It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے کرپٹ سیاستدانوں نے گزشتہ 70 سالوں میں پاکستان کا جو حشر کیا ہے وہ اب کم پڑھے لکھے اور عام لوگ بھی سمجھ رہے ہیں۔ اس عام آدمی نے جسطرح پاکستانی معاشرے کی موجودہ صورتحال کو بے نقاب کیا ہے اور علماء، ڈاکٹرز، غریب، اچھے اور بروں کی حقیقت بتاتے سب کو ننگا کردیا ہے
Where is Imran Khan and why isn’t he allowed meetings with family and personal doctors? What is Asim Munir and his team hiding? Does he know he is violating international laws and human rights standards that he will need to answer for?
“According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner.” @Aleema_KhanPK
Imran Khan’s opponents have a huge problem — no one trusts them anymore. People know that May 9th was false flag and cipher was real. Time and Time again, IK gets vindicated. One thing everyone has slowly learned: “never trust the propaganda against IK”
#EidMubarakImranKhan
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے جنید جہانگیر اور سلمان رضا کی رہائی کے لیے لکھے گئے خطوط۔
یہ تحریریں تارکین وطن کی جانب سے دیار غیر میں قید اپنے بھائیوں کے لیے آواز ہیں تاکہ ان کے اہل خانہ کی التجائیں اور دعائیں ہز ہائینس شیخ محمد بن زاید آل نهیان (@MohamedBinZayed) اور اعلیٰ حکام تک پہنچ سکیں۔
#JusticeForJunaidAndSalman
جس دن سائفر کے گم ہوا اس دن انٹیلجنس کا ایک آفیسر عمران خان کے کمرے میں پایا گیا تھا۔
سلام ہو ارشد شریف پر جس نے نہ صرف صحافت کا حق ادا کیا بلکہ قوم کو بتایا ملک کے ساتھ عمران خان کے ساتھ دراصل غداری کس نے کی ۔
پاکستان تحریک انصاف نے اپنی اتحادی جماعت MWM کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کے تمام 24 حلقوں میں جن امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، اُن کے نام درج ذیل ہیں
1) جی بی اے 1، گلگت 1 : الیاس صدیقی (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
2) جی بی اے 2، گلگت 2: عتیق پیرزادہ
انتخابی نشان: ٹرانسفارمر
3) جی بی اے 3، گلگت 3: سید سہیل عباس شاہ
انتخابی نشان: شانٹی ٹوپی
4) جی بی اے 4، نگر 1: زلفقار علی
انتخابی نشان: مینار
5) جی بی اے 5، نگر 2: ریاض اکبر (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
6) جی بی اے 6 ہنزہ: نیک نام کریم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
7) جی بی اے 7، سکردو 1: راجہ محمد زکریا
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
8) جی بی اے 8، سکردو 2: محمد کاظم میثم (MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
9) جی بی اے 9، سکردو 3: وزیر اظہر مہدی(MWM)
انتخابی نشان: خیمہ
10) جی بی اے 10، سکردو 4: ڈاکٹر محمد شریف
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
11) جی بی اے 11 کھرمنگ: سید محسن زیدی
انتخابی نشان: نلکا
12) جی بی اے 12 شگر: ایڈوکیٹ حسن شگری
انتخابی نشان: میڈل
13) جی بی اے 13, استور 1: شاہد
انتخابی نشان: شانٹی ٹوپی
15) جی بی اے 15 دیامر 1: نوشاد عالم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
16) جی بی اے 16 دیامر 2: سید عابد اقبال
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
17) جی بی اے 17 دیامر 3: حاجی کمان
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
18) جی بی اے 18 دیامر 4: ایوب قریشی
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
19) جی بی اے 19، غذر 1: شیر عظیم خان
انتخابی نشان: چارپائی
20) جی بی اے، 20 غذر 2: ندیم رفیق
انتخابی نشان: تالا
21) جی بی اے 21، غذر 3: راجہ جہانزیب
انتخابی نشان: چمٹا
22) جی بی اے 22، گانچھے 1: محمد اختر خان (MWM)
انتخابی نشان: نلکا
23) جی بی اے 23، گانچھے 2: عبد الرحیم
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
24) جی بی اے 24، گانچھے 3: صداقت حسین
انتخابی نشان: کرکٹ وکٹ
یتیمی میں پل کر گھر والوں کا کفیل بننے والے داؤد خان کی روداد، جسے 9 مئی فالس فلیگ آپریشن کے بعد فوجی عدالت نے دس سال قید کی سزا سنائی، گھر والوں کا یہ واحد سہارا آج کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے۔ داؤد خان کا واحد جرم عمران خان کے نظریے کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کی حقیقی آزادی اور روشن مستقبل کی جدوجہد تھا۔
”گلگت بلتستان میں ہمارے امیدواران کو ڈرانے، دھمکانے اور انتخابی مہم میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہمارا بلے کا نشان چھینا گیا اور جس جماعت کے ساتھ ہم نے اتحاد کیا اُس کا انتخابی نشان بھی واپس لیا گیا۔
کچھ حلقوں میں ہمارے امیدواران اور کارکنان پر ATA کے مقدمات بھی درج کیے گئے، لیکن ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود نہ ہم گھبرائے ہیں اور نہ ہی ہمارے امیدواران۔ انشاءاللہ ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔“
@AbdulKhalidPTI
سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان
”ہمیں فخر ہے کہ عمران خان ہمارا بھائی ہے۔ عمران خان نے تین سال جیل میں رہ کر پاکستانی قوم کو بتایا ہے کہ جب اپنی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا پڑے تو اسے عبادت سمجھ کر کریں۔ عمران خان نے کہا، یہ جدوجہد ایک عبادت ہے“
@Aleema_KhanPK#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا
جو سائفر کی موجودگی سے انکاری تھے، وہ اب مان تو گئے ہیں، لیکن اب یہ پوچھ رہے ہیں کہ اسے لیک کس نے کیا؟ اس کا جواب @DropSiteNews کی رپورٹ میں موجود ہے- #سائفر_ایک_حقیقت