Jeremy Scahill @jeremyscahill gives some context on the role of Pakistan in the Iran deal negotiations and the reason the US brought Pakistan into the negotiations and later it shifted to Qatar…
بالکل یہی بات ہے۔ جب مجھ پر ویلاگ بند کرنے کا شدید دباؤ ڈالا گیا تو عمران خان صاحب نے کال کی اور کہا کہ عادل گھبرانا نہیں ہے، اپنا کام جاری رکھو اور دوسرا اپنی جان کی حفاظت کرنا، ان لوگوں کا تمہیں مارنے کا ارادہ ہے (متوقع قاتلوں کی بھی نشاندہی کی)۔ کال ریکارڈ بوقت ضرورت مہیا کرنے لے لئے محفوظ ہے۔
گرفتاری سے قبل عمران خان صاحب کی کال آئی۔ کہنے لگے:
“دیکھو شہزاد، تمہیں فوری طور پر وی لاگ شروع کرنا چاہیے۔”
میں نے عرض کیا، “سر، میں کوئی یوٹیوبر تو نہیں ہوں، اپنا قانونی کام کر رہا ہوں، وغیرہ وغیرہ…”
بولے، “نخرے نہ کرو۔ اس وقت ضرورت ہے کہ تم جیسے لوگ کھل کر بات کر سکیں۔ آنے والے دنوں میں آزادیِ رائے مشکل ہو جائے گی، اور تم باہر بیٹھ کر یہ فریضہ ادا کر سکتے ہو۔ دیکھو، میں بھی روز یوٹیوب پر بات کرتا ہوں کیونکہ میری تقاریر بند کر دی گئی ہیں۔”
عمران خان کا حکم ٹالنا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ صحافی دوستوں سے مشورہ کیا، ایک سستا سا مائیک خریدا، اور آتشِ عشق میں کود پڑا۔
آج ماموں کے ان یتیم بچوں کی چیخیں سن کر احساس ہوتا ہے کہ عمران خان نے درست نشاندہی کی تھی۔ اب تکلیف اُن چند لوگوں سے ہے جو باہر بیٹھ کر کھل کر بولتے ہیں، اور جن کی بات لوگ سنتے بھی ہیں‼️
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
@alitanoli889@MuzzammilAslam3@SHABAZGIL اچھا چلو تنولی صاحب صبح مجھے یا گل صاحب کو ذرا کسی چینل پہ ہی لے لیں کسی پروگرام میں ؟
آپ کر نہیں پائیں گے شاید کیونکہ ۔۔۔
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
میرے پیارے حوالدار بھائی، میجر صاحب نے آپکو پھر نہیں بتایا کہ سردیوں کے آخر پر مئں امریکہ آ گیا تھا۔
پھر اصل مسلے کی طرف آتے ہیں۔ جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا :
1- آپ نے سر پلس بجٹ نہیں کروانا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ پورا پاس نہیں کروانا
ڈکٹیٹر سرفراز ڈوگر نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ بننے کے بعد عمران خان کے ساتھ جس قدر دشمنی نبھائی ہے شاید ہی اس کی مثال ملتی ہو
پی ٹی آئی کا ایک ایک کارکن ڈوگر کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ایسے میں تحریک انصاف کے یہ رہنما لطیف کھوسہ اور عامر ڈوگر سرفراز ڈوگر سے بغل گیر ہو رہے ہیں اور شادیوں میں شرکت کررہے ہیں
یہ انتہائی افسوسناک عمل ہے
16 جون بروز منگل 3 بجے دوپہر۔۔۔
سینیٹرز۔ایم این ایز۔ایم پی ایز۔ٹکٹ ہولڈرز۔پارٹی عہدیداران۔آئی ایل ایف۔آئی ایس ایف۔یوتھ ونگ۔وومن ونگ۔ہم سب اڈیالہ جیل کے سامنے اکھٹے ہوں گےانشااللہ۔۔ @sh_basra
پیارے مزمل۔
آپکو میجر صاحب نے ایک بار پھر استعمال کر لیا۔
میجر صاحب کی نظر یہ تصویر۔ میرے امریکہ آنے سے چند دن پہلے: عمران خان کے گھر میں ملاقات کے بعد کی تصویر۔
ویسے امریکہ آنے سے ایک رات پہلے انہی کے گھر میں رات 12:30am سے تقریبا رات 2 بجے تک میری اور خان صاحب کی ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں بہت سارے میر صادق اور میر جعفروں کا زکر اور notes exchange ہوئے تھے۔ تب تک خان صاحب کو بہت سوں کی حقیقت کا پتہ چل چکا تھا۔ اس آخری میٹنگ کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ چاہیئے ہوئیں تو بتا دیجیے گا۔
رہی بات شہزاد اکبر کی تو انہوں نے کیوں استعفی دیا تھا اس بات کا نہ آپکو علم ہے نہ ہو سکتا ہے۔ اس کا علم صرف دو لوگوں کو تھا ایک پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور دوسرا شہباز گل۔ آپ پارٹی پوزیشن میں بہت جونئیر تھے۔ آپکے سامنے انکو کب ہٹایا گیا۔ آپکا وزیر اعظم آفس سے تو کوئی دور دور تک لینا دینا نہیں تھا۔ عمران خان گرفتار ہونے سے ایک دن پہلے تک شہزاد اکبر سے رابطے میں تھے۔
چلیں آپکا یہ مسلہ تو حل کر دیا۔ ویسے یہ نان ایشو تھا۔
اصل بات خان کی رہائی اور علاج ہے۔ تو جب تک یہ مسلہ حل نہیں ہوتا۔ آپ نے بجٹ صرف مختصر مدت کے لئے پاس کروانا ہے۔ اور سرپلس بجٹ پاس نہیں کروانا۔ اور دوسرا KP کے لوگوں کا پیسہ جنرلز کی جیب میں نہیں ڈالنا۔
🚨 Ghalibaf addressing the U.S. after the bombing of Beirut:
" If you lack the will or ability to honor your commitments, there can be no talk of continuing the process."
کشمیریوں کے ساتھ PTI والا سلوک!!
پی ٹی آئی کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جارہا ہے, کاش اگر PTI کے لیے سب کھڑے ہو جاتے, تو آج کشمیر پر ظلم نا ہورہا تھا!!
اب بھی وقت ہے, کھڑے ہو جائیں ایک دوسرے کے خلاف ورنہ باری باری سب کی باری!!
یہ بجٹ موجودہ رجیم کا 5واں بجٹ ہے مطلب یہ رجیم ایک ٹینیور کا بجٹ دے چکی ہے 9 اپریل کی رات بیرونی سازش کے ذریعے عمران خان صاحب کی حکومت کو گرایا گیا عمران خان نے سپیکر صاحب آپ کے بیرونی آقاؤں کو Absolutely Not کہا اور ڈونڈ لو کے ذریعے دھمکی آمیز سائفر پر عمران خان کی حکومت کو گرا دیا گیا ۔
شاہد خٹک
PTI leadership has requested opposition leader Mehmood Khan Achakzai that, if there is a time frame on the gathering outside Adiala Jail on Tuesday, they can mobilize 10,000 people. We welcome this proposal and have accepted their request.
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
A strong gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, Islamabad, in the presence of his family and personal physician.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.