آخر کا جاوید میانداد صاحب نے غیرت ہمت اور انسانیت دکھائی۔ پاکستانی دوسرے کرکٹرز کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہیئے۔ عمران خان کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ آپ خود کو ایکسپوز کر رہے ہیں۔ وہ بھی پوری دنیا کے سامنے۔
کافی دن ہوگئے کسی شخص کو عمران خان کے بی پی کا علم نہیں ہوا ، عمران خان نے کونسا کیک کھایا نہیں پتہ چلا ، عمران خان کی صحت کیسی ہے نہیں معلوم ، کس ملک کے سربراہ نے عمران خان کو ہسپتال لیجانے کا کہا کچھ اتا پتہ نہیں۔
جب عاصم منیر نے مزید اختیارات اپنے ہاتھ کرنے تھے تو سب کے ذرائع بول رہے تھے۔ اب مکمل خاموشی۔ کیا یہ اب حسین اتفاق ہے؟
تحریک انصاف نے ہیلتھ کارڈ دیا ، ہسپتالوں کی بہتری کے لیے MTI ایکٹ لائے ، محکمہ صحت میں 33,000 بھرتیاں کیں ، ڈاکٹرز کی پرائیویٹ پریکٹس کو ریگولیٹ کیا ، پانچ مدر کئیر ہسپتال شروع کیے ، نشتر ٹو شروع کیا ، ساری آبادی کو کویڈ ویکسین لگائی ، صحت کے بجٹ میں سو فیصد تک اضافہ کیا۔
فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا تو عدالتوں کو کنٹرول کرنے کی آئینی ترمیم آئی ، عاصم منیر کو مزید اختیارات دینے کی ترمیم آئی ، عاصم منیر کو کابینہ میں بیٹھنے کی ترمیم آئی ، عاصم منیر کو نیوی اور فضائیہ پر کنٹرول کی ترمیم آئی۔
ایک طرف عوام کی فکر عوام کو جوابدہی ، دوسری طرف اقتدار کی بھوک اور قبضے کی جنگ۔
آج سوشل میڈیا پر حالات دیکھ کر یہ دیکھ پا رہاُہوں کہ اگرچہ آج بہت ساروں کے اندر کا کمینہ انسان خوش ہے ، لیکن ہم سب کے پاس ایک عدد دماغ ہے جو کہہ رہا ہے کہ تم نے اس ملک میں رہنا ہے۔ تمہارے بچوں نے اس ملک میں رہنا ہے۔ تمہاری شناخت اس جگہ سے منسلک ہے۔ یوں فوجی افسر کو تھپڑ پڑنے پر قہقہے پھوٹنا اس ملک کے برباد مستقبل کی نشانی ہے۔ یہ اس کی موجودہ تباہ کن فیصلوں کی عکاسی ہے۔ معلوم ہے کوئی فرق نہیں پڑنے والا لیکن کہنے میں کیا ہرج ہے؟ پاگل فیصلہ سازو ! انسان بن جاؤ۔
عزت عوام سے ملتی ہے۔ عزت احترام سے ملتی ہے۔ عزت آئین کی پاسداری سے ملتی ہے۔ عزت ، عزت دینے سے ملتی ہے۔ عزت آئی ایس پی آر ، نیوز چینلز ، یا بجٹ نہیں لیکر دیتا۔ عوام کو عزت دو۔ ڈنڈا نہیں۔ عوام سے دھوکہ کرنا بند کرو۔ آئین توڑنا۔ مینڈیٹ چوری کرنا بند کرو۔ اس ملک کے آئین کو عزت دو۔ جمہوریت اور آزاد عدالتوں کو عزت دو۔ عمران خان کو عزت دو۔ پاکستان کو عزت دو۔
ورنہ
دیا سبھی کا بجھے گا ، ہوا کسی کی نہیں۔
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
علیمہ خانم
وہ لوگ جو عمران خان کو جانتے ہیں ، یا بشری بی بی اور عمران خان کی بہنوں کی خاندانی مخاصمت کا اندازہ ہے وہ یہ کہتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ علیمہ خانم کو پارٹی کی سرگرمیوں سے الگ رکھنے کے لیے عمران خان ایسا کوئی بیان یا ہدایت دے سکتے ہیں یا بشری بی بی بھی عمران خان پر اس سلسلے میں اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ یعنی ایسا کوئی بیان یا ہدایت درست ہوسکتی ہے۔
لیکن گزشتہ سال ڈیڑھ میں عمران خان کی بہنوں نے جو کچھ کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ سخت دھوپ ، شدید سردی ، پولیس کی جانب سے تشدد ، ٹھنڈے پانی کا حملہ ، بدتمیزی ، گھٹیا کیمپینز سب برداشت کیا۔ ہر جلسے ، ہر ریلی، ہر ایونٹ میں پہنچتی رہیں۔ غریب کارکنان کے گھر گئیں۔ جب تحریک انصاف نے احتجاج کا ہر طرح کا سلسلہ موقوف کردیا تو ریلیاں بھی نکالنا شروع کردیں۔
اب اگر بالفرض اس چیز کو عمران خان کو جیل میں علیمہ خانم کا پارٹی کی سیاست پر اثر انداز ہونا دکھایا بھی جاتا ہے تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ علیمہ خانم نے تحریک انصاف کے اندرونی فیصلوں میں کبھی دخل نہیں دیا۔ کسی عہدیدار کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا ، کبھی کسی پارٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ کسی جگہ اپنا کوئی قریبی نمائندہ نامزد نہیں کیا۔ بلکہ علی امین گنڈاپور کی بھی حمایت کی اور عوام کے شدید ترین اصرار کے باوجود سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ نہیں بناتیں اور نپے تلے الفاظ میں مختصرا بات کردیتی ہیں۔
پھر حد یہ ہے کہ شیر افضل مروت ہو علیمہ خانم پر تنقید کرتا ہے ، مشال یوسفزئی کرتی ہے ، عسکری ٹاوٹ کرتے ہیں ، تبصرہ پاڑ کرتے ہیں ، عمران خان نے علی امین کو ہٹایا تو اس نے علیمہ خانم کو ایم آئی کا ایجنٹ کہہ دیا۔ یعنی صاف دکھائی دیتا ہے کہ تنقید کس نے کی یا کروائی۔
عمران خان کے لیے عمران خان کی بہنیں جو کچھ بھی کریں یہ ان کا حق بھی ہے اور فرض بھی۔ علی امین کو عمران خان نے ہٹایا تو علی امین نے جیل جا کر عمران خان کو کہا کہ علیمہ خانم ایم آئی کی ایجنٹ ہیں۔ اور ناہنجار بھی ایسا کچھ کرتے رہے ہوں گی۔ دیکھنے والے عوام اندھے نہیں ہیں کہ ایجنٹ کون ہے اور کون نہیں۔ جب تک بہنیں عمران خان کے ساتھ کھڑی ہیں سوشل میڈیا کی حمایت انکے ساتھ ہی رہے گی۔ یہ ہمارا بھی فرض اور حق دونوں ہیں۔
BREAKING NEWS: 22 Former international cricket captains have once again written a letter to Pakistan PM over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in February and this one comes after Pak allegedly didn’t completely comply with SC directions.
They have laid down 3 demands:
1. That the medical board directed by the Supreme Court — including Mr Khan's own doctors — be permitted to complete a full and independent assessment of his health, particularly the reported loss of vision in his right eye.
2. That the weekly family visits reinstated by the Court be honoured without interruption or administrative delay.
3. That whatever the outcome of that medical assessment, the treatment recommended by it be provided without delay.
Three Indians - Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains.
#ImranKhan
مارکیٹ میں اس وقت دو آراء چل رہی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق چونکہ عمران خان کی ملاقاتیں بند ہیں ، قید تنہائی اور سختیاں ہیں اسلیے تحریک انصاف کی قیادت کچھ مصلحت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، کچھ خاموشی اختیار کرتے ہوئے ، عمران خان سے ملاقاتوں اور باقاعدہ علاج کی سہولت کے لیے وہ سب کررہی ہے جو اصولی طور پر غلط ہے۔
دوسری رائے یہ ہے کہ پہلے تحریک انصاف کونسے جھنڈے گاڑ رہی تھی؟ سہیل آفریدی اڈیالہ تک نہیں جاتا ، گنڈاپور بھی فوج سے اچھے مراسم رکھتا رہا اور اب سہیل آفریدی بھی۔ جنید اکبر بھی بتا چکے کہ انہیں اسمبلی میں محسن نقوی ، ڈرون حملوں ، جعلی الیکشنز ، دہشتگردی وغیرہ پر بات کرنے کی اجازت ہی نہیں۔ قائمہ کمیٹیوں سے نکلنے پر عمران خان سے سخت نالاں ہیں۔ دو اڑھائی سو اراکین مختلف اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں کیا کبھی کسی ایک نے بھی اعلان کیا کہ عمران خان سے ہونے والی اس بدسلوکی پر میں استعفی دیتا ہوں؟ نہیں ! یعنی دوسری رائے کے مطابق یہ لوگ کچھ نیا نہیں کررہے اور انکی اسی مصلحت کوشی کے سبب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ اب الٹا یہ نئے صوبوں اور آنے والی آئینی ترمیم کے لیے فوج کا حمایت کا جواز تراشنے کے لیے یہ سب کررہے ہیں۔
اب آپ فیصلہ کرلیں آپ کو کونسی رائے پسند ہے۔
اس وقت تو مجھے بھی لگا - کہ شاید غصے میں کہہ دیا مگر گزشتہ چالیس ماہ کے واقعات نے بارہا اس تلخ حقیقت کو آشکار کیا - یہ صرف جھوٹ بولتے ہیں! خدا کی ایسی لعنت ہے کہ سچ بول ہی نہیں سکتے! جب آپ کو لگے کہ کوئی سینیر افسر سچ بول رہا ہے: ہمیشہ رول نمر:۱ چیک کریں: یہ ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں
The rights of political prisoners are universal, beyond Geography Government or political affiliation. Be it in India ,Pakistan or anywhere in the world, those incarcerated must be treated with dignity and humanity, with access to proper medical care, family and legal counsel, and due process.
Court orders must be respected and rule of law upheld. Political differences can never justify denying a prisoner his or her fundamental rights.
https://t.co/U2iNA8nMdG
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
سہیل آفریدی کبھی کونسلر نہ بنتا ، سلمان اکرم راجہ کینٹ بار کا سیکرٹری جنرل نہ بنتا ، بیرسٹر گوہر یونین کونسل کا چئیرمین نہ بنتا ، محمود اچکزئی کی زندگی کا سب سے بڑا عہدہ عمران خان کے مرہون منت ہے ۔ خدا کے لیے ہمارے اوپر اپنے اوپر رحم کرو۔ کچھ کر نہیں سکتے تو نظام کو کندھے دینا بند کردو۔ گھر چلے جاؤ۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، میں صدق دل سے نواز شریف کی صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ انہیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔
اُس کے دور میں اِن کی بیماری پر ضمانت تک کی مخالفت نہیں ہوئی، لندن تک جانے دیا، اِن کے دور میں اُس کا قیدی کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اسلام آباد کے اسپتال سے علاج بھی اِن کو قبول نہیں لیکن ہمارے دوستوں کی ضد ہے کہ سیاست میں رواداری کے سارے باب آل شریف سے منسوب کیے جائیں، بس کرو
The Pakistani Law Minister’s claim that the law does not allow former PM Imran Khan to be shifted to a private hospital is utterly absurd and shameful.
Mr. Law Minister, when the court allowed Nawaz Sharif to leave Pakistan for the fake platelets treatment in London, was there a Pakistani government hospital waiting for him there? Of course not.
If treatment in a private hospital is “against the law,” then how was Nawaz Sharif’s treatment in London legally permissible? And if the law allowed it then, why does the same law suddenly prohibit Imran Khan from being treated at a private hospital in Islamabad?
This is not about the law. It is about a blatant double standard and political victimization.
And coming from someone who spent his career invoking human rights and the rule of law to advance his legal practice, this is particularly disgraceful. What a shameful contradiction.
افسوسناک صورتحال۔ عاصم منیر تو عمران خان کی جان کا دشمن ہے یہ سب کو پتہ ہے خان صاحب یہ بات بار بار بتا چکے۔ لیکن ہم بھی بھرپور کوشش کر رہیں یہ ثابت کرنے میں کہ خان صاحب لوہے کے بنے ہوئے ہیں۔ نہ گرمی لگتی ہے۔ نہ سردی اور نہ کوئی بیماری ہو سکتی ہے۔ ہم denial میں ہیں اور وہ خان ل پر حملہ آور۔
خدا خان کی حفاظت فرمائے۔ دشمن کم ظرف اور دوست نادان۔