🔻لمحہ فکریہ..
اگر تم چاہتے ہو کہ کفر تمہاری دہلیز پر دم توڑ دے تو اپنے بچوں کے ہاتھوں سے مغرب کے کھلونے چھین کر انہیں خالد بن ولید اور طارق بن زیاد کی تلواروں کے قصے سناؤ۔ کیونکہ جو بچے کارٹون دیکھ کر سوتے ہیں وہ بڑے ہو کر سرحدوں کی حفاظت نہیں بلکہ اپنی آسائشوں کا سودا کرتے ہیں۔
"اگر تم چاہتے ہو کہ القُدْس آزاد ہوجائے،تو اپنی خواتین کو سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور سیدہ عائشہ سلام اللہ علیہا کے نقشِ قدم پر چلنے کی ترغیب دو۔کیونکہ جب مائیں اپنےبچوں کولوریاں سنانے کے بجائے مقدسات کی آزادی کے قصے سنائیں گی،تو ہرگھر سے ایک سلطان صلاح الدین ایوبی پیدا ہوگا۔"
کسی کے پاس کوئی لاجک ہے اس بات کی؟؟
پاکستان میں ایک مسجد پچھلے ایک سال سے حکومت کے قبضے میں ہے لیکن کسی ایک بھی لیڈر صحافی یا شہری میں اتنی ہمت نہیں کہ اس کی بازیابی کے لیے ایک لفظ ہی بول دے....
2 اکتوبر کا وہ مبارک دن جب88 سالہ صلیبی تسلط کا سورج غروب ہوا اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کرکے وہاں دوبارہ اسلامی پرچم لہرایا۔
مریدکے میں لبیک کی گونج میں دی جانے والی قربانیاں دراصل اسی مقدس مٹی کی آزادی اور فتح مبین کےسفر کا تسلسل ہیں۔
"افسوس اس امت پر جو اپنے بھائیوں سے لڑنے میں شیر ہے، لیکن جب بات دین کے دشمنوں سے مسجدِ اقصیٰ کو آزاد کرانے کی آئے تو بھیڑ بن جاتی ہے۔
یاد رکھو، بیت المقدس کی آزادی کسی معجزے سے نہیں، تمہاری بیداری سے ہوگی۔"
فاتحِ القُدْس
"وہ وقت بھی آ جائے گا جب مسلم فوج بھی عیاش سپاہیوں کا گروہ بن جائے گی، اور اس کے سالار دشمن کے ہاتھوں میں کھیلیں گے۔"
— سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ..‼️
"مسجدِ اقصیٰ تمہیں پکار رہی ہے اور تم دنیا کی محبت میں مست ہو؟
خدا کی قسم! اگر تم نے آج اپنی مقدسات کے لیے بازو نہ پھیلائے،تو تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا جو اس سے سچی محبت کرے گی۔"
— فرمانِ فاتح بیت المقدس