رسول اللہﷺ نے فرمایا
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (صحیح بخاری)
#إلا_رسول_الله_يا_مودي
اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی پارلیمنٹ ہاوس میں جوائنٹ اپوزیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو
24 اگست 2026
جیسا کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف نے آج کے دن کو مبارک دن قرار دیا کہ ہم نے، حزبِ اختلاف کی بینچوں پر بیٹھنے والے تمام لوگوں نے، تمام پارٹیوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایک جوائنٹ اپوزیشن کا کردار ادا کیا جائے گا۔ مشترکہ حکمتِ عملی اور مشترکہ اقدامات باہمی مشاورت کے ساتھ سرانجام پائیں گے۔
اور کچھ چیزیں جو ہم سب کے مدنظر ہیں اور اس پر سب کا ایک اتفاقِ رائے ہے کہ ملک میں اس وقت امن و امان کی صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے۔ امن و امان کی اس صورتِ حال کو محض ایک معروضی حادثہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ دو صوبوں کی صورتِ حال تقریباً نصف صدی سے خون آلود ہے۔ اور ایک طرف ہماری سرزمین خون سے سرخ ہے اور دوسری طرف ہمارے حکمران بیرونِ ملک سرخ قالینوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
تو درونِ در چہ کردی کہ بیرونِ خانہ آئی
() تو نے گھر کے اندر کونسا تیر مارا کہ اب باہر آکر دندنا رہے ہو۔ پہلے اپنے گھر کا حال تو لے لو۔ اندر کی ساری کمزوریوں کو بیرونی اسفار اور لال قالینوں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔
امن و امان اگر خراب ہے تو ملکی معیشت بری طرح متاثر ہے۔ ہم ہندوستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کرتے ہیں، ہندوستان کے ساتھ ہم تقابل کی باتیں کرتے ہیں۔ آئیے ذرا دیکھیں تو صحیح کہ آج بھارت دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا ہے اور چھے سے سات سو ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر کا مالک بنا ہے، اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟
عدلیہ کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ پوری دنیا میں ہماری رینکنگ کیا ہے؟ معیشت کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ امن و امان کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟
اور جب ملک اس طرح آگ کی لپیٹ میں ہے، بھوک کی لپیٹ میں ہے تو ہم ایسے وقت میں صوبوں کو توڑ رہے ہیں۔
ہمارا اس پر بھی اتفاقِ رائے ہے کہ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں ہے، نہ ماحول ہے، نہ اس کے لیے تیاری ہے۔ اس سے عدمِ اعتمادی بڑھے گی کہ ایک زمانے سے اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کے حلق کا کانٹا ہے، اسے ہر قیمت پر اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنا ہے اور صوبوں کے جو وسائل ہیں،معدنی ذخائر ہیں ان کو اپنی گرفت میں لینا ہے۔ اس کے لیے صوبوں کو کمزور کرنا، ان کو توڑنا، نئی یونٹ بنانا، اس حوالے سے ہم سب کا اتفاق ہے کہ یہ وقت اور اس طرح کے اقدامات ریاستی سطح پر، ملکی سطح پر پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔
کشمیر کی صورتِ حال ابتر ہے۔ پہلے ہی ہندوستان کشمیر کے حوالے سے ایسے اقدامات کر چکا ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی جو اسپیشل اسٹیٹس تھی، وہ ختم کر دی گئی ہے۔
اور اب یہاں پر کشمیر میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، جہاں مصنوعی طور پر اکثریتیں قائم کرکے حکومتیں بنائی جا رہی ہیں، ایسی صورتِ حال میں جب وہاں کے عوام سڑکوں پر ہیں، راولا کوٹ میں تین مہینوں سے لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔ عوام کے مسائل کے حل کی بجائے احتجاج کرنے پر اور مطالبہ کرنے پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس قسم کے اقدامات، اور پھر ہمارے ملک میں سیاسی قیدی جیلوں میں ہیں۔ ان سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوئی وجوہات نہیں ہیں کہ ملک کی جیلیں جو ہیں، وہ سیاسی قیدیوں سے بھری پڑی ہوں۔ اس حوالے سے بھی ہمارا اتفاق ہے کہ قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے اور ملک کا سیاسی ماحول صحیح کرنا چاہیے۔
دھاندلی کی بنیاد پر قائم کی گئی حکومت، وہ نہ ملک کے اندر عوام کی نمائندہ ہے، نہ ملک سے باہر عوام کی نمائندہ ہے، نہ ملک کے اندر مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے، نہ باہر دنیا میں پاکستان کے وقار اور مقام کو بلند کر سکتی ہے۔
تو ان نکات پر ہمارا اتفاق رہا ہے اور ان شاء اللہ آج پہلا قدم ہے، اور اس پہلے قدم سے ہم جس سفر کا آغاز کر رہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ پاکستان کی بقا اور سالمیت اور ملک کے آئین کے تحفظ کا سبب اور ذریعہ بنے گا۔
یہ ملک ھم سب کا ھے اس کے آئین وقانون کی رو سے آپ عوام کو امن وامان دینے کے زمہ دار ھیں جب ھم آپ سے آپ کی مسئولیت کا سوال کرتے ھیں، جب ھمارے رھبر مولانا فضل الرحمن آپ کی ناکام پالیسیوں پر تنقید کرتے ھیں تو آپ ان کی کردار کشی کرتے ھیں اور ھرزہ سرائی پر اتر آتے ھیں
جب آپ بلوچستان، کےپی کے فاٹا کشمیر اور سندھ کے کچے کے عوام کو امن دینے میں بھی ناکام ھونگے
جب آپ عوام کو روزگار اورمعاش دینے میں بھی ناکام ھونگے
جب آپ روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اس پیسے سے عیاشیاں کریں گے
جب آپ اھل بلوچستان اور ان کے بڑوں کو اسلام آباد بلا کران کی توھین کریں گے
جب آپ مینڈیٹ چوری کریں گے
اور جب آپ ھارڈسٹیٹ کے نام پر سیاست اور سیاستدانوں کا گلہ گھونٹیں گے
جب آپ پارلیمنٹ کو گھر کی لونڈی بنائیں گے
تو یاد رکھو
آپ اس ملک کے مالک نہیں ھو ھم ھیں، ھم آپ سے بدامنی کا سوال بھی کریں گے اور آپ کو امن دینا بھی ھوگا اور ھم جمعیت کے کارکن اپنے رھبر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں کل بھی آپ کی فرعونیت کے منکر تھے آج بھی منکر ھیں اور کل بھی منکر رھیں گے ان شاءاللہ
#رہبر_ملت_مولانا
#ہم_فرعونیت_کے_منکر
#ملک_عوام_کا_ہے
#تنخواہ_دار_مالک
#بدامنی_کا_حساب_دو
اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی شرکت/ خطاب
نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیرِ امارتِ اسلامیہ افغانستان!
افغانستان کے فتحِ مبین کے پانچ سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔
محترم سفیر صاحب نے جس پُرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صدبصد تائید کرتا ہوں اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے اس خیرسگالی کا جواب دوہری خیرسگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پُرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔
مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہوگا اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہوگا۔
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملتِ افغان در آں پیکر دل است
از کشادِ او کشادِ آسیا
از فسادِ او فسادِ آسیا
علامہ اقبال نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مغرب و مشرق کو قریب کرنا، مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطِ ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبِ ایشیا ہو، اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے، اس کا ادراک کرنا ہوگا اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہوگا، ایک مستقبل، ایک وحدت، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت پر مجتمع کر سکے گا۔
ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔
آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔
اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔
میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جو کہ میں سمجھتا ہوں، مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ مجھے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یک جان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یک جان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔
جیو نے جو معذرت کی ہے وہ میں نے دیکھی ہے. یہ معذرت نہیں رعونت اور تکبر کا اظہاریہ تھا. نیوز کاسٹر کی باڈی لینگویج اور انداز گفتگو میں دور دور تک ندامت نام کی کوئی چیز نہیں تھی. ایسے بول رہا تھا جیسے جیو نیوز نے معزرت نہیں کی، قوم اور ملت اسلامیہ پر احسان کیا ہے.
@TeamYouTube "Thanks for the reply. . I've fixed all issues and my channel is now fully compliant. It's been over 90 days since the last review. Please perform a manual review for my Silver Award. Channel: [https://t.co/aZY1gXmz45…]
Hello @TeamYouTube, my channel [https://t.co/iT4AWeGus3] reached 100k+ subscribers. I applied in February but was ineligible. Since then, I’ve fixed all content/metadata issues and 90 days have passed. Could you please re-review my channel for the Silver Creator Award? Thank you!
سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں توجہ مبذول کرانے کا نوٹس اور تحریک التواء جمع کروادی
شیخ ادریس سمیت دیگر شہداء سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں توجہ مبذول کرانے کا نوٹس جمع کروایا
ملک بھر میں علماء کرام محفوظ نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان
کے پی
@TeamYouTube "Thanks for the reply. . I've fixed all issues and my channel is now fully compliant. It's been over 90 days since the last review. Please perform a manual review for my Silver Award. Channel: [https://t.co/iT4AWeGus3]
الحمدللہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کواللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اسکی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کا وقار غیر معمولی طورپر بلند ھوا اور کل جو مذاکرات ھونے والے ھیں انکی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے وزیر اعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی جو اپیل کی ہے وہ بروقت ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ھاتھ میں ہے اس لئے ھم سب کو دعا میں مصروف رھنا چاھئے خاص طورپر جو حضرات كرسکیں وہ اس دعائے مسنون کااھتمام فرمائیں:
اللهم انصرنا ولا تنصر علینا وامکر لنا ولا تمکر علینا واھدنا ویسر الھدی لنا واحسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا وعذاب الآخرة آمین
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون انتہائی افسوس ناک
کراچی میں شدید بارش اور طوفانی ہواؤں کے کی وجہ سے بڑے نقصانات کی خبریں ا رہی ہیں اور 20 افراد کے ش۔ہید ہونے کی کی اطلاعات ہیں
اللہ تعالیٰ رحم فرمائے
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
قوم کو کفایت شعاری کا درس جبکہ حکمران عیاشیوں میں مصروف
غریب نان شبینہ کا محتاج ، وزیر اعلیٰ پنجاب کےلئے گیارہ ارب کا جہاز۔
چیئرمین سینیٹ کی نو کروڑ کی گاڑی غریب قوم کی غربت کا مذاق اڑا رہی ہے
آئی ایم ایف اور دیگر ملکوں کے سامنے قوم کی خوداری گروی رکھ کر حکمران عیاشی کررہے ہیں
قوم دن بدن غربت کی لکیر سے نیچے اور حکمران آسمان پر جا رہے ہیں
مہنگائی ،بیروزگاری اور غربت پر مگرمچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں
پرانے اسٹاک پر خریدے گئے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت پر ڈاکہ ہے
رمضان کے مہینے میں بھی خدا کا خوف نہیں آیا
قوم کو مبارک ہو پاکستان پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کر نے والا پہلا ملک بن گیا۔
غیر نمائندہ حکمرانوں کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
تصور کریں اگر جیفری ایپسٹائن مسلمان ہوتا تو ساری دنیا اسلام کو ہی موردِ الزام ٹھہراتی اور پورے مذہب پر الزام لگاتی، مگر چونکہ وہ یہودی تھا اس لیے اسے صرف ایک فرد کا جرم کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے، مذہب سے جوڑا نہیں جاتا۔ یہ مغرب کی کھلی منافقت ہے
بدقسمتی سے پاکستان کے اندر پولیٹیکل وکٹمائزیشن بہت بڑھ چکی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں دیگر جماعتوں کی قیادت جیلوں میں تھی، اور آج وہ خود جیل میں ہیں، یہ ایک انتقامی تاثر ہے جو ہماری ملکی سیاست میں ابھر رہا ہے۔
ہمیں اس حوالے سے ایک متوازن سوچ کی طرف جانا ہوگا۔حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے درمیان تناؤ کے جو ادوار اس سے قبل گزرے ہیں، چاہے وہ پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان رہے ہوں، انہوں نے بھی پاکستان کو کوئی اچھے نتائج نہیں دئے ۔
آج بھی پاکستان پورے خطے میں واحد ملک ہے جو معاشی لحاظ سے ڈوب رہا ہے، اور ہم دوستوں سے بھیک مانگ رہے ہیں کہ ہماری ریزرو میں کچھ ڈالر بھیج دیں۔ اس ساری صورتحال میں یقیناً پاکستان کی اس وقت کی پوزیشن درست نہیں ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فیصلے سیاست دان نہیں کر رہے، فیصلے پارلیمان میں نہیں ہو رہے، فیصلے سیاسی ڈیبیٹ کے تحت نہیں ہو رہے، بلکہ ایک خاص محل کے اندر فیصلے ہوتے ہیں اور پورے ملک پر ایک دم لاگو ہو جاتے ہیں۔ اس چیز نے توازن بگاڑ رکھا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی جوہانسبرگ سائوتھ افریقہ میں میڈیا سےگفتگو
سائوتھ افریقہ: پاکستان کمیونٹی جوہانسبرگ کی جانب سے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اعزاز میں استقبالیہ
پاکستان کمیونٹی جوہانسبرگ کی جانب سے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ منعقد کیا گیا
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ جنوبی افریقہ میں پاکستان کے سفیر ہیں اور ملک کا نام روشن کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے اور جی ڈی پی گروتھ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہم اپنے وطنِ عزیز کو موجودہ مشکل حالات سے کس طرح نکال سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں جمہوریت اور آمریت پر بحث جاری ہے، کہیں جمہوریت کے نام پر سرمایہ دارانہ نظام ایک عذاب بنا ہوا ہے اور کہیں آمریت کے نام پر کمیونزم عوام کا خون چوس رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کمزور ممالک میں براہِ راست مداخلت کر رہی ہے، اور اب حکومتوں میں عوام، قانون اور آئین کا کردار ختم ہوتا جا رہا ہے۔
عسکریت، آمریت اور سرمایہ داری عالمی اقتدار پر حاوی ہو چکی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ آئین، قانون اور عوام کو ہی طاقت کا اصل محور اور مرکز بنانا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کے حالات ایسے ہیں کہ مشکلات کے حل کے سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں، معیشت کو سہارا نہیں دیا جا سکا، اور ملک کے اثاثے صرف بھیک مانگ کر نہیں چلائے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان شاء اللہ لڑتے رہیں گے۔
اس موقع پر قائدِ جمعیت کے ہمراہ جمعیت علماء اسلام پاکستان سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، قائد جمعیت کے معتمدِ خاص مفتی ابرار احمد خان اور صاحبزادہ انس محمود بھی موجود تھے۔
آخر میں مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کمیونٹی جنوبی افریقہ اور میزبان حافظ نعیم احمد خان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔
اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کے بارے میں پارلیمنٹ سے جو بل حیرت انگیز جلدبازی میں منظور کرایا گیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ قرآن وسنت کے بالکل خلاف ہے بلکہ بلاوجہ اس نازک موقع پر اختلاف اور بحث مباحثے کادروازہ کھول کر ملک وملت کے مفاد کو پس پشت ڈالنے کے مرادف ہے صدر مملکت اس پر دستخط نہ کریں اور اسے واپس لیاجائے
شب برات میں اس شخص کی مغفرت نہیں ہوتی جو ایک عام مسلمان کے لئے کینہ رکھے
اور جو صحابہ کرام کے لئے کینہ رکھے اس کی بخشش کیسے ہو سکتی ہے
پہرہ جاری رہے گا ان شاءاللہ
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ