اٹھائیس دنوں سے ریاستی اداریں گنگے اور بہرے نظر آرہے ہیں
آج دھرنے کو عارضی طور پر ختم کیا گیا اور آئندہ لائے کا اعلان سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جائیگا
ریاستی جبر کیخلاف ُہم بلوچ قوم سے دستبردارانہ اپیل کرتے ہیں اپنی آواز بلند کریں خدیجہ بلوچ تمام جبری لاپتا لوگوں کےلے آواز اٹھائیں
خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کو آج چھبیسواں دن ہے لیکن ان کی باحفاظت رہائی کےلئے انتظامیہ کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی جارہی یہ عمل سماجی روایتوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کے بلکل متضاد ہے۰
ہم بلوچ قوم سے دستبردارانہ اپیل کرتے ہیں کہ خدیجہ بلوچ کی باحفاظت بازیابی کےلئے آواز اٹھائیں۰
بارہواں دن بھی بی ایم سی کے سامنے دھرنا جاری ہے اور خدیجہ بلوچ کو اب تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ ریاستی اداروں کی خاموشی اس کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔ لیکن یہ ریاست کی بلوچ شناخت سے نفرت اور بلوچ قوم کی آواز کو خوف کے ذریعے دبانے کی کوشش ہے،
ایک نرسنگ طالبہ کو لاپتہ رکھنا اور اسے غیر قانونی تحویل میں رکھ کر لواحقین کو مسلسل اذیت میں مبتلا کرنا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
خدیجہ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
#ReleaseKhadijaBaloch#SaveBalochWomen
نو دن گزر گئے، خدیجہ بلوچ تاحال بازیاب نہیں ہوئیں۔
لواحقین مسلسل دھرنے پر ہیں مگر کوئی پیش رفت نہیں۔
انتظامیہ کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
احتجاج میں شدت، تربت سی پیک روڈ بند کر دی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ خدیجہ کی بازیابی تک احتجاج جاری رہے گا۔
ننھی سی پری عائشہ بلوچ جس کی عمر کھیلنےکی ہے اس عمر میں بھی بلوچ بچیوں کے خوشیوں کو لاپتہ کرتے ہیں آج آٹھویں روز عائشہ اپنی نانی کے ساتھ انکی حوصلہ اور ہمت بن کر مزاحمتی جوزہ کے ساتھ اپنی ماں خدیجہ بلوچ کی بازیابی کی راہ دیکھ رہی ہے
#ReleaseKhadijaBaloch#SaveBalochWomen
Kech, Turbat | 29 April 2026
Today, the family of Kadija Baloch, daughter of Peer Jan, blocked the CPEC road in the Hironk area, demanding her immediate release.
The family urges authorities to either release her or present her before a court in accordance with due process.
We call on human rights organizations to take notice of this case and the ongoing issue of enforced disappearances in Balochistan.
#StopBalochGenocide
#EndEnforcedDisappearances
خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہےآج خدیجہ بلوچ کو قید میں ساتھ دن مکمل ہوگئے ہیں وہ ایک طالب علم ہے اس کے آج امتحانات بھی شروع ہو گئے ہیں
وہ پچھلے ساتھ دن سے پابند سلاسل ہے اس غیر انسانی عمل کے خلاف خدیجہ کے خاندان والے آج ساتویں دن بھی سراپا احتجاج ہیں ۔
خدیجہ بلوچ کو بی ایم سی گرلز ہاسٹل سے جبری طور لاپتہ کیا گیا آج آٹھویں روز خدیجہ بلوچ کی فیملی کی جانب سے انکی با حفاظت بازیابی کیلئے دھرنا جا ری رہا - حکومت وقت بجائے انکی بازیابی کے انکی فیملی اور دھرنا گاہ میں بیٹھے خواتین کو مختلف طریقوں سے ہرانسا کیا جارہاہے -
خدیجہ بلوچ کی باحفاظت بازیابی کے لیے جاری جدوجہد آج آٹھواں روز میں داخل ہو چکی ہے، مگر تاحال انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی...--
خدیجہ بلوچ کی غیر قانونی حراست کیخلاف آج ان کی فیمیلی کیطرف سے 4 بجے کو ایک پریس کانفرنس اور ریلی کا انعقاد کیا جاۓ گا۔
ہم بلچ قوم سے دستبردارانہ اپیل کرتے ہیں کہ بی ایم سی آئیں اور انکا ساتھ دیں ۔