حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص دن کے اول حصّے میں سورۃ یٰس پڑھ لیتا ہے اس کی پورے دن کی ضروریات پوری کردی جاتی ہیں۔
(سنن الدارمي، المعجم الأوسط للطبراني)
*طریقۂ دُعا بعد از تلاوت سورۂ یٰسین*
جب تلاوت کرلے تو درود شریف پڑھ کر اس کا ثواب حضور ﷺ کی روح مبارک کو ایصال کردے پھر یوں دعا کرے کہ اے اللہ! ہم نے آپ کے قرآن پاک کے قلب کی تلاوت کی ہے، اس کی برکت سے ہمارے دل کو اللہ والا بنا دیجئیے اور ہمارا نام عالمِ غیب میں شریفوں کے ساتھ درج فرما دیجئیے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں ہم پر عام فرما دیجئیے کہ اس سورت کا نام ’’معمّہ‘‘ ہے اور ہماری تمام بلائیں اور پریشانیاں دور فرما دیجئیے کہ اس کانام ’’مدافعہ‘‘ ہے اور اس کی برکت سے ہماری تمام حاجتیں پوری فرما دیجیے کہ اس کا نام حضور ﷺ نے ’’قاضیہ‘‘ بھی فرمایا ہے۔
لاکھوں کروڑوں درود سلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️ پر اور ان کی آل اولاد پر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌹
صبح بخیر زندگی 🌺
اس امید کے ساتھ کہ آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گے اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین 🤲
﴿ إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا ﴾
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾
Kya khoobsurat maut hai... Hajr-e-Aswad ko bosa dete hue Allah ko pyare ho jana
Zindagi ka sabse haseen lamha, aakhri saans Jannat ke darwaze par nikli.
Lab Hajr-e-Aswad par the, dil Arsh ke saamne tha, aur rooh seedha apne Rab se ja mili.
Kitni duaein, kitne sajde, kitne aansu is ek lamhe ke liye mange honge.
Log Makkah marne ki dua karte hain, aur inko Rab ne apne ghar ke sabse muqaddas patthar ko choomte hue bula liya.
Ye maut nahi, ye Rab ki raza ka certificate hai.
Ye aakhri bosa nahi tha, ye Jannat ki pehli dastak thi.
Kaash hamara khatma bhi sajdon me ho, Rab ke ghar ho, aur Zuban par "Allah" ho.
"يا مُحَمَّد :
إنَّ فُلانَ ابنَ فُلانٍ يُصلِّي عليكَ
.
الملائكة لرسولِ اللهِ ﷺ" ❤️
صلُّوا عليه
"اے محمد ﷺ!
فلاں بن فلاں آپ پر درود بھیج رہا ہے۔"
(یہ فرشتے رسولِ اللہ ﷺ کو اطلاع دیتے ہیں)
*"زيِّنوا ليلة الجمعة*
*بالصلاة على النَّبِيِّ ﷺ* ❤️
جمعہ کی رات کو نبی کریم ﷺ پر درود شریف بھیج کر اسے مزین کرو" ❤️
لہٰذا تم بھی ان پر کثرت سےدرود بھیجا کر
ایک فلسطینی بچی کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اظہار عقیدت
نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے معاف کر دوں گا
جمعہ کے دن عصر کے بعد 80 مرتبہ درود شریف
(https://t.co/7aJQzyaF9u)
حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے 80 مرتبہ یہ درود شریف پڑھے تو اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے اور 80 سال کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھا جائے گا۔
(القول البدیع : ۱۸۸)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آلِه وَسَلِّمْ تَسْلِیْماً
حضرت سہل بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد یہ درود شریف 80 مرتبہ پڑھے گا اس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوں گے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَعَلٰی آله وَسَلِّمْ
(القول البدیع : ۱۸۹)
فائدہ: اس دوسری حدیث میں اسی جگہ بیٹھ کر جس جگہ نماز پڑھی ہے قید نہیں ہے، اس حدیث کے اطلاق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر کسی وجہ سے متصلاً اُسی وقت اُسی جگہ نہ پڑھ سکے تو مغرب سے قبل جب بھی جہاں بھی موقعہ ملے 80 مرتبہ یہ درود شریف پڑھ لے گا تو اس فضیلت کا حامل اور حاصل کرنے والا ہو جائے گا۔
------------------------------------
جمعہ کے دن عصر کے بعد اسی(۸۰) مرتبہ پڑھا جانے والا درود شریف (ثبوت و تحقیق)
سوال:
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد 80 مرتبہ جو درودشریف پڑھا جاتا ہے کیا یہ پڑھنا صحیح ہے؟ اس درودشریف کو عام دن میں چلتے پھرتے پڑھ سکتے ہے؟ اور کوئی درودشریف بتادیں جو چلتے پھرتے پڑھ سکوں۔
جواب:
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد یہ درود شریف
’’ أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ‘‘
اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھنا ثابت ہے، اس عمل کی فضیلت اور اس کے ثبوت کے دلائل آگے ذکر کیے جارہے ہیں، اس درود شریف کو عام دن میں بھی چلتے پھرتے بھی پڑھ سکتے ہیں، سب سے افضل درود شریف درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے، اس لیے آپ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ،ہر وقت اس درود شریف کو پڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کسی مختصر درود شریف مثلاً ’’ اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد‘‘اور ’’صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کو بھی اپنا معمول بنا سکتے ہیں۔
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھے جانے والے درود شریف کی فضیلت اور ثبوت:
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صلاۃ وسلام پیش کرنا افضل ترین عبادت اور دربارِ خداوندی میں قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔ صلاۃ وسلام کے مختلف طریقے و صیغے ہیں جن کا احادیثِ مبارکہ میں ذکر ملتا ہے، اس پر محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔ درج ذیل درود شریف اکابر علماءِ کرام اور مشائِخ عظام کے معمول میں سے ہے، جسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ نے ’’فضائل درود شریف‘‘ میں نقل کیا ہے اور اکثر اسی کتاب کے حوالے سے اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔حدیث مبارک ہے:
’’من صلّٰی صلاةَ العصر من یوم الجمعة فقال قبل أن یقوم من مکانه : أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عامًا، وکتبت له عبادة ثمانین سنةً.‘‘ (القول البدیع، ص:۳۹۹، ط:دارالیسر)
’’جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے یہ درود شریف اَسّی(۸۰)مرتبہ پڑھے:
’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیماً‘‘.
اس کے اَسی(۸۰)سال کے گناہ معاف کردیےجاتے ہیں اور اَسی (۸۰)سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔‘‘
ذیل میں اس حدیث کی علمی و فنی تحقیق پیش کی جاتی ہے۔ ہماری زیرِ بحث حدیث میں جمعہ کے دن عصر کے بعد خاص درود شریف پڑھنے پر۸۰؍ سا ل کے گناہ کی معافی اور۸۰؍ سال کی عبادت کی بشارت ہے۔ذخیرہ احادیث میں اس قسم کی دو موقوف روایات ملتی ہیں:
پہلی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے جوابھی ذکر کی گئی۔ دوسری روایت حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں:
’’وعن سهل بن عبداللّٰه ؓ قال:من قال في یوم الجمعة بعد العصر: ’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي و علی أٰله وسلم‘‘ ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عاماً.‘‘
ان دو روایات میں تین فرق ہیں:
۱:۔۔۔۔۔ پہلی روایت میںـ’’قبل أن یقوم من مکانہٖ‘‘ کے الفاظ ہیں، جب کہ دوسری اس سے خالی ہے۔
۲:۔۔۔۔۔ اسی طرح پہلی میں ’’وسلم تسلیما‘‘ ہے، جب کہ دوسری روایت میں ’’تسلیما‘‘ کا لفظ نہیں ہے۔
۳:۔۔۔۔۔ پہلی میں ’’کتبت لہٗ عبادۃُ ثمانین سنۃً‘‘کے الفاظ بھی ہیں، جب کہ دوسری میں صرف
’’غفرت لہٗ ذنوبُ ثمانین عامًا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔
بہر حال ہر دو حدیث کا مضمون دوسرے کی تائید کرتا ہے۔
فتوی نمبر : 144003200476
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
🚨اہم ترین خود سن لیں دوسروں تک پہنچایں
خاص طور پر ایف آئی اے کو بھیجو کہ اگر سیاسی جماعتوں کے سپورٹرز ورکرز اپنے حق کی بات کریں تو منٹوں میں کاروائی ڈال دیتے ہیں مگر یہ فراڈیا لوگ سر عام عوام کو لوٹ رہے انکو پکڑنے میں تمکو موت پڑتی ہے
یہ تو مرشد عمران خان کا بھی باپ نکلا
بھٹو صاحب کے عدالتی قتل کا اعتراف کرنے والے جسٹس نسیم حسن شاہ نے حکومت کو درخواست دی کہ انکے پاس اپنا کوئی گھر نہیں ہے۔گھر بنانے کے لئے پلاٹ الاٹ کیا جائے۔حکومت نے ایک مہنگا پلاٹ کراچی شہر میں الاٹ کیا۔جسٹس نسیم حسن شاہ صبح کی فلائیٹ سے کراچی گئے۔الاٹ شدہ پلاٹ اسی دن فروخت کیا اور شام کی فلائیٹ سے گرم جیب سمیت واپس آ گئے۔۔۔
عبدالقیوم صدیقی
نماز میں دعا کے مقامات
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"دوران نماز جتنی جگہوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا مانگنا ثابت ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ چھ جگہیں ہیں۔ پھر آخر میں دو مزید بھی ذکر کیں-:
پہلی جگہ: تکبیر تحریمہ کے بعد، اس کے متعلق صحیح بخاری اور مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ثابت ہے "اَللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ۔۔۔" الحدیث
دوسری جگہ: رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑے ہونے کے بعد"مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ" کے بعد فرماتے اَللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَالْمَاءِ الْبَارِدِ ۔۔۔
تیسری جگہ: رکوع کے دوران ، اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: (آپ صلی اللہ علیہ و سلم رکوع اور سجدے میں کثرت سے فرمایا کرتے تھے: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيْ [ترجمہ: یا اللہ! تو پاک ہے ہمارے پروردگار اپنی تعریف کے ساتھ، یا اللہ! مجھے بخش دے۔]) اس حدیث کو امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
چوتھی جگہ: سجدے کے دوران، یہاں پر سب سے زیادہ دعا پڑھنی چاہیے؛ کیونکہ یہاں دعا کرنے کا حکم ہے۔
پانچویں جگہ: دو سجدوں کے درمیان : اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيْ
چھٹی جگہ: تشہد میں۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم قنوت اور قراءت کے دوران بھی دعا فرمایا کرتے تھے، دوران قراءت آپ رحمت والی آیت سے گزرتے تو رحمت مانگتے، اور جب عذاب والی آیت سے گزرتے تو عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے" ختم شد
فتح الباری: (11/132)
مذکورہ تمام جگہوں میں سے مطلق دعا کے لئے مؤکد ترین جگہ سجدے کی حالت اور آخری تشہد کے بعد ہے۔
جیسے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نماز کا سجدہ یا تشہد دعا کے مقام ہیں"