میرا خیال ہے کہ امریکی صدر باسانی وسط مدتی انتخابات جیت جائیں گے... مگر وہ ہار گئے تو پھر حملہ ایران پر نہیں بلکہ امریکہ پر ہی کریں گے... 😂
#shieldofthenationcdf
Escalation of a conflict between Iran and the US will cause major destruction in the region and drive up oil and gas prices worldwide. Therefore, the international community must act collectively now to prevent Epic Fury-2. https://t.co/pz3jqA4m1a
Let us all acknowledge and be proud of Pakistan’s determination and perseverance. Despite numerous hurdles created by US - Israel, other set backs and conspiracy theories, Pakistan has simply been relentless. Pakistan will in Shaa Allah succeed in playing dominant mediating role for a diplomatic solution amongst Iran and ME .
“The United States and Israel have an ‘exceptional relationship’: Israel receives treatment that no other ally or partner enjoys,” writes @AndrwPMiller. Today, it is clear that “this exceptionalism has hindered the interests of both countries.”
https://t.co/pjegUQhmUn
Lord God willing, we are a generation set to witness rise of #Pakistan and containment of #Israel in its actual borders, and return of #Jerusalem to #Muslims. Decline of #America and rise of #China as superpower, and capitalist shift from #Europe to #Asia. A forgetten #India
ایک صحافی کی سب سے بڑی بددیانتی یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولے، ایک صحافی کی سب سے بڑی بزدلی یہ ہے کہ وہ جھوٹ پر اسلئے خاموش رہے کہ ساتھی صحافی نے بولا ہے، ایک صحافی کی سب سے بڑی نااہلی یہ ہے کہ وہ جھوٹ اور سچ میں تمیز کسیکھنے کی بجائے رٹا رٹایا سبق عوام کو سناتا رہے، صحافی برادری میں جس نقطے پر اتفاق ہونا چاہیئے وہ حقائق ہیں بحث کی وجہ حقائق جاننے کی جستجو اور بحث کا اہتمام حقائق کے ثابت ہونے پر ہونا چاہئے مگر بدقسمتی سے سازشی تھیوریاں پھیلانے اور بے پرکی اڑانے والوں کی طلب زیادہ ہے اور ایسے وقت میں جب کسی کی ساکھ کا تعین اسکی پیشہ وارانہ اہلیت کی بجائے سوشل میڈیا پر ویوز سے کیا جاتا ہے اس تناظر میں یہ بات اہم ہو گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر اگر آپکو لوگ زیادہ دیکھتے ہیں تو آپ پر تنقید کرنے والوں کی کوئی اہمیت نہیں
Demolition of Mosques compaign in India intensified. 10 more Mosques were demolished in the Indian state of Assam on 17th & 18th October 2026, some of which were over 50 years old.
My latest for @StratheiaJ - The Islamabad Shadow War!
In this piece, I review Intelligence Online's 4-part series on ISI. The series mistakes professional counterintelligence for hostility. Read here: https://t.co/TJKhPOz8ZU
#Pakistan#ISI#Intelligence#NationalSecurity
Economic hardship like #France would lead to financial crisis in #European countries. . It would result in chaos and racist riots in countries like #England. I see many #Pakistanis moving back with big fortune from #UK and #Pakistan would multiply on biblical proportion.
Lord God willing, we are a generation set to witness rise of #Pakistan and containment of #Israel in its actual borders, and return of #Jerusalem to #Muslims. Decline of #America and rise of #China as superpower, and capitalist shift from #Europe to #Asia. A forgetten #India
زندگی کے پندرہ سبق
1. اپنے خاندان کو پیسے قرض دینے کی بجائے جب بھی دیں ویسے ہی دیں۔
2. اگر آپ بیٹھے ہوئے ہیں تو کبھی کسی سے ہاتھ نہ ملائیں۔
3. لوگوں کو اُس سے زیادہ نہ بتائیں جتنی انہیں ضرورت ہو۔
4. جس کھانے کے آپ نے پیسے نہیں دئیے، اس کا آخری ٹکڑا کبھی نہ کھائیں۔
5. کسی کو متاثر کرنے کے لیے اپنے دوست کو مشکل میں نہ ڈالیں۔
6. مہمان بن کر کھانے کی توہین نہ کریں۔
7. اگر ایک واش روم مصروف ہو تو اس کے برابر والے کا استعمال نہ کریں۔
8. گفتگو کے دوران اپنا فون نہ نکالیں۔
9. جس کام کو آپ نے نہیں کیا، اس کا کریڈٹ کبھی نہ لیں۔
10. سنیں، سر ہلائیں، اور سب سے زیادہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔
11. اپنے دوست کا اس کے بچوں کے سامنے مذاق نہ اڑائیں۔
12. جذبات کو کبھی اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں۔
13. کبھی بھی تعلق کے لیے منت سماجت نہ کریں۔
14. کوئی بھی موقع ہو، اچھے کپڑے پہنیں۔
15. جب کوئی پہلے سے ہی مشکل میں ہو، تو اسے مزید پریشان نہ کریں
Lord God willing, we are a generation set to witness rise of #Pakistan and containment of #Israel in its actual borders, and return of #Jerusalem to #Muslims. Decline of #America and rise of #China as superpower, and capitalist shift from #Europe to #Asia. A forgetten #India
2018 میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد صرف ایک دو بار ہی موصوف سے ملاقات ہوئ - انہیں واقعی یقین ہو گیا تھا کہ وہ انتخاب خود جیتے ہیں (یعنی انہیں جتوایا نہیں گیا) - ایک میٹنگ میں جس کے گواہان بھی موجود ہیں، صرف دو مشورے دئیے تھے جناب کو:
پہلا یہ کہ انتخابات کے نتائج کے مطابق تقریباً 55 فیصد ووٹروں نے اپنا حق راۓ دہی استعمال کیا ۔ ان 55 فیصد میں سے 32 فیصد کا فیصلہ عمران خان کی تحریک انصاف کے حق میں تھا - خان صاحب سے ایک سپیشل تعلق تو تھا، لہذا درخواست کی کہ انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان کے تقریباً 67 فیصد ووٹروں کے لیڈر کوئ اور تھے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ سامنے رکھتے ہوۓ بہتر ہو گا کہ 67 فیصد ووٹروں کے لیڈروں کا تعاقب کرنے کی بجاۓ عوام کیلیۓ کام کرنے پر توجہ دی جاۓ۔
دوسرا یہ کہ پاکستان معاشرہ مسلسل سیاسی، عسکری ، مذہبی، صوبائ ، علاقائ، معاشرتی ریشہ دوانیوں کیوجہ سے بہت ٹوٹ پھوٹ چکا ہے ۔ اگر خان صاحب اپنی ہر دلعزیزی اور iconic position استعمال کرتے ہوۓ اِس ٹوٹے پھوٹے معاشرے کو جوڑنے کا مشکل کام کریں تو کیا پتہ اگلے انتخابات میں انہیں 32 فیصد کی بجاۓ 70 فیصد ووٹ مل جائیں۔اور بہت سے ناکارہ سیاستدانوں سے چھٹکارا مل جاۓ-
میرے خیال میں یہ کوئ بُرے مشورے نہیں تھے - لیکن اُس میٹنگ کے بعد خان صاحب نے پھر ملاقات کا موقع نہیں دیا-
آج کل جب وہ اڈیالہ میں مقیم ہیں، سوچتے تو ہونگے کہ انکے
33 وفاقی وزیر
10 وفاقی مُشیر
7 وزراء مملکت
35 سپیشل اسسٹنٹ
کی کثیر تعداد حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد سین سے ایسے غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔وہ کبھی عمران کے ساتھی تھے ہی نہیں - وہ تو انہیں ادھار پر ملے تھے۔
اور ہمارے جیسے بابے صحافی کوئ ایک آدھا فقرہ تنقید کا لکھ دیں تو خان صاحب کی محبت میں پاگل لوگ گالیوں کا انبار لگا دیتے ہیں ۔ ان بیچاروں کا بھی قصور نہیں۔ معاشرہ بھی تو ہر وقت ماں ***، بہن *** کرتا رہتا ہے۔ اگر مجھ جیسے صحافیوں، جنہوں نے پاکستان کی گذشتہ 40 سال کی تاریخ کو بہت قریب سے دیکھا ہے، کو گالیاں دے کر خان صاحب کے ناراض ساتھیوں کو کوئ خوشی ملتی ہے تو میرا کیا جاتا ہے۔
لیکن ایک بات تو مصدقہ ہے کہ عمران خان نے پاکستانی معاشرے کو جوڑنے کی بجاۓ بُری طرح توڑا ہے ۔ رب تعالیٰ انکی تکالیف اور مشکلات میں آسانی عطا فرماۓ ۔ آمین 🤲
نہایت معزرت کے ساتھ ....
چاند پر قدم رکھنے والا پہلا پاکستانی نہیں،
چوبیس برس کی عمر میں CSS ٹاپ کرنے والا نوجوان نہیں،
تیس ملین سبسکرائبرز بنانے والا یوٹیوبر نہیں،
شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑی بنانے والا ماہر نہیں،
اور نہ ہی کسی امریکی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر لیکچر دینے والا پروفیسر۔
اس شخص نے ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔
اس نے بس ایک عجیب سا جملہ کہا، "نشا پومی"—اور وہ وائرل ہوگیا۔
پھر وہی لوگ، جو کتابوں کے نام سے بور ہو جاتے ہیں،
علم کی گفتگو پر جمائیاں لیتے ہیں،
اور حقیقی کامیابیوں کو چند سیکنڈ سے زیادہ توجہ نہیں دیتے،
اس کے ساتھ ایک تصویر کے لیے بے قرار نظر آنے لگے۔
مسئلہ اُس شخص کا وائرل ہونا نہیں،
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے وائرل ہونے کو قابلِ قدر ہونے کا پیمانہ بنا لیا ہے۔
آج شہرت دلیل مانگتی نہیں،
صلاحیت کا ثبوت چاہتی نہیں،
اور کردار کی گواہی ضروری نہیں سمجھتی۔
بس چند لمحوں کی توجہ چاہیے،
اور پھر انسان "مشہور" ہے۔
شاید مسئلہ یہ نہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے؛
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات بدل دی ہیں۔
جس معاشرے میں علم سے زیادہ شور،
صلاحیت سے زیادہ نمائش،
اور کردار سے زیادہ مقبولیت اہم ہو جائے،
وہاں پھر سنجیدہ لوگ خاموش اور تماشے کے کردار مقبول ہو جاتے ہیں۔
یہ واقعی احمقوں کی صدی نہیں
شاید یہ وہ صدی ہے جس میں ہم نے خود طے کر لیا ہے کہ کس چیز کو اہم سمجھنا ہے۔