عمران خان کو باقاعدہ ایک مسنگ پرسن بنا دیا گیا ہے،
کوئی نہیں جانتا اس وقت عمران خان کہاں ہیں کس حال میں ہیں،
تحریک انصاف کی قیادت خاموش رہ کر ظالم کے ظلم میں برابر کی شراکت دار کیوں بن رہی ہے؟
مزمل اسلم صاحب آپ اردلی شہباز شریف کے جس قدر قصیدے پڑھ رہے ہیں اس ے بہتر تھا استعفی دے کر ن لیگ جوائن کر لیتے ۔
کم از کم شہباز گل اور شہزاد اکبر خان کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے آپ تو سیدھا خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ۔
@MuzzammilAslam3 حرام زادو ایسے ہی تم سب کمپرومائزڈ جرنیلی ٹٹو کو یہ کمینے ہڈی ڈال کر منہ بند رکھنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں تا کہ تم سب خان صاحب کی رہائی کے لئے آواز نہ اٹھاؤ ۔۔۔
لعنت تم سب بکاؤ قیادت پر 🖐🏿
@SohailAfridiISF
𝙒𝙝𝙚𝙧𝙚 𝙞𝙨 𝙄𝙢𝙧𝙖𝙣 𝙆𝙝𝙖𝙣?
When a leader with millions of supporters can be effectively disappeared from public view, denied transparency and cut off from the world, silence becomes complicity.
#WhereIsImranKhan?
#EndKhansIsolationNow
محمود اچکزئی سے تحریک انصاف قیادت نے درخواست کی ہے کہ 10ہزار لوگوں کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کریں، علیمہ خان کا تجویز کی سپورٹ۔۔
سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو ان سے کیوں اجازت چاہیے؟
محمود اچکزئی 8 ماہ سے اپوزیشن لیڈر ہیں اب تک انہوں نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ عوام آئے ، کیوں؟
PTI leadership has requested opposition leader Mehmood Khan Achakzai that, if there is a time frame on the gathering outside Adiala Jail on Tuesday, they can mobilize 10,000 people. We welcome this proposal and have accepted their request.
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
A strong gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, Islamabad, in the presence of his family and personal physician.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.
علیمہ آپا کا اہم ٹویٹ آیا ہے جس میں لکھا ہے......
"جون کا مہینہ پی ٹی آئی کے لیے واحد موقع ہے کہ اتنا دباؤ پیدا کیا جائے جس کے ذریعے عمران خان کی تنہائی ختم ہو سکے اور انہیں مناسب طبی علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جا سکے جہاں ان کے اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں ان کا علاج ممکن ہو سکے..... "
2 دسمبر کو عظمیٰ آپا کی عمران خان سے آخری ملاقات ہوئی تھی اور آج 194 دن مکمل ہو چکے ہیں
ان کی کسی بہن سے ملاقات نہیں کروائی گئی......
چار نومبر 2025 سے 14 جون 2026 تک 222 دنوں میں صرف ایک ملاقات کروائی گئی.....
جبکہ باقی عرصہ انہیں مکمل تنہائی اور آئسولیشن میں رکھا گیا
عظمیٰ آپا نے آخری ملاقات کے بعد بتایا تھا کہ عمران خان پہلے سے کمزور لگ رہے تھے۔۔۔۔
تو سوچیں کہ آج 194 دن کی مکمل تنہائی کے بعد ان پر کتنی سختیاں کی گئی ہوں گی۔۔۔۔۔
عمران خان کے آخری پیغام کے مطابق ان کی 85 فیصد نظر جا چکی ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ
اس وقت کہاں ہیں؟
کس حالت میں ہیں؟
ان کی دوسری آنکھ کی کیا کیفیت ہے؟
اور ان کی طبیعت کیسی ہے؟
16 جون سے محرم شروع ہو رہاہے۔۔۔
پھر 26 جون تک کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہوگی۔۔۔
اس کے بعد صرف چند دن بچیں گے اور یکم جولائی سے 31 اگست تک عدالتوں کی چھٹیاں ہوں گی۔۔۔
جس کا مطلب ہے کہ عمران خان کے کیسز اور رہائی مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔۔۔۔
یہ آخری موقع ہے۔۔۔۔۔
جون ختم ہو رہا ہے
کچھ کر لیں
عمران خان کی زندگی خطرے میں ہے
ہمیں نہیں معلوم وہ کس حالت میں ہیں؟
نظریہ بچانا ہے
خان بچانا ہے
یا
حکومت بچانی ہے
اگر خان بچانا ہے
تو حکومت قربان کرنی ہوگی.....
شکریہ
اہم ترین 🚨
اوورسیز پاکستانیوں نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ Where is Imran Khan اس ویڈیو کو ہر طرف پھیلا دیں
#EndKhansIsolationNow
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.
پاکستان تحریک انصاف کے بڑے بڑے عہدے دار سہیل آفریدی صاحب اور سلمان اکرم راجہ صاحب کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ان کی جتنی سیاسی وقعت اور عوامی پذیرائی ہے وہ عمران خان کی مرہون منت ہے
بار بار عمران خان مزاحمت کا پیغام دیتے ہیں مگر یہ مصالحت کی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں
یہ آخری موقع ہے
جب سے عمران خان کے حالات دشوار ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر آج تک یہ تمام افراد اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات کے مطابق چلتے رہے ہیں
اگر اب بھی انہیں شعور نہ آیا اور حالات کی نزاکت کا ادراک نہ کیا تو پھر بہت دیر ہو جائے گی اور پشیمانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا