“میں پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک بھر میں جاری افسوسناک سیلابی صورتحال میں ریسکیو اینڈ ریلیف مہم میں ہمیشہ کی طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیں- تحریک انصاف بھی سیلاب زدگان کے لیے بلاتفریق اپنا کردار ادا کرے۔
میں ہمیشہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان سے آنے والے نقصانات کے حوالے سے شعور اجاگر کرتا رہا ہوں- ہم نے پہلے خیبر پختونخوا میں”بلین ٹری منصوبہ” شروع کروایا اور وفاقی حکومت میں آ کر “ٹین بلین ٹری منصوبہ” شروع کروایا- اس کے ساتھ متعدد چھوٹے، درمیانے اور بڑے درجے کے ڈیمز اور نیشنل پارکس سمیت ایسے اہم ماحولیاتی حفاظت کے منصوبے شروع کروائے جو ماحولیاتی تباہی میں کمی کا باعث بنے- درخت ہی ماحولیات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ ایسے منصوبوں پر تیزی سے کام کرنا قومی ترجیح ہونی چاہیے-
افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان پر دل شدید رنجیدہ ہے۔ ہم مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مجھے افغانیوں کے پاکستان سے زبردستی نکالے جانے پر بھی شدید تحفظات اور افسوس ہے۔
خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشن فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔ علی امین گنڈا پور سمیت صوبائی حکومت کو اس معاملے پر بھرپور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ پہلے ہی وہ علاقے سیلاب کی تباہی جھیل رہے ہیں ان حالات میں آپریشن یا ڈرون حملے اور اپنے علاقوں سے بے دخلی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
میری ہدایات کی روشنی میں تحریک انصاف کا ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ کاغذات نامزدگی واپس لینے والے امیدواران بھی داد کے مستحق ہیں۔ جن ارکان نے اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی دیا ہے وہ بھی قابل تعریف ہیں۔ ان کو یہ بھی ہدایت کرتا ہوں اگر ان کے زیر استعمال کوئی بھی گاڑی یا مراعات ہیں تو اسے فوری واپس کریں۔ پشاور جلسے کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ستمبر میں ہی سیلاب کی صورتحال دیکھ کر مشاورت سے کیا جائے۔
تین سال ظلم و جبر سہنے اور حق پر ہونے کے باوجود میں نے ملکی مفاد میں مذاکرات کی بات کی مگر مجھ سمیت میرے خاندان سے سیاسی انتقام کی انتہا کر دی گئی ، ہمارے لوگوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں اور پارلیمان میں ہمارے اپوزیشن لیڈرز تک کو نا اہل کر دیا گیا اس کے بعد مذاکرات کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
یہ مجھ سمیت میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید کر دیں میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور نہ ہی ان کے آگے جھکوں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو (2 ستمبر، 2025)
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کو 5 اگست کے بعد، 14 اگست کو بھی ملک بھر میں نکلنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ہوئی گرفتاریاں ہوں یا 9 مئی فالس فلیگ پر کینگرو کورٹس کی غیرمنصفانہ سزائیں، یہ فسطائیت ہے مگر اس سب کے باوجود آپ نے کسی صورت حوصلہ نہیں ہارنا۔ ظلم و بربریت کے اس طوفان کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ میں خود اس جیل کی کال کوٹھڑی میں قید رہ کر بھی اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، اور جب تک اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروا لیتا، اسی طرح ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔
مجھ پر ایک بار پھر مکمل طور پر قید تنہائی نافذ کر دی گئی ہے۔ اہل خانہ اور وکلا سے بھی ملاقات بند کروا دی گئی ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا اور حالاتِ حاضرہ سے بے خبر رکھنے کے لئے ہر ذریعہ معلومات، چاہے وہ ٹی وی ہو یا اخبار، مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہی غیرانسانی سلوک بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے-ہماری ملاقات بھی بند کروا دی جاتی ہے- میرے اہل خانہ کی طرف سے بھیجی گئی درجنوں کتابوں میں سے گزشتہ دو ماہ میں صرف چار کتابیں فراہم کی گئیں، باقی سب ضبط کر لی گئیں۔ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی بھی طویل عرصے سے بند ہے تاکہ صحت کا میرا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا جائے۔
ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں! اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا-
ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے- اس مشکل وقت میں تمام قوم کو بڑھ چڑھ کر ریسکیو اینڈ ریلیف مہم کا حصہ بننا چاہیے-“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کے دوران پیغام (19-08-2025)
The US President threatens us. With his absurd rhetoric, he demands that the Iranian people surrender to him.
They should make threats against those who are afraid of being threatened. The Iranian nation isn’t frightened by such threats.
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک ہفتہ قید تنہائی میں رکھنے کے بعد اہل خانہ سے کروائی گئی ملاقات میں گفتگو
“عالمی حالات کی وجہ سے میں نے اپنی پارٹی کو تحریک دو ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت کی ہے- موجودہ عالمی حالات کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے بلکہ آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کا بجٹ تو پیش کرنا ہی تھا- بجٹ پاس کرنے سے پہلے مشاورت کے لیے علی امین، عمر ایوب، مزمل اسلم، تیمور جھگڑا اور شبلی فراز مجھے بریفنگ دیں گے تب ہی بجٹ پاس ہو گا-
وفاقی بجٹ مکمل طور پر اشرافیہ کا بجٹ ہے- جن کے اثاثے باہر ہیں ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- اس بجٹ کا سارا بوجھ عام عوام، تنخواہ دار طبقے اور کسان پر پڑے گا۔ صرف نواز شریف اور زرداری کے اثاثے باہر نہیں بلکہ انکے وزراء کے بھی اثاثے باہر ہیں-
وفاقی بجٹ میں ان لوگوں پر مزید ٹیکس لگا دیا گیا ہے جو ایمانداری سے ٹیکس دے رہے ہیں اور جو ٹیکس چوری کر رہے ہیں ان کو مزید چھوٹ دے دی ہے۔
خبروں کے مطابق 33 لاکھ لوگ پچھلے چند سالوں میں ملک چھوڑ کر گئے ہیں، ان میں سے بیشتر اپنی کوئی مالیت اور اثاثے ساتھ لے کر گئے ہوں گے، یہ صرف برین ڈرین نہیں ہے بلکہ ملکی پیسہ بھی باہر جا رہا ہے کیونکہ یہاں کسی کو تحفظ فراہم نہیں ہے۔
جس کے پاس تین سال پہلے 50 ہزار روپے تھے آج اس کی حیثیت بمشکل 20 ہزار ہے، یہ 60 فیصد مہنگائی ہے۔
کورونا جیسی عالمی وبا اور عالمی معاشی بحران میں ہمارے معاشی اعداد و شمار دیکھیں اور آج دیکھیں- زمین آسمان کا فرق ہے کیونکہ ہماری ساری پالیسز پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے تھیں-
جب “رول آف لاء” نہ رہے تو جمہوریت ختم ہو جاتی ہے، ناانصافی مزید بڑھتی ہے جس کے باعث دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس سے معیشت مزید نیچے جاتی ہے اور لوگوں میں مایوسی مزید پھیلتی ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی گفتگو (۲۷ مئی ۲۰۲۵)
“جیل قوانین کے تحت میری اہلیہ بشریٰ بیگم سے ہفتے میں 30 منٹ کی ایک ملاقات طے ہے لیکن وہ بھی کئی روز سے نہیں کروائی جا رہی۔ آج بھی شیڈول کے مطابق ملاقات تھی جو نہیں کروائی گئی۔ بشریٰ بیگم کو 13 ماہ سے صرف مجھے اذیت دینے کے لیے قید میں رکھا گیا ہے حالانکہ ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوسکا۔
یہ کچھ بھی کر لیں میں ان کی فرعونیت کے سامنے نہ جھکوں گا نہ ہی کوئی ڈیل کروں گا۔
میری سلمان اکرم راجہ کے لیے خصوصی ہدایت ہے کہ ہائی کورٹ میں جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی جائے-
آپ تمام لوگ تیار رہیں، جلد ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔”
Former Prime Minister Imran Khan, in conversation with lawyers, media representatives, and party workers during trial proceedings in a makeshift courtroom inside Adiala Jail, Rawalpindi - May 26, 2025
"I am prepared to spend my entire life behind bars, but I will never bow down to tyranny and oppression.
The cornerstone of my movement is the rule of law, and through it, we will abolish the law of the jungle.
Peaceful protest is the only viable path when all doors are closed to a political party — when it is subjected to oppression, and the judiciary is no longer independent.
I instruct my party, its workers, and supporters to prepare for a decisive nationwide movement. This time, the call will not be limited to Islamabad—it will echo across all of Pakistan.
To every member of the party, I say this: none of you are here because of your ‘electability’. You were elected on the strength of your ideology. I am fully aware of who is playing both sides. Anyone who does not follow party directives will have no place in this party. When given the opportunity, I will ensure internal party elections are held. Elections within the party are imperative in order to ensure grassroots workers have the opportunity to climb up the ranks.
The May 9th (2023) case can be concluded in no more than half an hour. Those responsible are the ones who stole the CCTV footage. If they truly believe Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) was behind the events of May 9th, they should release the footage to the public.
It is Shehbaz Sharif who should undergo a polygraph test. He should be asked whether he came to power legitimately, through Form 45, or through Form 47 fraud.
I am a former Prime Minister of Pakistan, entitled to certain facilities in prison, yet I have not even been granted the basic rights afforded to ordinary inmates. For the past 22 months, I have been confined in a cell that is no less than a death-row cell. Meanwhile, criminals were housed in VVIP cells that are more akin to hotel suites.
The law of the jungle is prevalent here — court orders are openly defied upon instructions from a Colonel. I am not allowed to speak with my children, and my sisters are denied visitation rights. Even my books are restricted — none have been delivered to me for two and a half months, except the ones I have already read. I am the head of a political party, yet my own party members are barred from meeting me, despite court orders permitting such meetings.
They have stooped so low as to sentence my wife on baseless and unproven charges, merely to inflict pain on me. What could be more disgraceful? I am allowed only 30 minutes per week to meet my family or legal counsel. The false accusation against my wife was merely of facilitation, and even that remains unproven.
I call upon all members of the opposition to be present at tomorrow’s protest outside the High Court. The judiciary has been rendered completely paralyzed and ineffective since the 26th (constitutional) amendment. Despite repeated assurances, the Chief Justice of the Islamabad High Court has failed to even list our cases for a hearing.
The Supreme Court has expressed a lack of faith in its own judicial system by endorsing military trials of civilians.
Our forces — especially the Pakistan Air Force — responded remarkably well to India's aggression, and the entire nation supported them. There was joy and celebrations for Pakistan’s response even in the prison I am incarcerated in.”
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات