ان تمام لوگوں کا اور ۴ سال میں جتنے لوگ جیل گئے، شہید ہوئے، زخمی ہوئے، ملیٹیری قید میں گئے، جن کے گھر والے ہراساں ہوئے، جن کے کاروبار تباہ ہوئے، جن کی نوکریاں گئی، جن کو دھمکایا گیا، جو جلا وطن ہوئے، اور جو ہراساں ہوئے مگر ہمت نہیں ہاری اور ڈٹے رہے، ان کو دونوں ہاتھوں کا salute ہے!
کینیڈا کی وزیرِ خارجہ محسن نقوی اور دیگر پاکستانیوں سےملی تو میں نے پارلیمنٹ میں مذمتی پٹیشن لانچ کی ہے کہ یہ لوگ کینیڈین پاکستانیوں کی فیملیز کو تنگ کر رہے ہیں۔ مجھے آپ سب کی مدد کی ضرورت ہےاس پہ دستخط کرنے کے لیئے۔
یاد رہے کینیڈا میں ۳ لاکھ پاکستانی ہیں
https://t.co/aNww4dwU00
We could eliminate $7 billion in medical debt with the $70 million they spent to beat me in the primary. Those same corporations and special interests are trying to buy the seat for Mike Rogers now.
In November we teach them once and for all: Michigan is not for sale.
“Do You Support Israel’s Right to Exist?” Mehdi Hasan FIRES BACK
Mehdi Hasan: I've been debating hardcore Zionists, Israeli supporters of Israel, for years. And the conversation always comes back to one talking point:
“Do you, or do you not support Israel’s right to exist?”
If you don't, you're an extremist, you're an anti-Semite, you want to wipe Israel and millions of Israeli Jews off the map.
But you don't have to concede on this point. It's a bullshit argument.
Number one: Right to exist where?
Israel is the only country in the world that refuses to define its borders.
So if you want me to recognize Israel's right to exist, does that extend into Gaza, the West Bank, the Golan Heights, East Jerusalem all considered illegally occupied territory under international law?
So, right to exist where?
Number two: What is this right to exist? Where does it come from?
States don't have a right to exist. People, individuals have a right to exist. Human beings have that right. Not states, not countries.
The USSR broke up into Russia and 14 other states. Yugoslavia broke up. Czechoslovakia split into Slovakia and the Czech Republic.
What happened to their “right to exist”?
People have rights, not states.
And number three: If there is a right to exist, does Palestine have a right to exist?
Israel exists. It's a country with sovereignty, it's on the map.
The idea that in a world where Israel is genociding the Palestinians in Gaza, ethnically cleansing them in the West Bank, and blocking their legal right to return the idea that Israel's right to exist is the one we should be concerned about, and not Palestine's, is both ridiculous and, let's be honest, racist.
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے قتل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک کمانڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو پاکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار کر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
🚨اہم ترین یقین دہانی اور اعلان
عمران خان کی فیملی کی کل عمران خان سے ملاقات کروا دیں " ہم پی ٹی آئی لیڈرشپ اور فیملی گارنٹی دیتے ہیں کہ وہ باہر کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے "
اگر ملاقات نا کروائی گئی یہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو پھر جمعرات کو رات 10 بجے پاکستان کا ہر چوک D chowk بنا دیا جائے گا، وزیر اعلی سہیل آفریدی
عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبریں موصول ہونے کے بعد بھی ایسے کون سے مستند زرائع ہیں کہ بغیر کسی ملاقات کے بھی آپ یقین کر بیٹھے ہیں؟ عمران خان کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ انہی کی تحویل میں ہیں۔ اس سے قبل عمران خان پر جان لیوا حملہ ہو چکا ہے کئی منصوبے بن چکے آنکھ ضائع ہوچکی۔ عمران خان نے واضح طور پر اپنے ڈاکٹرز تک رسائی کے لیے ہر فورم استعمال کرنے اور آواز اٹھانے کی بات کی تھی۔ خدارا سب مل کر ہر فورم کا استعمال کریں۔بشری بی بی کی بھی آنکھ کا وہی ایشو بنا اور اب دوسری انکھ بھی متاثر ہو رہی ہے کیا یہ سب اتفاق ہے؟
چند ہفتے قبل آپ کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے لیے حالات ایسے بنائے جائیں گے کہ آپ نہ امن کے لیے آواز اٹھا سکیں گے نہ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلا پائیں گے، اس لیے جلدی کیجئے۔ اگست کے آغاز سے متعدد واقعات ان خدشات کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ پارٹی سے گزارش ہے کہ اتحادیوں سے بات کرکے ستمبر کی بجائےاسی مہینے قومی جرگہ بلائے؛ ہمارے پاس وقت کم ہے ہر گزرتا دن مزید جنازوں کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ بھی گزارش ہے کہ امن تحریک کے ساتھیوں، نام نہاد دہشت گردی میں شہید اور زخمیوں،کشمیر کے مظلوموں، بلوچستان کی خواتین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی جرگے میں بلائیں۔ قومی جرگے کو لسانی بنیادوں پر محدود کرنے کے بجائے اس کو پاکستانی قوم کے ہر مظلوم محروم اور پسے ہوئے طبقے کا جرگہ بنا کر اتحاد کا پیغام دیں تاکہ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔
پولیس سے آج پھر گزارش ہے کہ گزشتہ کئی واقعات کی تفصیل قوم کے سامنے رکھیں ورنہ یونہی آپ کے بھی جنازے اٹھتے رہیں گے۔قوم کو اگاہ کرو کہ کیسے انکو لایا گیا،کیسے آپ کو اکیلے چھوڑا گیا، کیوں آپ کے جوان ایسی بے بسی میں شہید ہوئے پورا واقعہ سامنے رکھ دو اس میں آپ کی بھی بہتری ہے اور قوم بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی یہ گارنٹی میں اپ کو دیتا ہوں، آپ اس ڈرٹی گیم کو ایکسپوز کریں۔ پولیس والے شہید ہوئے تو سی ٹی ڈی کو فوج نے یہاں تک کہا کہ آپ فوج سے اپیل کریں کہ پولیس ناکام ہوگئی ہے اور پختونخواہ حکومت آرٹیکل ۲۴۵ کے تحت فوج سے مدد مانگ لے۔ کمال نہیں ہوگیا؟
انشاءاللہ امن پاسون میں اب تیزی آئے گی اور یہ سلسلہ صرف سوات تک محدود نہیں رہے گا ۔دہشت گردی کی نئی لہر کی یہ کوششیں ۲۰۲۲ سے بار بار ہوئیں لیکن ہماری قوم نے اسے خود ناکام بنایا تھا اور حالیہ کوشش کو بھی انشاءاللہ عوامی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔
آخری اور اہم ترین گزارش اس کو عوام تک پہنچانے میں میری مدد کریں میں بار بار اپنے حالیہ پیغامات میں یہ دہرا رہا ہوں لیکن شاید پاکستان کے باقی علاقوں کو اس تباہی کی سمجھ نہیں۔ فوج عوام کو لشکر بنانے کے لیے دباو دے رہی ہے۔ پچھلی مرتبہ آپریشن کے وقت فوج نے اپنی نگرانی میں امن کمیٹیز بنائیں، بہت سارے علاقوں میں امن کمیٹی کے اہم ترین لوگوں نے فوجی چھتری تلے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظلم کیا۔ بہت سارے بے گناہ فوج کی تحویل میں دئیے گئے جن میں متعدد کی اموات ہوگئیں، کسی کا گھر توڑا گیا کسی کو قتل کروایا گیا۔ فوج چلی گئی اور ان لوگوں کی ذاتی دشمنیاں بن گئیں گزشتہ کچھ عرصے سے خصوصاً حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے وہی امن کمیٹی کے لوگ ہیں۔اب سوچیں کہ امن کمیٹیز کے اتنے عرصے بعد بھی دشمنیاں چلی آرہی ہیں تو فوج جب پوری قوم کو بندوق اٹھانے کا کہہ کر لشکر بنانے کا حکم دے رہی ہے تو اس کا کیا اثر ہوگا؟ پھر لشکر بنا کر وہ لڑے بھی کس سے لانے والوں سے یا آنے والوں سے؟ پھر ریاست کی پالیسی تبدیل ہوگی تو ہر شہری جو لشکر کا حصہ بن چکا ہوگا، یہ دشمنی ذاتی نہیں قوموں اور نسلوں تک جائے گی۔ اس لیے میری قوم سے درخواست ہے کہ خدارہ ان کی گیم کو ایکسپوز کریں۔ اس سے پہلے کہ معاملات مکمل طور پر ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں اور ہماری اگلی ایک دہائ بھی انہی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتے گزرے۔
🚨 عمران خان کو ڈیل آفر ہو تو کیا لے لیں گے ؟ اینکر کا سوال
عمران خان دماغی طور پر بڑے مشکل انسان ہیں عمران خان کی صحت کا حد تک ڈاؤن ہے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ عمران خان باقی سیاسی قیدیوں کو جیل میں چھوڑ کر کبھی باہر نہیں آئیں گے اور کوئی بھی ڈیل نہیں کریں گے۔ قاسم خان
El-Sayed on Islamophobia: "That's the only play they got. They're gonna point at me, they're gonna point at my name, like, 'Wow, he's different.' That's the best you got? You can't actually talk about what you want to do? My name is not raising your gas prices. My name is now taking us to war ... this is the best place in the world to be Abdul."
For three years, Pakistan’s authorities have systematically denied Imran Khan the right to a fair trial, subjected him to prolonged solitary confinement, and limited his access to medical care and visitation rights.
He has not been allowed to meet his family for more than eight months and his vision has reportedly deteriorated significantly. Both he and his wife, Bushra Bibi Khan, have now been denied regular access to legal counsel since December 2025.
Amnesty International urges the Pakistani authorities to unconditionally restore Imran Khan and Bushra Bibi Khan’s right to see their family and lawyers. Both must be given access to adequate medical care and their solitary confinement, which is unlawful, should end immediately.
Ahead of planned gatherings by Imran Khan’s family, party and supporters to mark the anniversary, the authorities must facilitate the right to peaceful protest and ensure there is no repeat of the unlawful and arbitrary crackdowns on protesters so frequently witnessed in the country and against the Pakistan Tehreek-e-Insaf.
ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پروڈکشن کمپنی بند کر دیں نوجوانوں نے جھوٹی مطالعہ پاکستان مسترد کر دی ہے
جین ذی نے نئے ملی نغمے لکھنے شروع کر دئیے ہیں❤️🩹
آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس میں قیمت کوئی نہیں ہے تیری میری جان کی ۔
پانچ مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیں ہماری اپنے والد سے بات ہوئے۔
انکی آنکھ کا علاج آنکھ کی تکلف کے تین مہینے بعد شروع کروایا گیا
اور جو علاج کروا رہے ہیں وہ بھی ٹھیک نہیں کروایا جا رہا۔
قاسم خان