Kapil Dev, Sunil Gavaskar among Ex-Cricket Captains Urging Immediate Medical Care for Imran Khan
The intervention follows claims by Khan’s family and lawyer that he has lost 85% of sight in his right eye due to an untreated condition while in prison.
https://t.co/vkTa4JlEBy
#ImranKhan was one of the very few Pakistanis who spent a lot of time in India. In the good old days when cricket was cricket, people like Sunil Gavaskar, Zaheer Abbas, Kapil Dev, and Imran Khan belonged to their respective countries, but people would also say they were the pride of Asians: @vikrantgupta73
#IndiaFirst | @gauravcsawant
کھیل کے میدان کے بعد انسانیت میں بھی بھارتی کرکٹرز نے پاکستانی کرکٹرز پر اپنی برتری ثابت کر دی
۔۔
“سابق بھارتی کپتان سارو گانگولی نے خان کے حق میں آواز اٹھا دی”
Michael Holding made a strong statement during live commentary on Sky Sports Cricket today, February 17, 2026, in response to the former captains' appeal for @ImranKhanPTI medical treatment. It was during coverage of the ongoing ICC Men's T20 World Cup matches.
"That is brilliant, I'm so happy to see that. I thought everybody was just going to sit on the sidelines and watch Imran being persecuted and abused"
عمران خان صاحب نے ایک بار پھر صرف اپنے ذاتی ڈاکٹرز سے ملنے کا کہا ہے جو اُن کا آئینی و قانونی حق ہے۔ جعلی حکومت اور اُن کو لانے والوں کی ہٹ دھرمی سے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں جوکہ خطرناک ہے۔ ایسی حرکتوں سے ملکی حالات کو زبردستی خراب کیا جا رہا ہے۔
ہمارے کارکنان جو اپنی مدد آپ پرامن دھرنا دیے ہوئے ہیں اُن کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان صاحب کا اُن کے ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی ممبر کی موجودگی میں بہترین علاج ہو۔
میرے خیال میں معزز عدلیہ کو کوئی بھی حکم دینے سے پہلے مسئلہ پوچھنا چاہئیے۔ کہ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ بیٹھے کیوں ہے؟ کیوں اُن کے لیڈر کو اُن کا آئینی و قانونی حق نہیں دیا جا رہا؟ کیوں ملاقاتیں بند ہے؟ کیوں عدالتیں ایک سال سے اُن کے کیسز نہیں سُن رہی؟ کیوں ۳،۳ ججز کے احکامات کو اڈیالہ جیل کی انتظامیہ ردی کی ٹوکری میں پھینک رہی ہے؟ کیوں اکتوبر 2024 کے بعد عمران خان صاحب سے اُن کو ذاتی معالج کو نہیں ملوایا جا رہا؟ آنکھ کی تکلیف کو یہاں تک پہچانے والا کون ہے؟ کیا آئین و قانون صرف پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہے؟ پاکستان کے تمام ادارے پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ اور ورکرز کو کیوں دوسرے درجے کا شہری سمجھ رہے ہیں؟ کیا ہم پاکستانی شہری نہیں ہیں؟
عدالت کے احکامات کے بعد آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ کا ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالی وردی کے پیچھے حکم و احکامات خاکی وردی کے ہیں۔ آئی جی پی وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور جب ایک دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں باہر سے لائے گئے پولیس کے بڑے اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو آمنے سامنے لایا جائے تو حالات کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے؟
یہ یاد رہے کہ ہم عمران خان صاحب کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ اور انتہائی تکلیف کے باوجود بہت برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں- یہ بھی ذہن میں ہو کہ عمران خان صاحب کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ پاکستانی عوام مزید ظلم برداشت نہیں کرے گی اور نا ہی ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔
As a member of the medical board of California the largest in the nation and probably the world, I serve in one of the most diverse healthcare systems in the world — caring for the incarcerated, homeless, underserved, and every community in between. One principle is non-negotiable: PATIENT RIGHTS come first — without waiting for political signals or court orders.
We are not asking Pakistan to replicate California. But fundamental healthcare rights — timely evaluation, transparency, and respect for patient & family CHOICE — are universal medical ETHICS .
This is a moment for Pakistan’s MEDICAL community to rise above politics and stand firmly for those principles.
If advanced care is required for #ImranKhan , California’s world-class institutions are available to help facilitate comprehensive treatment.
#HealthcareForAll
#DelayedIsDeniedTreatment
International cricket legends express deep concern for the well being of @ImranKhanPTI. As a sport star, Imran Khan brought honor and distinction to #Pakistan. Every Pakistani should care about his wellbeing. Why wouldn't the establishment care about the wellbeing of this distinguished son of #Pakistan?
https://t.co/sxfFfauKwa
Via Imran Khan’s sister @DrUzma_KhanPK
“In the last meeting, my brother Imran Khan insisted me to go out and say one thing, but I said that I will not do it.
He had told me that they will kill me slowly and Asim Munir will be responsible for it.
I am now realizing that he was right based on how they are treating him and what people like interior minister are saying.”
#ComeToStreetsForKhan
خان صاحب کی بہنوں کے اس بیان کے بعد کہنے اور سننے کو کچھ نہی رہتا- خطرہ خان صاحب کی آنکھ کا نہی رہا، خطرہ خان صاحب کی جان کا ہے اب-
مجھے پتہ ہے آپ سب کو خان صاحب سے شدید محبت ہے- جو ظلم خان صاحب کے اپر ہو رہا ہے آپ سب کو ظلم اور ظالم دونوں سے نفرت بھی شدید ہے لیکن جیسا کہ خان صاحب نے بہت پہلے کہا ہے
“ مجھے آپ سے سخت گلہ ہے ، آپ کو جگانے میں بہت ٹائم لگتا ہے “
اٹھو اور اپنی تقدیر کا ، اپنے ملک کا ، اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے-
عمران خان کی قید پر وہ زرداری صاحب طنز کر رہے ہیں جنہوں نے خود بیماری کا جواز اور بہانہ بنا کر اسلام آباد ہائیکورٹ میں فاروق ایچ نائیک کے ذریعے درخواست کی تھی، زرداری صاحب کو کم از کم 8 بیماریاں بتائی گئیں اور نواز شریف کی بیماریوں کی طرح اتنا خوفناک نقشہ پیش کیا گیا کہ الامان الحفیظ۔ انسان کچھ تو شرم کرتا ہے، عہدے کا لحاظ نہ سہی کم از کم اپنے ماضی کا لحاظ ہی کر لینا چاہیے
بس ایک آنکھ ہی تو ہے
باقی تو سب خیریت ہے نہیں تو ذوالفقار علی بھٹو کے حالاتِ زندگی اور اُن کے انجام کا جائزہ لیں تو مملکتِ خداداد میں جب دشمنی کے پیمانے قائم ہو جائیں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ تین ماہ تک پاکستان کے بڑے لیڈر جیل میں کہتے رہے کہ دائیں آنکھ کی بینائی میں فرق پڑ رہا ہے اور اُن کے اس کہنے پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی۔ آنکھوں کے قطرے ضرور دیے گئے جو کہ چکوال کی ہر فارمیسی پر دستیاب ہوتے ہیں لیکن کسی سپیشلسٹ کو نہ بلایا گیا۔ عمران خان کی خبر اوپر تو جاتی ہی ہوگی لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہاں اوپر بیٹھے ہوئے ایسی باتوں پر کم ہی دھیان دیتے ہیں۔ ہاں کوئی نوازشریف ہو تومرتب کی ہوئی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر اُن کو علاج کی غرض سے لندن بھیجا جاسکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ جس قیدی کا ذکر ہو رہا ہے اُس کا نام نوازشریف نہیں عمران خان ہے۔ اور اُن کے حوالے سے یہی سب سے بڑی قباحت ہے۔
عمران خان نے جو کچھ کیا اور جن کے ساتھ کیا ان کی نظروں میں ان کی خطاکاری ناقابلِ معافی ہے‘ کسی نرمی کے مستحق نہیں۔ پہلی بڑی خطا عمران خان کی یہ تھی کہ جو اپنے آپ کو پنجاب کے پکے اور دائمی ٹھیکیدار سمجھتے تھے ان کا سارا سیاسی بھانڈا انہوں نے پھوڑ کے رکھ دیا۔ جنرل مردِ حق کی سرپرستی اور رہنمائی میں ان کی اجارہ داری قائم ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی کی تو کوئی حیثیت نہیں تھی کہ اس اجارہ داری کا مقابلہ کرتی‘ پیپلزپارٹی کے تو خود پتے پنجاب سے فارغ کر دیے گئے تھے اور جسے انگریزی میں اِرریلیونٹ (Irrelevant) کہتے ہیں وہ اس کی پوزیشن پانچ دریاؤں کی سرزمین میں ہوچکی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اجارہ داری اتنی طاقتور تھی کہ لگتا یہی تھا کہ اسے کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ لیکن کم بخت عمران خان آیا اور اس نے اس اجارہ داری کے ساتھ وہ کیا کہ شریف زادے آج تک نہ سمجھ سکے کہ ان کے ساتھ ہوا کیاہے۔ جن کے ساتھ ایسا ہو وہ اس قسم کے روحانی اور جسمانی زخم کبھی بھول سکتے ہیں؟ زمانے کا کھیل تو دیکھئے کہ جہاں ایک وقت میاں کے نعرے لگتے تھے آج کہیں لندن کے کسی شاپنگ سنٹر میں جائیں تو ڈر رہتا ہے کہ کہیں آوازیں ان پر نہ کَسی جائیں۔
دوسرا جو ناقابلِ معافی جرم عمران خان سے مرتکب ہوا وہ پردہ داروں کے حوالے سے ہے۔ پردوں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کی گئیں کہ عوام محظوظ تو ہوئے لیکن جو نشانۂ گفتگو تھے وہ ان دنوں کا تمسخر کبھی بھول نہیں سکتے۔ اس لیے نرمی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ تو عمران خان کو داتا دربار پر دیگیں چڑھانی چاہئیں کہ دو سال سے زائد قیدِ تنہائی میں شکایت صرف ایک آنکھ کی بینائی کے بارے میں ہے۔ نہیں تو جیسے عرض کیا یہاں تو بہت کچھ ہو جاتا ہے اور پھر پتا بھی نہیں چلتا کہ جو ہوا‘ کیسے ہوا اور کون سے عوامل پیچھے تھے اُس کرنے میں۔ اس بات پر کسی کو کوئی شک ہو تو ارشد شریف کی کہانی یاد کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ہم تو یہی کہیں گے کہ عمران خان اپنے کو خوش قسمت ہی سمجھیں۔
ایک بات غور کرنے والی ہے کہ عمران خان کو جتنا خطرناک یہاں کے لوگ سمجھتے ہیں جیفری ایپسٹین بھی ایسی ہی رائے کا قائل تھا۔ اس کی ایک ای میل ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ ایرانی قیادت سے بھی زیادہ خطرناک یہ شخص ہے۔ یہ تب کی ای امیل ہے جب عمران خان وزیراعظم بن چکے تھے یا بننے جا رہے تھے۔ یہ تو اب عیاں ہو گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین اسرائیلی سیکرٹ سروس موساد کا بہت ہی اہم اثاثہ تھا۔ یہ جنسی تعلقات کی کہانیاں اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیوں کی داستانیں یہ تو ایپسٹین کہانی کا ایک حصہ ہے۔ بنیادی سوال تو یہ ہے کہ ایپسٹین کی دولت کہاں سے آئی؟ انٹرنیٹ ایپسٹین داستان کے بارے میں بھرا پڑا ہے لیکن اس سوال کا خاطر خواہ جواب اب تک نہیں ملا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ایپسٹین کا سارا جنسی تعلقات اور بلیک میلنگ کا نیٹ ورک اسرائیلی سیکرٹ سروس موساد سے ملا ہوا تھا۔ ایپسٹین کی داشتہ ٔ اول گیلین میکسویل کے باپ رابرٹ میکسویل کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی ایجنٹ تھا اور موساد کے لیے کام کرتا تھا۔ برطانیہ میں اس نے اپنی بہت بڑی حیثیت بنا لی تھی ‘ پارلیمنٹ کا ممبر ہوا اور بھاری بھرکم اخباروں کا مالک تھا لیکن رہا اسرائیلی ایجنٹ۔ اس تناظر میں پھر دیکھیے کہ ایپسٹین عمران خان کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے کہ صہیونی اور امریکی نقطۂ نظر سے یہ شخص ایران سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایپسٹین کی جو فائلیں نکل رہی ہیں اور اب تک جو نکلی ہیں‘ تیس لاکھ کے برابر ہیں۔ یا وہ لوگوں کو اپنے جزیرے پر بلا رہا ہے‘ اپنے پرائیویٹ جہاز پر سیر کرا رہا ہے یا اُنہیں جنسی تعلقات کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ جن کو لڑکیاں دستیاب کررہا ہے یا پیسے دے رہا ہے اُن کے بارے میں کوئی بری بات نہیں کہتا۔ بری بات کہتا ہے تو ایک شخص کے لیے جس کا نام عمران خان ہے۔
آنکھ کی بینائی کے متاثر ہونے سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ انصاف کے کاروانوں پر بھی بالآخر کچھ اثر پڑا ہے۔ نہیں تو ہم جیسے ناسمجھوں کو یہ گمان ہو رہا تھا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیمات میں کچھ ایسے نیند پرور نسخوں کا اثر پنہاں ہے کہ انصاف کے کاروانوں کو خبرہی نہیں مل رہی کہ دھرتی پر کیا ہو رہاہے۔ مختلف نکات پر جتنی درخواستیں پی ٹی آئی نے مسندِ انصاف کو ارسال کی ہیں اتنی عرشوں پر بھیجی جاتیں تو وہاں اچھا خاصا اثر ہو جاتا۔ یہ تو آنکھ والا معاملہ چھڑا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ بنا کر جیل میں ملاقات کرنے کا راستہ مہیا ہوا۔ اور جو رپورٹ پھر سلمان صفدر نے اعلیٰ مسندِ انصاف کے سامنے پیش کی تب اس آنکھ والے مسئلے کی تفصیلات دنیا کے سامنے آئیں۔ ورنہ ملاقاتوں پر قدغن رہتی اور بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے لیے قطرے ہی مہیا ہوتے۔ رپورٹ مرتب ہوئی اور سپریم کورٹ نے پڑھی تب ٹھہرے ہوئے پانیوں میں بھونچال آیا اور فکر کی ایک لہر پورے دیس میں دوڑی۔ دوست ہو یا دشمن ایسے حالات بنائے جائیں ہمدردی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ دیکھیے اب سلاطینِ اقتدار کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔ ایک بات سلاطین کے حق میں کہنا پڑے گی کہ عمران خان بیٹھا تو جیل میں تھا‘ خاندان کیا وکلا کی ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد رہی‘ لیکن ایوانانِ اقتدار میں چین نام کی چیز نہ آئی۔ ان دو سے زائد سالوں میں قیدی تو نہ گھبرایا لیکن اس سارے عرصے صیاد گھبرائے گھبرائے لگے۔ الیکشن اُڑا لیے گئے‘ فارم 47کے کرشمات اجاگر ہوئے‘ لیکن چین پھر بھی نہ آیا۔
کیا کیا نہیں ہوا‘ صدر ٹرمپ کی طرف سے تعریفی کلمات آئے‘ تھپکیاں ملیں‘ باامر مجبوری صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس جو کہ غزہ کے بارے میں ہے کا ممبر بننا پڑا۔ مسلمان ریاستوں کا بھی کیا حال ہے‘ نہ صرف پاکستان بلکہ ہم سے کئی گنا زیادہ طاقتور مسلم ممالک کو بورڈ آف پیس کا ممبر بننا پڑ رہا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کی ناراضگی مول نہیں لے سکتے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرکے اقوام عالم میں پاکستان کی عزت بڑھ گئی ہے۔ چین تو پھر آئے۔ لیکن کاغذی مینڈیٹ کے ہوتے ہوئے چین نام کی چیز نصیب نہیں ہورہی۔