نہ نواز شریف لڑائی کے موڈ میں ہیں، نہ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل میں کوئی دڑار ہے۔ محسن نقوی جذبات میں آ کر کچھ زیادہ ہی بول گئے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ 6 مہینے کی ڈیڈ لائین دے دی گئی ہے۔ پوچھا تو جواب ملا آپ سے یہ بات سن رہے ہیں۔ کیا سنجیدہ معاملات پر ایسے ڈیڈ لائین دی جاتی ہیں؟
The world is a harsh place. No one notices your tears, your sadness or your pain. Only the Almighty does. But everyone jumps at the slightest mistake you make. Such is the nature of this life
ن لیگ کے لیڈر اور صحافی یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمارے پاس بہت تجربہ ہے، ہم نے بہت کام کیا ہے بس سارے لگے ہیں کہ تسی بھی کچھ بھی نہیں کرسکے۔ انسان دوسروں کی ناکامیوں پر نہیں بلکہ اپنی خوبیوں پر جیتا ہے، یہی بات وزیرِ داخلہ محسن نقوی کیلئے بھی ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا،اس سے 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول اسٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آگئی جب انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز دی تھی۔بارہ گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استحفی لے لیا تھا۔
شہباز شریف خود گورنس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے چھوڑ دیں یا وزیر کو کہیں وہ چھوڑ دے۔لیکن لگتا ہے دونوں قابل احترام صاحبان اپنی اپنی اسی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ 😊