@FarhanKVirk تربوز جیسی شکل والی گینڈی! تمہارے باپ عمران خان کی ہی حکومت رہی ہے پچھلے تیرہ سالوں سے، جس کو تم باپ بنا کر مشہور ہوئی تھی۔ اب اگر انہوں نے کرپشن کی ہے تو اس سے قوم پرستوں کا کیا لینا دینا؟ ہ�� اپنے معدنیات تم جیسے رنجیتوں کو بالکل مفت کا مال سمجھ کر کھانے نہیں دیں گے۔
اس حوالے میں نے ہر میٹنگ میں یہی بات کی ہیں،کہ پورے محکمے اور 4000 لیز ہولڈرز کو ایک مخصوص جماعت کیساتھ جوڑ کر روزگار چھیننا کہاں کا انصاف ہے؟ اس مطلب پھر صاف ہیں، کہ کسی طرح تمام لیز ہولڈرز کو مشکوک بناکر پروپیگنڈا کرکے عوامی رائے کو ہموار کرکے اسے ختم کردیں اور حوالدار صاحب گورنر راج اور ایمرجنسی کا فایدہ اٹھا کر اس پر لارج اسکیل لائسنس اپنے جاری کرکے قبضہ کرلیں، اور جس طرح امریکی بہادر سے بات پہلے جو کی جاچکی ہیں اس مقصد کو پورا کردیں،
مگر ھم ایسا ہرگز نہیں ہونے دینگے، پچھلے سال 2025 جس طرح گنڈا پور سرکار نے SIFC کے طرف سے بھیجی گئے ڈرافٹ کو کابینہ سے منظور کرکے اس بل کو اسمبلی میں ٹیبل کیا، اور اس منرلز ایکٹ 2017 میں تبدیل کرنے اور مسلط کرنے کی کوشش ہوئی، تو سب سے پہلے میں نے اسے پختونخوا کے عوام کے سامنے ایکسپوز کیا اور اسمبلی فلور پر اسکی بھرپور مخالفت کی، اور پختون قوم کی میراث پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو عوام کے سامنے ننگا کیا، اس وقت عوامی نیشن�� پارٹی کی قیادت نے اس ایشو پر جسطرح پوری قوم کو متحد کیا اور جرگے منعقد کی، سیمینارز، ال پارٹیز کانفرنس سمیت مظاہرے بھی کیے جس کی بدولت اس صوبائی حکومت کو مجبور کرکے اس بل کو ڈرافٹ آؤٹ کیا،
میں ہرگز صوبائی حکومت کا دفاع نہیں کرنا چاہتا مگر حقائق کے منافی ریاستی پروپیگنڈا ٹیک نہیں،
احتساب ضرور کریں، مگر ثبوت، قانون اور حقائق کی بنیاد پر، ھم خود چاہتے ہیں کہ احتساب ہو اور سرعام ہو۔محکمہ معدنیات میں جہاں خامیاں ہیں،انہیں درست کیا جائے، جہاں کرپشن ہے اسے بے نقاب کیا جائے۔ لیکن پختونخوا کی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہرگز نا کریں۔ یہ اس پختونخوا کی عوام کا مشترکہ میراث ہیں، اور اسکا دفاع ہرصورت میں کرینگے۔
احتساب کی مخالف نہیں۔ اگر کسی بھی معدنی لیز میں حکومتی دباؤ، اقرباپروری، رشوت، اختیارات ک�� ناجائز استعمال یا قانون شکنی کے شواہد موجود ہیں، تو ان کی مکمل تحقیقات ضرور ہونی چاہیئں اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
لیکن اسکی پس پردہ اگر کوئی اور منصوبہ بندی ہورہی ہیں تو ھم اسکو ایکسپوز کرتے رہینگے۔!!!
نثار باز خان
پچھلے دو سا�� سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوج��د ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر با��ی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ری��ائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
Day: 1843 🏫
Day: 1383 🎓
🇦🇫
I welcome the ICC’s decision to unseal arrest warrants against four senior Taliban leaders for the crime against humanity of gender persecution.
This is an important step towards accountability for the Taliban’s systematic oppression of Afghan women and girls — their gender apartheid must not go unpunished.
#RecogniseGenderApartheid
#ACrimeAgainstHumanity
#LetAfghanGirlsLearn
🧵 She's the first female Hazara lawyer in her community's history — and for over a decade she's defended the people her country tries hardest to erase.
Meet @Advjalila, a 2026 @RightLivelihood Laureate from Pakistan.
Who are you to comment on the laws passed by our province? You are an unelected individual who has never contested an election or earned a mandate from the people. You have entered politics with the backing of the establishment rather than through the democratic process.
Before commenting on provincial legislation, you should first study the Constitution and the law. Set aside the provincial Act concerning parliamentary privileges for a moment and (read Rule 3) and (Rule 106 ) of the National Assemblys Rules of Procedure and Conduct of Business. You will realize that these privileges are not a new invention. they have long been part of parliamentary rules and traditions and are also enjoyed by members of the National Assembly.
Instead of selectively criticizing the privileges of elected representatives, why dont you speak about those who have secured lifetime immunity ? Do they consider themselves above the Constitution and the law ?
Do they believe they are above the 250 million people of Pakistan ? Do they consider themselves accountable to the Constitution and the law ?
As political workers we will continue to defend parliamentary supremacy, the supremacy of the Constitution and the rule of law. No individual or institution should be above the Constitution......
@pakupdates85@realrazidada عمران خان نے تیرے قائد سمیت تمام پٹواریوں کے پچھواڑے لعل کر رکھے تھے۔ ویسے وہ خود بھی ایک کمینہ انسان تھا، ورنہ تم لوگوں کی کیا مجال تھی کہ دوبارہ اقتدار پر قابض ہوجاتے