خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے
اُس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاؤ یارو
ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے
جس طرح آپ نے بیمار سے رخصت لی ہے
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے
خالد ندیم شانی
پروفیسر اقبال عظیم کا لکھا ہوا مشہور نعتیہ کلام 💞 ﷺ💞
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر
ہم بھی بےبس نہیں ، سہارا نہیں
خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے
راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے
جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا
بندگی کا قرینہ بدل جائے گا
سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے
خود ہی آنکھوں سے سجدے ٹپک جائیں گے
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے
اور گلیوں میں قصداً بھٹک جائیں گے
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے
اے مدینے کے زائر! خدا کے لیے
داستانِ سفر مجھ کو یوں مت سنا
دل تڑپ جائے گا بات بڑھ جائے گی
میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے
نام ان کا جہاں بھی لیا جائے گا
ذکر اُن کا جہاں بھی کیا جائے گا
نور ہی نور سینوں میں بھر جائے گا
ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے
ان کی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر
کس مسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر
ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی
ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے
پروفیسر اقبال عظیم
وَأَحسَنُ مِنكَ لَم تَرَ قَطُّ عَيني
وَأَجمَلُ مِنكَ لَم تَلِدِ النِساءُ
خُلِقتَ مُبَرَّءً مِن كُلِّ عَيبٍ
كَأَنَّكَ قَد خُلِقتَ كَما تَشاءُ
آپ سب کو عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت بہت مبارک! ❤️
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
🥀🍂