اطلاع یہ ہے کہ عمران خان کے فرزند والد کی رہائی کے لئے فعال ہیں۔
اور ان کی ملاقات ایک بہت طاقتور بین الاقوامی شخصیت سے ہوئی ہے۔
اگر شخصیت کا نام بتادوں تو نوازشریف کے پلیٹلیٹس فورا خطرناک حد تک گر جائیں گے۔
عمران خان پارٹی چئیرمین ہیں اور رہیں گے ، قانونی طور پر جس حکم پر ان کا راستہ روکا جا سکتا ہے وہ توشہ خانہ کیس میں سزا کا حکم ہے، اس کیس میں سزا معطل ہو چکی ہے جبکہ حکم کو معطل کرنے کی درخواست 30 نومبر کو سماعت کے لیے مقررہے ، اس دن تمام جواب مل جائیں گے
چیئرمین عمران خان کی انتخابات سے دستبرداری یا کسی اور رہنما کی نامزدگی کا ہرگز کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا
پارٹی انتخابات کے انعقاد، تاریخ و طریقۂ کار اور امیدواران کے تعین سمیت تمام اہم معاملات پر جوں ہی قیادت کسی نتیجے پر پہنچے گی اسے باضابطہ طور پر آفیشل فورمز سےجاری کیاجائےگا
میں نے @ptiofficial کے جاری کردہ تضاد کا جائزہ لیا ہے۔
میں نے انٹرا پارٹی الیکشن کے بارے میں اپنی میڈیا ٹاک میں جو کچھ بھی کہا ہے وہ درست بیان ہے۔ فیصلے چیئرمین پی ٹی آئی نے سینیٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر عمیر نیازی اور میری موجودگی میں کئے۔ میں یہ سمجھنے میں ناکام ہوں کہ تضاد کے پیچھے کون ہے اور گمراہ کن بیان کیوں جاری کیا گیا۔ میڈیا کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگ�� آپ برا نہ مانیں تو مذکورہ بالا افراد سے میرے بیان کی تصدیق کریں۔
پی ٹی آئی میں انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالے سےجھوٹی خبریں چلائی جا رہی ہیں
پروپیگنڈہ سے محتاط رہیں
کسی بھی بات پر یقین کرنے سے پہلے یہ چیک کر لیں کہ کون یہ خبریں دے رہا ہے
بریکنگ: شیر افضل مروت کے عمران خان کی پارٹی چئیرمین شپ سے دستبرداری سے متعلق بیان کی تردید آ رہی ہے۔ تحریک انصاف اس بیان سے لا تعلقی کا اظہار کر رہی ہے۔
آج صنم جاوید کو پولیس 2 گھنٹے زمان پارک لے کر گھومتی رہی تفتیشی افسر 14مارچ کو ہونے والے واقعات کے ثبوت اب اکٹھے کر رہے ہیں صنم کے یوٹیوب انٹرویو جس میں وہ کہہ رہی ہے کہ ہمارےنہتے لوگ پولیس کی شیلنگ کیوجہ سے زخمی ہوئے اسے توڑ مڑور کر ریاست کےخلاف اشتعال قرار دینا افسوسناک ہے