عمران ،زلفی ایشوز سے نواز شریف پاناموں تک،زرداری داستانوں سے شرجیل میمنوں تک اور ریحام خانوں سےقیمے والےنانوں تک سب باتوں کا جواب۔
نبیٌ کریم کا یہ فرمان”جیسے اعمال ویسے عمال”مطلب جیسی قوم ویسے حکمران مطلب جیسی روحیں ویسے فرشتے مطلب جیسا منہ ویسی چپیڑ۔
خودکو بدلو۔سب بدل جائے گا
پاکستان کا انتخابی نظام ہی ایسا گلا سڑا ہے کہ ایک ایماندار غریب شخص کبھی بھی ایک بےایمان دولتمند سیاستدان سے نہیں جیت سکتا۔
اور عمران خان آج اپنے کارکنوں کو نظرانداز کر کے ایسے ہی سیاستدانوں کو ساتھ ملانے پہ مجبور ہیں۔
بے ایمان کبھی پاکستان میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔
علامہ طاہرالقادری جنوری 2013 کے دھرنے میں عمران خان کو یہ کہہ کر بلاتے رہے کہ
“خان صاحب، یہ سیاسی نظام ایک شریف انسان کو کبھی کامیاب نہیں ہونےدیگا۔”
اور آج عمران خان اور انکےنظریاتی کارکنوں کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہےکہ کارکنوں کو اِگنور کر کے الیکٹیبلز کو ٹکٹ کیوں دئیے گئے؟
میں نے منہ کھولا تو نوازشریف منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں تہیں گے: چوہدری نثار
چوہدری صاحب، جب سے انکا سامنا عمران خان سے ہوا ہے، شریف خاندان ویسے ہی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔
قبلہ نوازشریف پہلے فرماتے تھے کہ
کیا کسی سیاستدان کی 92 پیشیاں ہوئی ہیں؟ کیس کو لٹکایا جا رہا ہے۔۔۔
اب وکیل چھوڑ گئے تو فرماتے ہیں کہ کیسی عدالت ہے جو اتوار کو بھی بلا لیتی ہے!!!
معاف کیجئے گا مگر نوازشریف جھوٹ اور منافقت کا دوسرا نام ہے۔
ایک بات یاد رکھیں۔
بے ایمان سیاستدان کبھی بھی پاکستان میں تبدیلی نہیں لا سکتا۔۔۔ اب اس کا تعلق چاہے پیپلز پارٹی سے ہو، ن لیگ سے ہو یا پھر تحریکِ انصاف سے۔۔۔ بے ایمان، بےایمان ہی رہے گا۔
کچھ ایسے اینکر حضرات بھی عمران خان کے ذاتی جہاز پہ عمرہ کرنے پر یہ تنقید کررہے ہیں کہ
“عمرہ ذاتی پیسوں سے کرنا چاہئیے”
جو کہ پچھلے دس سال سے شریف خاندان اور زرداری صاحب کے خرچے پر عمرہ فرماتے آ رہے ہیں۔
مجھے آج بھی شیخ رشید کے الفاظ یاد ہیں:
"نواز شریف، شیخ رشید تو اسمبلیوں میں ہوگا، مگر تم نہیں ہو گے"
شیخ رشید اہل قرار ۔۔۔۔!!
@ShkhRasheed#SheikhRasheed
جب حضرت امیر معاویہ کو صحابی رسول مانتے ہیں تو پھر ان کے فضائل کے بیان پر اعتراض کیوں ہے؟
حضرت امیر معاویہ کے ایسے فضائل جو مستند کتب حدیث سے ثابت ہوں کے بیان پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ۔ کتب تاریخ میں ان کی... https://t.co/uMK11tqCbW
تزکیہ نفس ہی اخلاقی، روحانی اور مادی ترقی کا ضامن ہے، تزکیہ فرد کی اصلاح و تعمیر تک ہی محدود نہیں بلکہ اقدار پر مبنی معاشرے کا قیام بھی اس کا مطلوب ہے، تزکیہ نفس ہی میں حقیقی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔
#دروس_مثنوی_مولانا_روم