سورۃ اخلاص اور حیران کن ریاضیاتی و عددی مطابقت
سورۃ اخلاصکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی صورۃ ہے جو عقیدہ توحید کامکمل ترین بیان ہے۔ اس میں اللہ کی خصوصیات جامعیت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں گویا یہ معبود کریم کی پہچان کا مکمل بیان ہے۔اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ سورۃ فاتحہ کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی سورت ہے تو میں درست کہہ رہا ہوں گا۔
اس خوبصورت اور مکمل سورۃ کے پیچھے ایک بہت خوبصورت اور مکمل ریاضیاتی نمونہ چھپا ہے ۔یہ بات ہے سورہ اخلاص کی، جس میں اللہ اپنی وحدانیت بیان کرتا ہے اورجو قرآن کا تیسرا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی کے ساتھ الفاظ کا چناؤ اور توازن غور کرنے والوں کے لیے خود میں ہی ایک معجزہ ہے اور آج ہمیں اس سورت کو صرف روحانی نہیں بلکہ عددی مطابقت اور اس میں موجود بے مثال توازن کی نظر سے اس کا جائزہ لیں گے
سورہ اخلاص کے کل حروف گنے جائیں تو یہ 47 بنتے ہیں جو کہ ایک طاق عدد ہے یعنی ہر طاق عدد کی طرح اس کے بیچ میں ایک مرکزی ہندسہ جس کے دونوں طرف برابر اعداد ہوں گے اور اگر 47 کو دیکھا جائے تواس کے بیچ میں ایک حرف اوراس کے دونوں طرف 23، 23 حروف ہوں گے۔سورۃ اخلاص میں یہ بیچ کا حرف لام ہے جو کہ نہ کہ صرف پوری سورت بلکہ لفظ یلد کا بھی درمیانی نقطہ ہے اور لفظ یلدکا مطلب ہے پیدا کیا اور یہ بات تو ہم سب کو پتہ ہے کہ جب انسان کی تخلیق ہوتی ہے تو اس میں ٹوٹل 46 کروموسومز اکٹھے ہوتے ہیں جس میں سے 23 مردانہ اور 23 زنانہ جنس کی طرف سے آتے ہیں یعنی لفظ پیدا کیا کا مرکزی نقطہ ہونا اوراس مرکزی نقطہ کے دونوں طرف 23، 23 حروف ہونا محض ایک اتفاق نہیں۔
لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی سورۃ الاخلاص کے پورے الفاظ گنیں تو یہ 15 ہیں یعنی بیچ میں ایک لفظ اور اس کی دونوں طرف سات سات الفاظ اور اس بار بھی یہ بیچ کا لفظ یلد ہی ہے اب اس سورہ کی مکمل حرکات یعنی زیر زبر پیش کو گنیں تو وہ 3،3 ہیں یعنی پھر سے ایک مرکزی نقطہ اور اس کی دونوں طرف 16، 16 حرکات اور اس بار بھی یہ مرکزی نقطہ وہی لام ہے جو اسی لفظ یلد کا حصہ ہے اور اس کی دونوں طرف 16، 16 حرکات ہیں۔
اب صرف زبر کو دیکھیں تو لام کے دونوں طرف 10 زبر ہیں، پیش کو دیکھیں تو وہ بھی دونوں طرف برابر اور متوازن یعنی کہ چھ، چھ ہیں لیکن زیر کا کیا؟؟آپ سن کر بڑے حیران ہوں گے کہ پوری صورت میں صرف ایک زیر ہے اور یہ اسی لام کے نیچے ہے جو کہ کسی ترازو کی طرح پوری سورت کو متوازن کیے ہوئے ہیں۔
ویسے عربی میں ہر لفظ کی ایک عددی قدرہوتی ہے جس کو ابجد کہا جاتا ہے اور اگر اس لام کو مرکزی نقطہ مان کراس سورۃ کے دونوں اطراف کی عددی قدروں کو جمع کیا جائے تو دونوں طرف98 آتا ہے جو کہ لام کو پھر سے ایک درست ترین توازن کے نقطہ کی ایک مکمل ترین مثال بنا رہا ہے ۔
یہ ان لاکھوں مثالوں میں سے ایک مثال ہے جو یہ ثبوت مہیا کرتی ہیں کہ قرآن کسی انسان کی نہیں بلکہ اللہ کی تخلیق ہے اور اسی پر ہمارا ایمان تکمیل پذیر ہوتا ہے۔ سورہ اخلاص میری پسندیدہ سورۃ ہے ۔ کیا آپ بھی اس کو پسند کرتے ہیں؟
منقول
عمر انسان کو محبت سے بے زار نہیں کرتی، بلکہ محبت کے نام پر ملنے والی بے یقینی سے تھکا دیتی ہے۔
ایک وقت آتا ہے جب دل کو شاعری نہیں، سکون چاہیے ہوتا ہے۔ جب خوبصورت الفاظ سے زیادہ قیمتی وہ خاموشی لگتی ہے جس میں کسی وضاحت کی ضرورت نہ پڑے۔ انسان ایسے کندھے کی تلاش میں نکلتا ہے جہاں سر رکھنے کے بعد اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی نہ کہنا پڑے۔
زندگی کی سب سے بڑی نعمت یہ نہیں کہ کوئی تم سے بہت محبت کرے، بلکہ یہ ہے کہ کوئی تمہیں خوف سے آزاد کر دے۔ ایسا شخص جو تمہارے دل میں سوال نہیں، اطمینان چھوڑے؛ جو تمہارے زخم نہ گنے بلکہ ان پر مرہم رکھ دے؛ جو تمہارے اندر ہر روز ایک نئی جنگ نہیں، ایک نئی صبح پیدا کرے۔
یاد رکھو، انسان کو سب سے زیادہ وہ رشتے توڑتے ہیں جن میں وہ خود ہوتے ہوئے بھی خود نہ رہ سکے۔ اور سب سے زیادہ وہ رشتے زندہ کرتے ہیں جن میں خاموشی بھی محبت کی زبان بن جائے۔
آخرکار، محبت کا سب سے بلند درجہ دل میں ہنگامہ برپا کرنا نہیں، بلکہ دل کو اس مقام تک پہنچا دینا ہے جہاں وہ پہلی بار بے خوف ہو کر کہہ سکے: "اب میں محفوظ ہوں۔"
@muamir کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
بدتمیزی کا جواب ہر بار معاف کرنا نہیں ہوتا بعض اوقات اینٹ کا جواب پتھر سے دینا پڑتا ہے
ہر انسان اپنی کہانی کا ہیرو ہوتا ہے۔ آپ جسے ضدی کہتے ہیں...
شاید وہ اندر سے خوفزدہ ہو۔
آپ جسے سست کہتے ہیں...
شاید وہ ذہنی تھکن کا شکار ہو۔
آپ جسے بدتمیز کہتے ہیں... شاید وہ زندگی کی کسی خاموش جنگ میں مصروف ہو۔
اس لیے... لوگوں کے رویوں کو دیکھنے سے پہلے، ان کی کہانی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ... جب سمجھ بڑھتی ہے تو غصہ کم ہو جاتا ہے، اور جب غصہ کم ہوتا ہے تو رشتے مضبوط ہو جاتے ہیں۔
میں نے سورۂ یوسف نہ جانے کتنی بار پڑھی ہوگی
ہر بار یہی لگا کہ میں حضرت یوسفؑ کی پوری کہانی جانتی ہوں۔
کنواں
غلامی
قید اور پھر بادشاہت۔
لیکن آج میری نظر ایک ایسی چیز پر جا کر ٹھہر گئی جسے میں ہر بار پڑھ کر بھی نظر انداز کرتی رہی تھی
وہ تھیں... تین قمیضیں۔
اللہ چاہتے تو صرف واقعات بیان کر دیتے، مگر انہوں نے تین مختلف مقامات پر تین مختلف قمیضوں کا ذکر کیا
جیسے وہ ہمیں سکھا رہے ہوں کہ:
کبھی کبھی ایک انسان کی پوری روحانی اور جذباتی زندگی صرف تین قمیضوں میں سمٹ جاتی ہے۔
اور شاید ہم سب بھی انہی تین قمیضوں سے گزرتے ہیں
پہلی قمیض
وہ قمیض جس پر جھوٹا خون لگا دیا گیا۔
حضرت یوسفؑ کے بھائی جب اسے حضرت یعقوبؑ کے پاس لائے...
تو وہ صرف ایک قمیض نہیں تھی
وہ حسد کا اعلان تھی
جھوٹ کی گواہی تھی
ایک باپ کے دل پر چلنے والی تلوار تھی
لیکن حضرت یعقوبؑ نے قمیض دیکھی اور بات سمجھ گئے
اور فرمایا:
"پس صبر ہی بہتر ہے، اور جو تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں"
تب مجھے احساس ہوا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک پہلی قمیض ضرور آتی ہے
ایک دھوکہ
ایک جھوٹا الزام
ایک ایسی جدائی جس کا اس نے انتخاب نہیں کیا ہوتا
اور سب سے زیادہ درد اس بات کا نہیں ہوتا کہ لوگ بدل گئے
بلکہ اس بات کا ہوتا ہے
کہ جنہیں ہم نے اپنا سمجھا
وہی ہمیں تنہا چھوڑ گئے۔
بعض اوقات
اللہ ہمیں دشمنوں کے ذریعے نہیں آزماتے
وہ ہمیں اپنوں کے ذریعے آزماتے ہیں۔
شاید تم بھی ابھی پہلی قمیض میں ہو۔
کسی کی بے وفائی ابھی تک دل میں زندہ ہے۔
کسی کی باتیں ابھی تک راتوں کو جگاتی ہیں۔
کسی کی جدائی نے تم سے تمہاری ہنسی چھین لی ہے۔
اگر ایسا ہے
تو یاد رکھو
پہلی قمیض کہانی کا اختتام نہیں ہوتی۔
یہ صرف آغاز ہوتی ہے۔
پھر دوسری قمیض آتی ہے۔
اس بار وہ خون آلود نہیں بلکہ پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے۔ جب حضرت یوسفؑ گناہ سے بچنے کے لیے بھاگے تو یہی پھٹی ہوئی قمیض ان کی پاکدامنی کی دلیل بن گئی۔
لیکن عجیب بات یہ ہے...
پہلی قمیض پر لگا خون جھوٹ تھا،
دوسری قمیض کا پھٹنا سچ کی گواہی بن گیا۔
گویا اللہ ہمیں یہ سکھا رہے ہیں:
کہ جھوٹ وقتی طور پر جیت سکتا ہے
لیکن ہمیشہ نہیں۔
اگر تم سچے ہو
تو تمہیں ہر ایک کو اپنی صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔
کبھی کبھی
اللہ تمہارے لیے ایسے ثبوت پیدا کر دیتے ہیں
جن کے بعد دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔
لوگ تمہارا نام خراب کر سکتے ہیں
لوگ تمہاری عزت چھیننے کی کوشش کر سکتے ہیں
لیکن اگر اللہ عزت دینے والا ہو
تو پوری دنیا بھی اسے چھین نہیں سکتی۔
پھر سال گزرتے ہیں۔
آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں۔
کنواں ختم ہوتا ہے
تو غلامی شروع ہو جاتی ہے۔
غلامی ختم ہوتی ہے
تو قید شروع ہو جاتی ہے۔
میں نے یہاں رک کر سوچا
حضرت یوسفؑ نے آخر کبھی شکایت کیوں نہیں کی؟
شاید اس لیے
کیونکہ انہیں منزل پر یقین تھا
اگرچہ راستہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
اور یہی ایمان ہے
جب راستہ دھندلا ہو
لیکن دل کو منزل پر یقین ہو۔
پھر آخرکار
تیسری قمیض آتی ہے۔
اب نہ اس پر خون ہے
نہ دھوکہ
نہ الزام
صرف شفا
حضرت یوسفؑ نے فرمایا:
میری یہ قمیض لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی واپس آ جائے گی۔
یہ صرف آنکھوں کی روشنی کی واپسی نہیں تھی
یہ امید کی واپسی تھی
صبر کا صلہ تھا
اور برسوں کی دعاؤں کا جواب تھا
اللہ دیر کرتے ہیں، مگر بھولتے نہیں
وہ خاموش رہتے ہیں، مگر غافل کبھی نہیں ہوتے
تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تین قمیضیں صرف حضرت یوسفؑ کی نہیں
ہم سب کی بھی ہیں
کبھی ہم پہلی قمیض میں ہوتے ہیں
ٹوٹے ہوئے
کبھی دوسری میں
اپنی سچائی ثابت کرتے ہوئے
لیکن مسئلہ یہ ہے
ہم تیسری قمیض بہت جلدی چاہتے ہیں
ہم چاہتے ہیں اللہ ہمیں فورا شفا دے دیں
لیکن ہم ابھی تک پہلی قمیض پر لگے خون کو دھونے میں لگے ہوتے ہیں
ہم اب بھی ماضی کو بدلنا چاہتے ہیں
ہم کہتے ہیں:
کاش وہ دھوکہ نہ ملا ہوتا
کاش وہ شخص نہ ملا ہوتا
کاش وہ جدائی نہ ہوئی ہوتی
کاش وہ الزام نہ لگتا
مگر شاید اللہ فرما رہے ہوتے ہیں:
اگر پہلی قمیض نہ ہوتی تو صبر نہ سیکھتے
اگر دوسری نہ پھٹتی تو تمہارا کردار ظاہر نہ ہوتا
اور اگر یہ دونوں نہ ہوتیں تو تیسری قمیض کی قدر بھی نہ ہوتی
شاید اسی لیے سورۂ یوسف کو بہترین قصہ کہا گیا
کیونکہ یہ صرف ایک نبی کی داستان نہیں
ہر اس دل کی کہانی ہے
جو آج رو رہا ہے
لیکن کل مسکرائے گا
اگر آج تم پہلی قمیض میں ہو تو مایوس نہ ہونا
اگر دوسری میں ہو تو ثابت قدم رہنا
اور اگر ابھی تک تیسری قمیض نہیں ملی تو جلدی نہ کرنا
جس رب نے خون آلود قمیض سے کہانی شروع کی
اسی رب نے شفا دینے والی قمیض پر اسے مکمل کیا
اس لیے اگر آج تمہاری زندگی میں صرف پہلی یا دوسری قمیض ہے
تو یاد رکھنا
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
وہی الحکیم…
آج تمہاری کہانی بھی لکھ رہا ہے
اور جب اللہ کہانی لکھتے ہیں۔
تو کوئی داغ ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی الزام ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی آنسو ہمیشہ نہیں رہتا
آخرکار
ہر صبر کرنے والے کے لیے
اللہ ایک تیسری قمیض ضرور رکھتے ہیں۔
نماز پڑھتے ہوئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم
تیسری یا چوتھی رکعت میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم تیسی رکعت میں تھے یا چوتھی میں
تو اس سچویشن میں ہم کیا کریں ؟
دیکھتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز پر شکہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعات نماز پڑھیں ہے تین یا چار تو وہ شک کو چھوڑ دے
اور جتنی رکعات پر یقین ہو پر ہی بنیاد رکھیں
اگر تین پر یقین ہے تو اسے چوتھی پڑھنی چاہیے
پھر سلام سے پہلے دو سجدے کرلےاور اگر اس نے پانچ رکعاتیں پڑھ لی ہے تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت یعنی چھ رکعات کر دیں گے اور اگر اس نے چار پورے کر لیے تو یہ سجدے شیطان کو ذلت اور رسوائی کا باعث بنیں گے
اس طریقے سے وہ اپنی نماز مکمل کر لے
ہمارا پاکستانی معاشرہ بہت toxic ہے ۔
اپنے سگے کسی کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے ۔ حسد تو عام ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں اپنے سگے بہن بھائی کی ٹانگ کھینچی جاتی ہے ۔
میرا سسرال گاؤں سے relate کرتا ہے ۔ انپڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ جاہل بھی ہیں ۔ اس لئے تعویذگنڈے بہت ذیادہ کرائے جاتے ہیں ۔ مجھے بائیس سال ہو گئے ان جادو ٹونوں سے جنگ کرتے ۔اور الحمد للہ بہت اچھی حالت میں ہوں ۔
قرآن مجید میں جہاں جادو کا ذکر کیا گیا ۔وہاں صرف ایک پہلو کا ذکر کیا گیا کہ میاں بیوی میں جھگڑے کے لئے لوگ یہ کرواتے ہیں ۔ ساتھ ہی اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ نقصان اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ اور آخرت میں تو وہ آگ ہی میں جلیں گے ۔
جو جو جادو میں نے بھگتے ان میں میاں جی کی مجھ سے روز کی لڑائی ۔ اور بعض اوقات بہت شدت کی طوفانی لڑائی ۔ مجھے جادو کا ذہن میں ہی نہیں تھا اس لئے میں سمجھتی کہ شاید میاں جی ٹینشن میں ہوتے ہیں اس لئے جھگڑا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد مجھے ساس سے جھگڑا کرنے کے تعویذ کھلائے گئے ۔ وہ سال میں نے بہت اذیت میں گزارے ۔ ساس کی آواز میرے کانوں میں زہر کی طرح محسوس ہوتے ۔ دل چاہتا بغیر کسی وجہ کے انھیں چٹیا سے پکڑ کر گھر سے باہر نکال پھینکوں ۔لیکن الحمد للہ میں نے خود پر جبر کیا اور کچھ بھی غلط نہیں کیا ۔ اب رشتوں کی کھینچا تانی پر مجھ پر بیماری کا جادو کیا گیا کہ شاید یا مر جاوں یا بیڈ پر ہو جاوں ۔ مجھے ہارٹ کا مسئلہ ہوا ۔ دل بہت اپ سیٹ ہو گیا ۔ بے وجہ بہت شدت سے دھڑکتا اور HB بہت لو ۔ گاڑی کے ہارن یا کسی کے اونچا بولنے پر سینے سے نکلنے کے لئے اچھلتا ۔میں مستقل بیڈ پر ہو گئی ۔ نہ بیٹھ سکوں نہ چل سکوں ۔ جیسے جسم بےجان ہو جائے ۔ ملتان کارڈیالوجی گئے ۔ ڈاکٹر نے دوا دی لیکن افاقہ نہ ہوا ۔ پھر سائیکالوجسٹ کے پاس گئ اس نے ذہنی سکون کی دوا دی کہ میں رشتے کے بارے میں سٹریس میں ہوں لیکن کچھ فرق نہیں پڑا اور آخر کار روحانی عاملوں کے در پر گری ۔
ان بائیس سالوں میں جو میں ان جادو ٹونے سے نکلتی رہی ہوں اس کا نچوڑ بتانا چاہتی ہوں کہ مجھے امید ہے بہت سوں کا فائدہ ہو جائے گا ۔
اگر میاں بیوی کی بےوجہ لڑائی ہوتی ہو یا خاوند بےوجہ لڑتا ہو۔ یا اچانک کوئی بیڈ پر آ جائے تو ضرور دم کیجئے گا ۔
آپ کو کسی مولوی یا عامل کے پاس جانے کی ضرورت نہیں سب دکاندار ہیں ۔ کسی کو آپ کی تکلیف سے کوئی مطلب نہیں ۔ آپ کو اگر ایسا کوئی شک ہو تو پہلے نظر کا دم کر لیں ۔ بعض اوقات نظر سے بھی حالات خراب ہو جاتے ہیں ۔ نظر کے لئے سورہ القلم کی آخری دو آیات ۔ و ایکادو الذین کفروں لیزلقون بابصارھم لما سمع زکرا و یقولون انه لمجنون ۔و ماھو الا بذکر اللعلمین ۔ 21 بار تین دن پڑھ کر دم کر لیں ۔ ایک چھوٹا کتابچہ منزل نام سے بازار سے مل جاتا ہے اس میں قرآن کی مخصوص آیات ہیں اگر وہ بھی پڑھ لی جائے تو اس سے بھی نظر اتر جاتی ہے ۔
جادو فوری ختم کرنے کے لئے وضو کے ساتھ 313 بار آیت الکرسی بغیر بات کئیے ایک ہی نشست میں پڑھ کر پانی پر دم کر کے جسے مسئلہ ہو اسے پلا دیں ۔اگر زم زم ہو تو تھوڑا مکس کر لیں ۔ اس کا فرق آپ کو اگلی صبح ہی سے معلوم ہو جائے گا ۔
بعض جادو بہت سخت ہوتے ہیں جیسے پتلے بنا کر کئے ہوئے یا قبروں میں دفن کئیے ہوئے ۔ ان کے لئے مستند علاج 41 دن فجر اور مغرب کی نماز کے فوری بعد گیارہ گیارہ بار صرف سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھ کر خود پر اور پانی پر دم کر کے پی لیں ۔ جادو سے الحمد للہ مکمل نجات مل جاتی ہے ۔ اگر وقت ہو تو سات بار سورہ فاتحہ اور سات بار آیت الکرسی بھی پڑھ لیں ۔ اللہ کے کلام میں ہی شفا ہے ۔ خواتین کسی بھی حالت میں ناغہ نہیں کریں گی بس جنابت کی حالت نہ ہو ۔
اگر آپ جاننا چاہو کہ کرنے والا کون ہے تو گیارہ گیارہ بار سورہ نشرح صبح شام پڑھیں ۔ خواب میں وہ شخص ضرور نظر آئے گا ۔
اللہ تعالی سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ سب کے گھروں کو سلامتی کے ساتھ آباد رکھے ۔
منقول
شیطان دو سمتیں بھول گیا۔
! جب شیطان نے کہا کہ اے اللہ! میں اولادِ آدم پر دائیں
بائیں، آگے، پیچھے چاروں طرف سے حملے کروں گا۔ تو فرشتے یہ سن کر حیران ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا!۔۔ اتنے متعجب کیوں ہو رہے ہو؟ فرشتوں نے کہا: 'اے اللہ! اب تو ابنِ آدم کے لیے مشکل ہو گئی ہے، وہ تو اس مردود کے ہتھکنڈوں سے نہیں بچ سکیں گے۔' پروردگارِ عالم نے فرمایا! 'تم اتنے متعجب نہ ہو، اس نے چاروں سمتوں کے نام تو لیے ہیں مگر اوپر نیچے والی دو سمتوں کو بھول گیا ہے۔ اس لیے میرا گنہگار بندہ جب نادم اور شرمسار ہو کر میرے در پر آئے گا اور اپنے ہاتھ مانگنے کے لیے اٹھائے گا تو چونکہ اس کے ہاتھ اوپر کی سمت اٹھیں گے، اور شیطان اوپر کی سمت اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔ اس لیے ابھی میرے بندے کے ہاتھ نیچے نہیں جائیں گے، میں اس سے پہلے سارے گناہ معاف کر دوں گا۔' اور اگر میرا بندہ نادم و شرمندہ ہو کر میرے در پر آکر اپنے سر کو جھکا دے گا تو چونکہ سر نیچے کی سمت کو جھکائے گا تو شیطان نیچے کی سمت سے اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔ اس لیے میرا بندہ ابھی سجدے سے سر نہیں اٹھائے گا کہ اس سے پہلے میں اس کے گناہ معاف کر دوں گا۔
@FrihaAyub اللّہ آ پکی بیٹی کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے میری طرف سے 1000درود شریف کا تحفہ قبول کریں اللّٰہ انکی برکت سے آ پکی بیٹی کی تمام خواہشات کو پورا کرے آ مین
السّلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ
یا اللّٰہ !
ہمارے *قدموں* کو اپنی
*رضا* کی جانب موڑ دے
ھم سے *راضی* ھوجا
ھم پہ *کرم* فرما
ھم پہ *رحم* فرما
ھماری *بخشش* فرما
ھمارے *گناه* معاف فرما
ھم کو آنے والی *پریشانیوں* سے بچا
ھم سب کے *حق* میں
اس *دعا* کو قبول فرما
آمین یارب
پاپولر لیڈر | زبان کے فائر
پاپولر لیڈر عام طور پر اپنی قوم کے لئے عذاب ہوتے ہیں....
انکی پہلی خوبی ہوتی ہے... سبز باغ... یہ اپنی قوم کو ایسے سبز باغ دکھاتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں بس یہی سالا ہماری زندگی کو اس عذاب سے نکالے گا
جذباتی نعرے... انکا دوسرا ہتھیار ہوتا ہے... انکی ایک ٹیم دن رات نعرے سازی کا کام کرتی ہے...
انتہائ مشکل معاملات... کا سادہ سا حل ایسے پیش کرتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں دیکھو یہ سب کتنا آسان ہے ہمارے حکمران تو بس لوٹ مار لگے ہیں...
جب انکو اقتدار مل جائے تو انکی بیوقوفیاں مزید ڈبل اور انکے چاہنے والوں کی چار گنا ہوجاتی ہیں
وہ تمام آسان حل اچانک ناقابل عمل ہوجاتے ہیں اور
انکی وضاحتیں وہ والی ہوتی ہیں کہ رشیدہ کی مونچھ ہوتی تو رشید کہلاتی
اور
مزے کی بات تیسری دنیا میں تو بہت آسان ہے لیکن امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں. بھی
لوگ ٹرمپ جیسوں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں