"ٹائم نکال کر ضرور غور و فکر کیجئے گا"
مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر دور میں اللہ کسی نہ کسی ابو ذر کو ضرور پیدا کرتا ہے۔
ایسا انسان جس کا مسئلہ اقتدار نہیں ہوتا بلکہ ضمیر کی آواز ہوتی ہے۔
حضرت ابو ذر غفاریؓ ان چند لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا اور زمین نے کسی ایسے شخص کو نہیں اٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہو۔
سوچئے ذرا...
کسی انسان کی پہچان اسکی عبادت، بہادری یا علم سے پہلے اسکی سچائی ہو، تو پھر وہ آدمی کیسا ہی ہوگا؟؟؟
حضرت عثمانؓ کے دور میں اسلامی ریاست اپنی وسعت کے عروج پر تھی۔ فتوحات ہو رہی تھیں، دولت آ رہی تھی، نئے علاقے شامل ہو رہے تھے۔ لیکن اسی دور میں کچھ ایسے فیصلے بھی ہوئے جن پر بے تحاشا سوال اٹھے۔ گورنروں کی تقرریوں پر اعتراضات ہوئے، اقربا پروری کے الزامات لگے، اور ریاستی وسائل کے استعمال پر بھی مختلف آراء سامنے آئیں۔
ان حالات میں ایک آواز بار بار اٹھتی تھی۔
وہ ابو ذرؓ کی آواز تھی!
وہ بار بار سورۂ توبہ کی اس آیت کی طرف توجہ دلاتے کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انکے لیے سخت وعید ہے۔
انکے نزدیک ریاست کا صرف مضبوط ہونا کافی نہیں تھا۔
ریاست کا منصف ہونا ضروری تھا!!!!
تاریخ میں ہے کہ شام میں انکی حضرت معاویہ سے بھی اس معاملے پر بہت اختلاف ہوا۔ پھر وہ مدینہ واپس آئے، اور بعد ازاں انھیں ربذہ جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ ان واقعات کی تفصیلات مختلف مؤرخین نے مختلف انداز سے بیان کی ہیں، لیکن ایک چیز ہر روایت میں مشترک ہے:
"ابو ذرؓ نے اپنی بات کہنا نہیں چھوڑی۔"
انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ سامنے کون ہے۔
انہوں نے یہ دیکھا کہ حق اور سچ کیا ہے۔
مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے...
ہم ابو ذرؓ کی سچائی کے قصے تو بڑے شوق سے پڑھتے ہیں، لیکن اگر ابو ذرؓ ہمارے دور میں ہوتے تو کیا ہم انہیں برداشت کر لیتے؟
اگر وہ کھڑے ہو کر پوچھتے کہ سیاسی پارٹی یا ریاست کے اندر احتساب کہاں ہے؟
اگر وہ پوچھتے کہ اصول حالات کے ساتھ تیزی سے کیوں بدل جاتے ہیں؟
اگر وہ پوچھتے کہ جو وعدے عوام سے کیے تھے، ان کا حساب اب کون دے گا؟
کیا ہم انہیں بھی "وقت مناسب نہیں"، "اتحاد خراب ہو جائے گا"، یا "یہ تو دشمن کا بیانیہ ہے" ، "تم تو غدار ہو" کہہ کر خاموش کرانے کی کوشش نہ کرتے؟
مجھے لگتا ہے ہر تحریک کا اصل امتحان اقتدار میں نہیں ہوتا۔
اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ 'وہ اپنے ابو ذر کے ساتھ کیا کرتی ہے۔'
کیونکہ چاپلوس ہر دربار میں مل جاتے ہیں۔
مگر تاریخ میں جگہ ہمیشہ ابو ذر جیسے لوگوں کو ملتی ہے۔ وہ لوگ جو شخصیتوں کے نہیں، اصولوں کے وفادار ہوتے ہیں!
جو تالیاں بجانے نہیں، آئینہ دکھانے آتے ہیں۔
اور شاید اسی لیے ہر دور کا اقتدار انہیں بالکل پسند نہیں کرتا۔
کیونکہ اقتدار کو تو صرف تعریف سننا پسند ہے۔
سوال نہیں۔
مجھے نہیں معلوم آج ہمارے درمیان کوئی ابو ذر ہے یا نہیں۔
لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ اگر کسی تحریک یا ریاست سے سوال پوچھنا غداری بن جائے، اگر احتساب صرف دوسروں کے لیے رہ جائے، اگر اصول صرف تقریروں تک محدود رہ جائیں، تو پھر مسئلہ مخالفین نہیں ہوتے...
پھر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نے خود اپنے ہی نظریے سے ہی سمجھوتہ کر لیا ہوتا ہے۔
اور جس دن ایک تحریک اپنے نظریے سے سمجھوتہ کر لے، اس دن اس کی شکست باہر سے نہیں آتی...
اندر سے شروع ہوتی ہے۔
اندر سے.......
@iRaiSaqib کیوں آگے کہاں چلے گئے ہیں۔ فوج پر تنقید کیوں نہیں ہو سکتی؟ فوج کوئی اللہ نبی قرآن ہے جو اس کی حرمت پر فرق پڑتا ہے۔ آپ جیسے لوگوں نے ہی فوج کو مقدس گائے بنا رکھا ہے۔