میں عمران خان کا سپاہی اور پاکستان تحریک انصاف کا ایک بنیادی ک��رکن ہوں۔ میرے حوالے سے پختون ڈیجیٹل کی جانب سے ناراض گروپ سے متعلق چلائی جانے والی خبر کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔
وزیراعلی سہیل آفریدی بانی چئیرمن عمران خان کے نامزد اور منتخب وزیراعلیٰ ہیں اور انکو میری مکمل حمایت حاصل ہے۔ ویڈیو میں موجود ایم پی ایز میں سے اکثریت وزیراعلیٰ صاحب کا انتظار کر رہے تھے
کالے چینل کا کام ہی صرف جھوٹ اور فیک پروپیگنڈا پھیلانا ہے
جولائی ۲۰۲۱افغانستان سے امریکی انخلاء؛ چیلنجز اینڈ اپرچونٹیز، وزیر اعظم عمران خان میٹنگ بلاتے ہیں، عسکری قیادت کی رائے میں صورت حال خانہ جنگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جس میں اپنے اتحادی دوست افغان طالبان کو بہر طور سپورٹ فراہم کرنی ہے۔
اگست ۲۰۲۱، کابل سے امریکی انخلاء ہوتا ہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے حکومت سازی میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی لعن طعن کا رُخ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کابل میں محصور شہریوں کو سیف ایگزیٹ مہیا کرکے پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۱، عسکری قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کو پاکستانی طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کا پلان پیش کیا گیا۔ جس کی کابینہ اراکین نے بھرپور مخالفت کی اور وزیر اعظم نے ایسے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔
دسمبر ۲۰۲۱، وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کراتے ہیں اور اسلامی ممالک کو افغانستان کو درپیش انسانی المیے سے آگاہ کرتے ہوئے برادرانِ اسلام (یعنی مظلوم افغان عوام) کی مدد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں افغان طالبان قیادت اور پاکستانی حکام کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئیں، وزارت مواصلات اور دیگر محکموں کی جانب سے براستہ افغانستان تجارت اور دیگر منصوبوں کے متعلق شدومد سے پلاننگ کا آغاز ہوا، خود میں نے روس،افغانستان، چین اور دیگر وسطی ایشیاء ممالک کی کنیکٹوٹی کے حوالے سے میٹنگز چئیر کیں۔
مارچ ۲۰۲۲، اسلام آباد میں او آئی سی ممالک کا افغانستان کے مسئلے پر ایک اور اجلاس ��نعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقوامِ عالم کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بہتری کا ایسا راستہ نکالنے کا کہتے ہیں جس سے افغانستان کے شہریوں کی فلاح اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی دنیا کا امن ممکن ہو۔
جون ۲۰۲۲، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ڈی ایم کی کٹ پُتلی حکومت کے سامنے عسکری حکام کی جانب سے وہی پلان پیش کیا جاتا ہے جس کی نومبر ۲۰۲۱ میں وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، فوری منظوری دے دی جاتی ہے۔
جون ۲۰۲۲، عسکری حکومت کی جانب سے افغانستان وفد بھیج کر طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوتا ہے۔
جولائی ۲۰۲۲، میں اس منصوبے کے خلاف عوام کو متحرک کرتا ہوں۔ مجھ پر غداری کے مقدمے ہوتے ہیں، فساد پھیلانے کے فتوی لگتے ہیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر درون خانہ رابطے کرکے پہلے ��جتیں، تاویلیں اور پھر واپس بھیجنے کی گارنٹیز دی جاتی ہیں اور واپس بھیج بھی دیا جاتا ہے۔
اگست ۲۰۲۲، عبوری حکومت کے دوران عسکری سرکردگی میں ان طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی پاکستان میں باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوتا ہے اور عسکری سرکردگی میں اسلحے سمیت خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں آباد کیا جاتا ہے۔
پھر ان ہی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کو بنیاد بنا کر ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۷ تک خیبر پختونخواہ اور باقی پاکستان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔
پھر ٹرمپ کی امریکی اسلحہ کے بیان اور بگرام ائیر بیس دینے سے طالبان کے انکار میں ہمارے ��رنیلوں کو وہ سنہری موقع مل جاتا ہے جس کے وہ انتظار میں تھے۔ پاکستان میں پناہ گزین افغان شہریوں کا غیر انسانی انخلاء شروع ہوتا ہے، بارڈر پر تجارت بند کردی جاتی ہے، افغانستان پاکستان کے امن کا اولیں دشمن قرار پاتا ہے، تندو تیز بیانات اور فضائی حملوں سے اس دشمنی کو مزید مستحکم کیا جاتا ہے۔
نتیجہ اس سے کچھ مختلف تو نہیں ہونا تھا جو ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۰ تک ہوا مگر کیا سبب تھا کہ ۲۰۲۲ میں بھی اسی رُول بُک کو فالو کرنا مناسب سمجھا گیا؟ یہ سوال میں تو چار سال سے پوچھ رہا ہوں اب اگر منہ سے جھاگ اڑاتے، جنگ کے طبل بجاتے اور سوال اٹھانے والو کو وطن دشمنی کے فتوی بانٹنے والوں کی گیس لائیٹنگ میں آئے بنا آپ بھی پوچھ لیں کہ کیونکر اپنے جوانوں، اپنے اور پڑوسی ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیوں، اپنے ملک کے امن اور استحکام سے اس بے دردی سے کھیلا گیا تو شاید آپ کا مستقبل گذشتہ سے کچھ مختلف ہوجائے۔
جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے۔
‼️واضح اور سادہ‼️
نہ کوئی راکٹ سائنس نہ بہت زیادہ وسائل کی ضرورت 👇
عمران خان کی رہائی
اٹک پل بند
خوشحال گڑھ بند
صوابی موٹروے بند
سی پیک بند
بلوچستان اور سندھ بند
گلگت کشمیر بند
عمران خان عدالتوں کی طرف نہیں بلکہ پچیس کروڑ عوام کی طرف دیکھ رہا ہے
اب نہیں تو کب؟
SKMT Bank Accounts
We would like to reassure our donors and supporters that the vast majority of our bank accounts are fully operational, and we continue to receive donations without any disruption. 1/3
"ہمارا لیڈر آج ناانصافی کے اندھیروں میں قید ہے، مگر وزیرِ اعلیٰ کا اُن کیلئے دھرنا دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی کبھی تنہا نہیں ہوتی۔ یہ اقدام وفاداری، بہادری اور اصولوں پر ڈٹ جانے کی روشن مثال ہے۔"
#WHEREISIMRANKHAN
پاکستان میں اس وقت ہائبرڈ نظام نہیں بلکہ “مارشل لأ” اور مکمل ڈکٹیٹر شپ نافذ ہے۔ اس کی واضح مثال صدر ٹرمپ کا شہباز شریف اور زرداری کی بجائے عاصم منیر سے ملاقات کرنا ہے کیونکہ انہیں بھی پتہ ہے کہ تمام اختیارات عاصم منیر کے پاس ہی ہیں- اسی لیے میں بھی کہتا ہوں کہ مذاکرات ان سے ہی ہونے چاہییں جن کے پاس اختیارات ہیں۔
خیبرپختونخوا کے علاقوں میں ڈرون حملے اور معصوم جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ میں نے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج اور مارچ کیے اس معاملے پر میرا موقف دنیا کے سامنے ہ��۔ بے گناہوں کا جب بھی قتل ہوتا ہے اس سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ڈرون حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف خیبرپختونخوا کی حکومت ایف آئی آرز درج کروائے۔
خیبر پختونخوا کی عوام نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے ووٹ دیا- اسی لیے میں نے کہا تھا کہ بجٹ سے پہلے علی امین، مزمل اسلم، عمر ایوب، شبلی فراز اور تیمور جھگڑا آ کر مجھے بجٹ پر بریفنگ دیں- بجٹ پاس کرنے سے پہلے علی امین اور خبیرپختونخوا حکومت کو سپریم کورٹ جانا چاہیئے تھا اور بتانا چاہیئے تھا کہ خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت کا سربراہ عمران خان ہے اور ہم نے ان سے بجٹ کے حوالے سے ہدایات لینی ہیں جس کے بغیر IMF بھی بجٹ قبول نہیں کرے گا-
اب د��بارہ واضح ہدایت دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔ یہ کوئی حتمی بجٹ نہیں ہے۔ مجھ سے وہی مشاورتی ٹیم ملاقات کرے اور پھر جو ترامیم میں بتاؤں ان کو شامل کر کے بجٹ منظور کیا جائے۔
اس وقت جبکہ باقی صوبائی حکومتیں سرپلس بجٹ نہیں دے رہیں تو خیبرپختونخوا کی عوام کے فنڈز سے سرپلس دینا صرف ناجائز وفاقی حکومت کو فائدہ دینے کے مترادف ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی عوام کا کسی صورت نقصان نہیں ہونے دوں گا۔
اس مشکل دور میں جب مین سٹریم میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے یا انہیں خرید لیا گیا ہے، ایسے میں سوشل میڈیا نے جس طرح حق کا علم بلند کر رکھا ہے میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی عوام کی آواز زندہ ہے“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (24 جون، 2025)
اس نوجوان لڑکے نے جوبائڈن کی مٹی پلید کر دی ھے .
اس لڑکے نے جوبائڈن کے سامنے جو حقائق بیان کیے اس پر اسکی جرت و بہادری پر سلام 🌹
تم دنیا میں امن چاہتے ہو جو مشرق وسطیٰ میں لاکھوں انسانوں کے قاتل ہو
تیسری جنگ عظیم تمہاری وجہ سے ہونے جا رہی ھے دنیا کو تہذیب کا درس دینے آ گئے ہو🌹✌️👍