اپنی زبان سے لگلے ہوئے الفاظ کی ذمہ داری تو ہم لے سکتے ہیں، لیکن سمجھنے والے کی سوچ کی ذمہ داری کسی طور پر نہیں لی جاسکتی، کالی عینک لگا کر دنیا کو کالا کرنا کچھ لوگوں کی تربیت میں شامل ہوتا ہے !
زبان کے کڑوے لوگ دل کے صاف ہوتے ہیں۔ یہ بات شاید بد تہذیب لوگوں نے اپنی تعلیم و تربیت کی خامیاں چھپانے کے لیے گھڑی ہو گی ورنہ جس کا دل صاف ہو اسکی زبان بھلا کیونکر کڑوی ہو سکتی ہے؟ الفاظ ہی کرتے ہیں مائل بھی، قائل بھی اور گھائل بھی
جن کے پاس روزگار نہیں وہ غربت کے غم سے واقف ہیں، جن کی شادی نہیں ہوئی وہ اپنی عمر گزرنے سے واقف ہیں، جن کے پاس اولاد نہیں وہ اپنی محرومیاں جانتے ہیں اور کسی کی سیاہ رنگت اور چھوٹا قد ان کا مسئلہ ہے آپ کا بار بار بتانا ضروری نہیں ہے۔
لوگوں کو سکون سے جینے دیں