرا پھیری کو مہینوں‘*
*مہینوں کو برسوں*
*اور برسوں کو 30 سال سے ضرب دے*
*تو یہ اربوں روپے بن جائیں گے گویا ہماری سرکاری مشینری*
*30 برس سے چند خفیہ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا رہی ہے*
*اور حکومت کو معلوم تک نہیں...*
*ہم اگر اس سوال کا جواب تلاش کریں*
*تو یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا اسکینڈل ثابت ہوگا...*
*یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کرپشن کا والیم*
*ساڑھے چار کروڑ روپے نہ ہو*
*لیکن اس کے با وجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا*l
بانی چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے خصوصی پیغام
(25 جون 2024)
پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہمیشہ سے تحریک انصاف کی پالیسی رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران دہشت گردی میں بڑی کمی آئی۔ہم نےخیبر پختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اداروں کو مضبوط کیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور اس کے بعد پورے ملک میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی ۔ ہم نے خطے میں امن قائم کرنے کی خاطر افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی حکومت کیساتھ بات چیت کی، ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور قیام امن کیلئے خود بھی افغانستان کا دورہ کیا۔امریکہ کے انخلا کے بعدافغانستان میں سول وار کا شدید خدشہ تھا جسے نہایت حکمت سے (tactfully) ہینڈل کیا گیا۔افغانستان میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد اس حکومت کیساتھ تعلقات قائم کرنے میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمیدکا کلیدی کردار تھا۔ خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میری حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل نہ کیا جائے اور یہی ہدایات جنرل باجوہ کو دی گئیں جس پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ انہیں تبدیل نہیں کیا جائے گا مگر اس کے باوجود انہیں تبدیل کر دیا گیا جس کی وجوہات بعدمیں سامنے آئیں جو کہ واضح طور پر جنر ل باجوہ اور نواز شریف کے مابین جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع/ ایکسٹینشن (Extension) کو لے کر کی جانے والی ڈیل تھی ۔بعد کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ جنرل باجوہ نے محض اپنے ذاتی فائدے کیلئے ملک کا بے حد نقصان کیا۔ آئی ایس آئی جس نے ملک کو دہشت گردی سے بچانا تھا اسے دہشت گردی کے انسداد سےہٹا کر تحریک انصاف کو کچلنے پرلگا دیا گیا۔
اسی طرح پی ڈی ایم حکومت کے وزی�� خارجہ نے پوری دنیا کا چکر لگایا لیکن افغانستان نہیں گیا کیونکہ ان لوگوں کو پاکستان کے امن ، ہمارے لوگوں کے جان و مال اور ہمارے سیکیورٹی اداروں کی قطعاً کوئی پرواہ نہ تھی۔ آج بھی ان کے پاس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی واضح حکمت عملی موجودنہیں جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ملک و قوم نقصان اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور میں ریاست کے اداروں کو سیاست سے پاک کر کے قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح بنایا تو ملکی اور غیر ملکی ناقدین نے ہائیبرڈ سسٹم کی اصطلاح ایجاد کی اور ہمیں ہدفِ تنقید بنایا ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ضمیر اور قلم فروشوں کے ایک نہایت چھوٹے سے گروہ کے علاوہ ماضی میں ہمیں ہائیبرڈ سسٹم کا طعنہ دینے والے ہمارے ناقدین بھی کھل کر ملک پر بدترین شخصی آمریت/ ڈکٹیٹرشپ کے غلبے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
پاکستان کا مستقبل عوام کے مینڈیٹ کے احترام ، قانون کی حکمرانی اور سیاست کے استحکام سے وابستہ ہے ۔ اپنے لوگوں کے خلاف ننگی فسطائیت یا لشکر کشی کے ذریعے دہشت گردی کا تدارک ممکن ہے نہ ہی پاکستان کو استحکام نصیب ہونے کے امکانات ہیں ۔ قوم کی مرضی کے برعکس فیصلے کرنے اور طاقت اور بندوق کے زور پر انہیں عوام سے منوانے کی کوششوں نے ہمیشہ منفی نتائج پیدا کیے ہیں ۔
آزاد میڈیا ریاست کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ یہ نگران (واچ ڈاگ) کا کردار ادا کرتا اور حکومت کو اپنی غلطیوں کی اصلاح پر مجبور کرتا ہے۔
پاکستان میں میڈیا ہمیشہ سے ریاستی اثر و رسوخ کے تابع رہا ہے جبکہ اہلِ صحافت اپنی تنقیدی سوچ کے باعث ریاستی عتاب کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔
میری حکومت نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا لاء کے ذریعے اس ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کی مگر سازش کے تحت لائی گئی تحریک عدمِ اعتماد کے بعد سے اسے کلیتاً ایک جانب دھکیل دیا گیا ہے۔
گزشتہ 2 برس کے دوران پاکستان میں میڈیا کو زبردستی زباں بندی پر مجبور کیا گیا ہےاور اختلاف کی جسارت کرنے والے صحافیوں کو جبر و عتاب کا سامنا ہے۔
ارشد شریف کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کے ذریعے ترکِ وطن پر مجبور کیا گیا اور پھر کینیا میں نہایت سفّاکیّت سےاس کا قتل کردیا گیا۔ ڈاکٹر معیدپیرزادہ، صابر شاکر اور وجاہت سعید خان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ عمران ریاض خان کو اغوا کیا گیا اور 6ماہ ��ے زائد عرصے تک بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ صدیق جان، سمیع ابراہیم، عارف حمید بھٹی اور عدیل حبیب جیسے صحافی مستقل دباؤ کے شکار ہیں۔
کون ہے جو ہمارے دستور اور عالمی معاہدوں کے تحت ہم پر عائد ذمہ داریوں کو کھلے عام پیروں تلے روندتے ہوئے ملک میں اس منظم ریاستی جبر و فسطائیت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے؟ میڈیا کے خلاف جاری یہ کریک ڈاؤن اور دھونس، دھمکی، ڈر، خوف اور دیگر فسطائی حربوں کے ذریعے اہلِ صحافت کی زباں بندی ہماری جمہوریت اور آزادئ اظہار پر بھی ایک کھلا حملہ ہیں۔
قیصے میری الفت کے جو مرکوم ہے سارے
آ دیکھ تیرے نام سے معصوم ہیں سارے
شاید یہ میرا ظرف ہے جو خاموش ہو اب تک
ورنہ تو تیرے عیب ہی معلوم ہے سارے
سب جرم میرے ذات سے منصوب ہیں محسن
کیا میرے سیوا اس شہر میں معصوم ہیں سارے
ذکر شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
اس رات دیر تک وہ رہا محوِ گفتگو
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی
مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گل مل گیا وہ شخص
حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں
شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی
تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پر کھلا یہ بھید
سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی
محسن میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حالِ دل
درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی
محسن نقوی.
نومبر ۲۰��۲ میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کے بعد بنی گالہ کے باہر لگے جانثاران کیمپ زمان پارک شفٹ ہوچکے تھے اس لیے ہمارا بھی زیادہ تر وقت لاہور گزرتا تھا۔ پنجاب میں انتخابی طبل بجا تو سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں، تحریک انصاف کی جانب سے پہلی ہی ریلی کے انقعاد پر دھاوا بول دیا گیا۔ درجنوں کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔ شام تک ظلِ شاہ کی تشدد زدہ لاش سڑک پر پھنکی ملی۔۔ یہ ۸ مارچ ۲۰۲۲ کا واقعہ ہے۔ مارچ سال کا تیسرا مہینہ ہے اور مئی پان��واں!
۱۴ مارچ کو خود پر درج ان گنت جعلی ایف آئی آرز میں سے ایک کی ضمانت کے لیے اسلام آباد آیا ہوا تھا، حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر، عدالت میں حاضری کے بعد لاہور واپسی کے لیے نکلا ہی تھا کہ ہمارے ایم این اے جنید اکبر نے اطلاع دی کہ بڑی تعداد میں پنجاب پولیس کے اہلکار عمران خان کی ۱۸ مارچ کی عدالتی پیشی کے وارنٹ پر عملدرآمد کرانے پہنچ گئے ہیں۔ دن کے وقت عموماً کیمپوں پر مقامی لوگ کم ہوتے تھے صرف دور دراز سے آئے کارکن موجود تھے۔ نہتے کارکن کسی مسلح جنگ کے لیے تو ٹرین ہوئے نہ تھے، نہ پولیس کی طرح ہتھیاروں سے لیس تھے، نہ ریاستی اہلکاروں کی طرح monopoly of violence کا گھمنڈ تھا۔ عمران ��ان کی محبت میں ڈنڈوں، آنسو گیس کے سامنے ڈٹے رہے لیکن کتنا کوئی وقت ڈٹے رہتے؟ اس لیے پبلک کال دی اور قریب کے علاقوں سے کارکنان کو فوراً زمان پارک پہنچنے کا کہا۔ ہم اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ چند گھنٹے سے زیادہ شاید ہی ہم اس معاملے کو کھینچ سکیں، مگر امید تھی کہ اس دوران وکلاء عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر اُس شتر بے مہار کو کوئی لگام ڈال سکیں کہ جو اپنی منشاء سے آئین و قانون کی ناک اور بازو مروڑ کر اپنے گھناؤنے عزائم پر عملدرآمد کراتے آرہے تھے۔ سچ کہوں تو ظلِ شاہ کی موت نے کسی کے دل میں ایسا کوئی گمان بھی نہ رہنے دیا تھا کہ سامنے والے یہ سمجھیں گے کہ ہم ایک ہی ملک کے باشندے فقط آئین و قانون کی عملداری کے لیے برسرِ احتجاج ہیں پھر بھی سب سر پر کفن باندھ کر کھڑے رہے کیونکہ سب جانتے تھے کہ ۴ نومبر پہلا موقع نہیں تھا جو عمران خان کی جان لینے کی کوشش کی گئی تھی۔ نومبر سال کا گیارواں مہینہ ��رور ہے مگر یہ نومبر بھی اُس مئی سے پہلے ہی آیا تھا۔
اگلے ۲۴ گھنٹے کیا کیا ہوا، عمران خان کی قوم نے کیسے عمران خان کی حفاظت کی وہ کہانی تو تاریخ کے لیے لکھی جانی ہے، تین مرتبہ عمران خان نے باہر نکل کر ہمیں سمجھانے کی کوشش کی کہ انہوں نے بہر صورت لندن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے۔ لیکن سب کی رائے یہی تھی کہ یہ تماشہ فقط گرفتاری کے لیے نہیں لگایا گیا۔
تمام رات اور اگلی صبح زمان پارک میں واقع ملک کے سابق وزیر اعظم، دنیا میں پاکستان کی پہچان، پچاس سال سے پاکستان کے سب سے قابلِ فخر بیٹے کے گھر پر سامنے سے اور ایچیسن کی جانب جانے والی سڑک سے فائیرنگ ہوتی رہی۔ ۳۶ خول تو اگلی صبح میں نے اپنے ہاتھوں اٹھائے۔ آنسو گیس کے شیلوں کی تعداد تو شاید گنتی سے ہی باہر تھی۔ گھر کے دروازوں اور دیواروں کو کرینوں اور بکتر بند گاڑیوں سے توڑنے کی کوششیں ہوئیں۔ اپنے لوگوں پر گولیاں چلائیں گئیں تشدد ہوا۔ یہ سب سال کی تیسرے مہینے میں ہورہا تھا، وہ مہینہ جو مئی سے پہلے آتا ہے!