م��فرآباد لہولہان
مظفرآباد میں 3 نوجوان وطن پے قربان ہو گئے جبکہ تقریباً 35 نوجوان زخمی ہیں ۔ اللہ پاک شہدا کو جنتوں کا مہمان بناۓ اور زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ عطا کرے،😢💔
اس خطے میں دو ہی نظریات باقی ہیں
ایک سہولت کاری
دوسرا مزاحمت کاری
آئیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
اس خطے میں اس وقت چِھڑی ہوئی جدوجہد اور سیاسی و معاشرتی ابال محض چند بنیادی مطالبات یا وقتی احتیاجات کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ دو باہم متصادم نظریات کا واضح اور تاریخی معرکہ ہے
ایک طرف اپنے حقوق کے لیے بیدار ہونے والی شعوری مزاحمت ہے، اور دوسری طرف زوال پذیر نظام کو سہارا دینے والی سہولت کاری۔
موجودہ حالات میں کشمیر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جہاں پی ایچ ڈی اسکالرز، باشعور نوجوان اور باصلاحیت لوگ اپنے حقوق اور خطے کے عادلانہ مستقبل کے لیے سرگرمِ عمل ہیں، اور جانیں دے رہے ہیں وہاں ان کی قابلیت کی نفی کر کے طاقتور حلقوں اور اپنے وفاداروں کو مسندِ اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے۔
مزاحمت کار کا نقطہ نظر: ایک تعلیم یافتہ اور باخبر مزاحمت کار کا مطالبہ یہ ہے کہ ریاست کا نظام میرٹ، علم، شفافیت اور انسانی اقدار پر قائم ہو۔ وہ جانتا ہے کہ کسی معاشرے کی حقیقی ترقی اس کے اہل اور باصلاحیت افراد کے ہاتھوں ہی ممکن ہے۔
سہولت کار کا عمل: سہولت کار کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مراعات، منصب اور مفاد کی خاطر اعلیٰ علمی معیار اور عوام کی قربانیوں کا سودا کرے۔ وہ اس لیے بھی باصلاحیت اور شعور رکھنے والے نوجوان کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ میرٹ پر مبنی نظام میں اس کی اپنی حیثیت صفر ہو کر رہ جاتی ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کا موجودہ شعوری جوش و خروش اس حقیقت کا مظہر ہے کہ معاشرہ اب نااہلی اور استحصال کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
حق پرست مزاحمت کار ایک ایسے کشمیر کی جدوجہد کر رہے ہیں جہاں:
عوامی وسائل پر عوام کا پہلا حق ہو۔
فیصلے راولپنڈی یا بیرونی اشاروں کے بجائے عوامی امنگوں اور آئینی و اخلاقی اصولوں کے مطابق ہوں۔
قابلیت اور تعلیمی صلاحیت کو سیاسی رشوت اور سہولت کاری پر فوقیت حاصل ہو۔
اس کے برعکس، سہولت کار طبقہ عوامی تحاریک کو دبانے اور باصلاحیت آوازوں کو خاموش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے، تاکہ ایسا نظام قائم رہے جس میں عام انسان کی حیثیت محض ایک کٹھ پتلی کی ہو
عقلی اور منطقی اعتبار سے جو نظام ظلم، بدعنوانی، اور نااہلی کی بنیاد پر قائم کیا جائے، وہ دیرپا نہیں ہو سکتا۔ آزاد کشمیر میں جاری موجودہ کشمکش علم کے نور اور جہالت کے اندھیرے کے درمیان معرکہ ہے۔
شعور کی فتح: پڑھا لکھا مزاحمت کار خطے میں ایک عادلانہ نظام، عوامی حقوق اور انسانی وقار کی ضمانت بن کر سامنے آتا ہے۔
سہولت کاری کی ناکامی: جبکہ سہولت کار محض چند مفادات کی خاطر اس جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، اور اس کا وجود تاریخ کے صفحات میں صرف نظامِ ظلم کا آلہ کار بننے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
حاصل کلام:
آزاد کشمیر کا موجودہ منظرنامہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ سچی فتح ہمیشہ حق، میرٹ اور بااصول مزاحمت کی ہوتی ہے، جبکہ مفاد پرستی پر مبنی سہولت کاری بالآخر اپنے ہی بوجھ تل�� دب کر نابود ہو جاتی ہے۔
سینیٹر مشتاق صاحب نے پیر کے دن تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ادویات، ایمبولینسز، فرسٹ ایڈ کٹس، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ کشمیر کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کر دیا۔
Until yesterday, Osama Shaheed was raising his voice for the rights of students around the world. Today, his silent grave calls upon students everywhere to raise their voices for him.
Osama! Through your slogans,
the revolution will come. 🚩✊
کمانڈر فاروق کی شہادت ہمارے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
کمانڈر فاروق کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے۔ وہ پیشہ ورانہ طور پر ایس ایس جی کمانڈو رہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے کسی مرحلے پر بھی اپنے اندر کے سپاہی کو خود سے جدا نہیں ہونے دیا۔ جس وقت انہیں شہید کیا گیا، تب بھی ان کے کندھوں پر وہی وردی موجود تھی جو انہوں نے دہائیوں قبل اپنائی تھی۔
پچاسی سالہ اس بزرگ جانباز کے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ 1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر انہیں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے چیئرمین یاسر عرفات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ کانفرنس عرب اسرائیل جنگ کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان میں منعقد ہوئی تھی۔
حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران اپنی تقاریر میں وہ اکثر ایس ایس جی میں اپنے عہدے اور اپنی یونٹ، 2 کمانڈو، کا فخر سے ذکر کیا کرتے تھے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نے ایک تربیت یافتہ کمانڈو کو پُرامن اور عدم تشدد پر یقین رکھنے والا سیاسی کارکن بنا دیا تھا۔ جب انہیں گولی مار کر شہید کیا گیا تو ان کے ہاتھ میں کوئی بندوق نہیں تھی۔
میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن میں بیان کر سکوں کہ وہ ہمارے لیے کون تھے۔ ان کی موجودگی ہمارے لیے کیا معنی رکھتی تھی، اور یہ جان کر دل پر کیا گزر رہی ہے کہ دکھ اور آزمائش کے ہر لمحے میں ہمیں سہارا دینے والا وہ مضبوط اور قابلِ اعتماد کندھا اب ہمارے درمیان نہیں رہا۔
جن لوگوں نے کمانڈر فاروق کو چُن کر نشانہ بنایا، وہ بخوبی جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ کمانڈر فاروق مزاحمت کی مجسم شکل تھے، ان پر چلنے والی دو گولیاں ایک فرد پر نہیں بلکہ سبز علی خان اور ملی خان سے لیکر اس دھرتی پر پیدا ہونیوالے ہر اس شہید اور غازی کے سینے پر چلی ہیں جس کے دل میں آزادی کشمیر کی تڑپ موجود تھی۔یہ ہم سے ہماری شناخت اور تاریخ چھیننے کی ایک ناکام کوشش تھی۔
کمانڈر فاروق کی شہادت کے بعد اس جدوجہد کی نوعیت پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری طرف سے تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے گا، مگر اب یہاں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ بھی باقی نہیں رہا۔ بات واضح ہو چلی ہے، ہم بیرونی قبضے اور جارحیت کیخلاف لڑائی لڑ رہے ہیں، چاہے دہائیاں بیت جائیں اور ہزاروں قربان ہو جائیں، یہ جدوجہد اب رکنے والی نہیں۔ ذہنی طور پر اس صدمے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ کل کمانڈر فاروق کو ٹی وی سکرینوں پر دہشتگرد طالبان کا سرغنہ قرار دیکر ان کی شہادت کا مذاق اڑایا جا رہا ہو گا۔
کمانڈر فاروق منگ کی اس تاریخی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے جہاں 1832 میں ڈوگرہ افواج نے ہمارے اٹھارہ سرداروں کی زندہ کھالیں اتروائی تھیں۔ ہمارے لیے وہ اس نسل اور اس کردار کی زندہ علامت تھے جس کے بارے میں ہم اب تک صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے۔ وہ اسی مٹی کے فرزند تھے جس نے 1832 اور 1947 کے جانبازوں کو جنم دیا۔
پاکستان رینجرز کی گولی کا نشانہ بننے والے کمانڈر فاروق نے اپ��ی زندگی کے پچیس برس اسی فوج کی خدمت میں گزارے جس کے ہاتھوں ان کی شہادت ہوئی۔ بعد میں جب کشمیر میں آزادی کی تحریک نے منظم صورت اختیار کی تو وہ اس تحریک کے اہم معماروں میں شامل رہے۔
آج جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائد یاسین ملک دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ ان کے استاد کو راولاکوٹ میں پاکستان کی سکیورٹی ��ورسز نے قتل کر دیا ہے۔
یہی کشمیر کی کہانی ہے۔
ایک دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہے، اور دوسرا آج اپنے وطن پر قربان ہو گیا۔ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے سائے کھو بیٹھے ہوں، اور خود کو بےسہارا محسوس کر رہے ہوں۔💔😢