Env. and energy consultant. A humble student of history. Inspired by Hafiz, Rumi, Ghalib and Faiz. Cricket, Chess and Music - my passions. RT is not endorsement
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
پاکستانیوں آپ کہ اور عمران خان کی نوجوان وزیراعلی سُہیل آفریدی اور اُن کے نوجوان ساتھیوں نے اپنا کام کردیا اب آپ کی باری ہیں آپ سب نے نکلنا ہے ہماری طاقت آپ یعنی عوام ہے توڑ دو خوف کے بُت سب نے مل کر ایک دفعہ نکلنا ہے اگر آپ کی تعداد لاکھوں میں ہوگی آپ کے اور ہمارے لیڈر عمران خان کو کوئی بھی قید میں نہیں رکھ سکتا کوئی بھی آپ کی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتا نکلو اپنے حق کے لیے نکلو اپنے جائز حقوق کے لیے نکلو بے گناہ سیاسی قیدیوں کے لیے نکلو بشرہ بی بی ، علمیہ خان ، عظمیٰ خان، نورین نیاری، یاسمین راشد، ضنم جاوید، فلک جاوید سمیت تمام بے گناہ خواتین کی رہائی کے لیے
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
”عاصم منیر نے کہا تھا کہ پاکستان یہاں سے اونچی اڑان بھرے گا، آج پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ اس کے علاوہ معیشت، زراعت، سرمایہ کاری اور سیاحت میں ہم تنزلی کا شکار ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی ہو، عدالتی نظام ہو یا امن و امان ہو، ہر شعبہ میں آج پاکستان نے نیچے کی طرف سفر کیا ہے۔ ہمارے جرنیل اس مغالطہ کا شکار ہیں کہ آج بھی عوام ملکی مسائل کی وجہ سیاستدانوں کو سمجھ کر انہیں کلین چٹ دیتے ہیں، حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔“
عمران ریاض خان
”کوئی بھی Adventure کرنے کی کوشش کی گئی یا ملک کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر یاد رکھنا ایسا عوامی ردعمل آئے گا کہ تمھیں سر چھپانے کیلئے جگہ نہیں ملے گی،
خیبرپختونخوا میں حکومت عوام کی طاقت سے آئی ہے اور عوامی طاقت ہی اس حکومت کی حفاظت کرے گی، جس طرح 8 فروری کو اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کی تھی، اسی طرح اپنی منتخب حکومت کی حفاظت کرے گی۔“
وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ @SohailAfridiISF
کامران شاہد اور اس جیسے تمام غلیظ عسکری ٹاؤٹ صحافیوں کو نہیں پتہ کہ پاکستان بدل چکا ہے لوگ باشعور ہو چکے ہیں، پاکستان میں پہلا انقلاب 10 اپریل 2022 کو آیا تھا جب پوری قوم اس رجیم کے خلاف پورے ملک کی سڑکوں پر نکلیں اور دوسری مرتبہ اس سے بڑا انقلاب جب 8 فروری 2024 کو عوام عمران خان کو ووٹ دینے نکلی، اور یہ قوم آج تک عمران خان کے ساتھ ڈٹی اور کھڑی ہوئی ہے اور پاکستانی اس نظام پر تھوکتے ہیں، غلیظ عسکری ٹاؤٹ صحافیوں میں مقابلہ جاری ہے کہ کون گورنر راج کی پہلی خبر دیتا ہے سارے ٹاؤٹس سخت بے چین اور بیقرار ہیں، دوسری طرف خیبر پختونخوا کی 5 کروڑ آبادی کا منتخب نمائندہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا ہے جس کے پاس صوبے میں دو تہائی اکثریت ہے جو کہتا ہے کہ میرے لیے اس اقتدار سے زیادہ اہم میرا نظریہ ہے اور میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال واپس نہیں لوں گا، عسکری بیانیہ ہے کہ 4 اکتوبر کی کال واپس لینے سے سہیل خان آفریدی کی وزارت بچ جائے گی، لیکن تم کون ہوتے ہو ایک پر امن اور قانون کے دائرے میں ہونے والے لانگ مارچ کو رکوانے والے؟ تم ہوتے کون ہو گورنر راج کی دھمکیاں دینے والے؟ تم پہلے ہی عوام میں ننگے ہو چکے ہو اگر مزید ننگا ہونا ہے تو لگا دو گورنر راج، پھر تمہیں عوام بتائے گی۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
جتنا اعلی شوکت خانم کی اولاد کا عزم اور حوصلہ ہے ان کا دشمن اتنا ہی کم ظرف ہے!
عورتوں کو یرغمال بنا کر کسی کے حوصلے توڑنے کی کوشش اقتدار کی طاقت نہیں، حکمران کے خوف کا اعتراف ہے۔ دوائی اور خاندان کی رسائی روکنا حکومت کرنا نہیں، بلکہ ایک خوفزدہ اور حواس باختہ نظام کی بزدلانہ بوکھلاہٹ ہے۔
#خان_کی_بہنیں_فوری_رہا_کرو
Distinguished Columbia Univ. Prof. Jeff Sachs on Trump's lies about the Iran war:
“Trump lied to the American people in the most brazen way. He won office saying he was going to end these wars, then he plunged the US into the most reckless and stupid of all of them.”
نواز شریف اور مریم نواز کے سابق وکیل جہانگیر جدون کا کہنا ہے کہ جو کچھ آجکل تحریکُ انصاف کی قیادت کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سب کچھ کل کو ہمارے ساتھ بھی ہو گا انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والے عمران خان کو ریلیف دلوانے کے لئے احتجاج کر رہے ہیں حکومت کو چاہئیے خان کو ریلیف دیدے اور لانگ مارچ سے جان چھڑائے
Pakistan’s civilian leadership should come forward, send the army back to barracks and talk to these Baloch people directly. I am sure that as a result of such talks, both sides will reach on some mutually agreed solution.
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہر ایک کی مہلت مقرر ہوتی ہے۔ حکومت چلانا نون لیگ کے بس کی بات نہیں رہی جب کہ پنجاب کی وزیر اعلٰی اب Sitting duck ہیں ۔ اس ایک ہفتے میں منظر واضح ہو جائے گا ۔ دانائی کی بجائے ضد سے کام لیا گیا تو نتائج بہت زیادہ منفی ہوسکتے ہیں ۔ نئے صوبے بنانے ہیں تو خان سے بات کرنا ہو گی۔ ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
جن لوگوں نے رجیم چینج کرکے ملک پر چوروں کا ٹولہ مسلط کیا انہوں نے پانچ سالوں میں کیا حاصل کیا؟ یہ مسخروں کو ٹی وی پر بٹھا کر اب عوام کو کیا پیغام دے رہے کہ ہم نے جو یہ ملک بیڑا غرق کیا ہے ہم یہ بار بار کریں گے لیکن آپ لوگوں نے آواز نہیں اٹھانی ؟ہم نے نوجوانوں کو بیروزگار رکھنا، غربت کو 44 فیصد سے بھی اوپر لے کر جانا لیکن کسی نے آواز نہیں اٹھانی،ہم نے ظلم جبر فسطائیت کرنی ہے لیکن کسی نے آواز نہیں اٹھانی، عمران خان کو جیل میں رکھنا ہے، ان کی بہنوں کو ان کی اہلیہ بشری بی بی کو بے گناہ قید میں رکھنا ہے لیکن کسی نے آواز نہیں اٹھانی۔
لوگ بولیں گے، لوگ چار اکتوبر کو نکلیں گے اور اتنی تعداد میں نکلیں گے کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ جس تعداد میں نکلیں گے ایک میں جانتا ہوں ایک اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے پاکستان کی تاریخ میں اتنے لوگ نہیں نکلے ہونگے جتنے چار اکتوبر کو نکلیں گے۔
یاد رکھو کوئی بھی مس ایڈوینچر کرنے کی کوشش کی گئی تو قوم کا ریسپانس آئے گا اور کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔
وزیراعلی سہیل آفریدی